ہم جمہوریت کے جتنے دعوے چاہے کریں ہمارے معاشرے سے ذات پات کا نظام ہر گز ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ ہر روز ملک کے کسی نہ کسی علاقے میں دلتوں کے زندہ جلائے جانے کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ابھی اگلے ہی دن......
کشمیر میں لاوا پک رہا ہے ۔۔۔۔!فیض احمد فیضؔ نے کہا تھا: میرا درد نغمۂ بے صدا میری ذات ذرہ بے نشاں میرے درد کو جو زباں ملے مجھے آپ اپنا نشاں ملے کشمیر کی صورتحال کو اس حوالے سے نارمل کہا جا سکتا ہے کہ وہاں اب فورسز پر پتھراؤ کے......
بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشتمجھے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اور ان کی پارٹی بی جے پی کی خاموشی پر حیرت ہو رہی ہے جو انھوں نے قومی اعزازات کے واپس کرنے پر اختیار کر رکھی ہے۔ وہ گھٹیا سیاست کے پیچ و خم میں اسقدر کھوئے ہوئے ہیں......
سونیا گاندھی اپنی ساس اندرا کے نقش قدم پر’’میں مسز اندرا گاندھی کی بہو ہوں‘‘۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے دو ہفتے قبل یہ کہا تھا لیکن مجھے اب تک ان کی بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ کالعدم نیشنل ہیرالڈ نے......
گیتا کی واپسیگونگی بہری لڑکی گیتا کا اتنی جلدی اخباری کالموں اور ٹی وی نیٹ ورکس سے غائب ہو جانا حیرت کی بات نہیں بس اس سے اس دشمنی کی گہرائی کا اظہار ہوتا ہے جس میں بھارت اور پاکستان مبتلا ہیں۔ اسلام آباد نے گیتا......
ہندو مسلم کے درمیان خلیج میں اضافہبھارت کو ایک غیر ضروری بحث میں الجھا دیا گیا ہے کہ بیف پر پابندی لگا دی جانی چاہیے یا نہیں لگانی چاہیے۔ یہ سوال ایک ایسے ملک میں پوچھنا ہی غلط ہے جہاں ہندوؤں کے جذبات گائے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جس کو......
تقسیم کے دنوں کی ایک سچی کہانییہ ایک سکھ لڑکی کی کہانی ہے جس نے دونوں ملکوں کی دیگر صدہا خواتین کی طرح تقسیم کا مہلک زخم کھایا۔ زیادہ مصیبتیں عورتوں پر ہی آئیں ان پر ہونے والے ظلم و تعدی کی کوئی انتہا نہیں۔ راولپنڈی تقسیم سے قبل......
کام نہیں تو دام نہیںتقریباً بارہ سال پہلے میں راجیہ سبھا (بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا) کا رکن تھا لیکن ایوان کے کام میں کسی نہ کسی وجہ سے رخنہ ڈال دیا جاتا تھا۔ میں نے چھ سال کی اپنی مدت کے دوران کانگریس اور بھارتیہ......