تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
’ڈاؤنڈ سینڈروم‘ کے شکار بھارتی کی حیران کن صلاحیتوں سے ڈاکٹر حیران
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 10 ذیعقدہ 1439هـ - 23 جولائی 2018م
آخری اشاعت: منگل 24 رجب 1439هـ - 10 اپریل 2018م KSA 06:34 - GMT 03:34
’ڈاؤنڈ سینڈروم‘ کے شکار بھارتی کی حیران کن صلاحیتوں سے ڈاکٹر حیران
 
العربیہ ڈاٹ نیٹ - عماد البلبیک

انسانی دماغ کے بند راستوں کو کھولنے اور بعض مخصوص ذہنی کیفیات کی جانچ کے لیے ماہرین روایتی اور جدید سائنسی طریقے اپناتے ہیں مگر بعض اوقات بڑے بڑے دماغی ماہرین بھی ذہنی عوارض کےشکار افراد کی صلاحیتوں اور ان کی کارکردگی پر حیران رہ جاتے ہیں۔ جیسا کہ بھارت کے ایک شہری کے واقعے سے پتا چلتا ہے۔

شوریا نامی اس نوجوان کو ’ڈاؤن سینڈروم‘ کا مرض لاحق ہے۔ ڈاکٹروں کے خیال میں اس مرض کے شکار مریض کسی قسم کی تخلیقی صلاحیت نہیں رکھتے اور کوئی کام بھی ڈھنگ سے نہیں کرپاتے مگر شوریا دماغی ڈس آرڈر کے علی الرغم اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرکے نہ صرف عام لوگوں بلکہ ڈاکٹروں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

شوریا نے خود کو ایک عبقری ثابت کیا ہے۔ وہ برتن سازی کے فن میں ماہر ہے۔ اس نے اپنا ایک پرائیویٹ اسٹوڈیو بھی بنا رکھا ہے اور وہ بہت سے اپنے کام خود کرتا اور گاڑی بھی چلاتا ہے، حالانکہ ایسے تمام کام ’ڈاؤنڈ سینڈروم‘ کے مریضوں کے لیے محال سمجھے جاتے ہیں۔

شوریا کی کارکردگی خلاف توقع

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ڈاؤنڈ سینڈروم کے شکار بھارتی شوریا کی ایک فوٹیج بھی موجود ہے۔ سب سے پہلے اس کے بارے میں ایک اسٹوری ’بی بی سی‘ انگریزی نے نشر کی تھی۔ شوریا کو اس کی والدہ کے ہمراہ دیکھا جاسکتا ہے۔

شوریا کی ماں نینا مھروترا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے اسے کہاتھا کہ اس کا بیٹا تو کوئی کام نہیں کرسکےگا مگر شوریا نے ہمیں اور ڈاکٹروں کو حیران کردیا۔ وہ نہ صرف خود سے بہت سے کام کرتا ہے بلکہ اس نے زندگی کو ایک چیلنج کے طورپر لیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میں ڈاکٹر کے پاس جاؤں اور اسے کہوں کہ میرا بیٹا گاڑی چلاتا ہے۔ اس کا برتن سازی کا اپنا ایک چھوٹا کار خانہ ہے۔ وہ سیر کو جاتا ہے اور وہ زندگی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔

شوریا کی ماں نے بتایا کہ جب اس کے بیٹے کی عمر انیس سال تھی تو انہیں ڈاکٹروں کی طرف سے کہا گیا کہ شوریا کچھ نہیں کرسکے گا۔ اس کے بعد ہم نے شوریا کا رنگوں اور برتنوں کی طرف میلان دیکھا۔ اسے چین، جنوبی افریقا اور تھائی لیند کے ماہر برتن سازوں نے تربیت دی۔

سنہ 2013ء میں شوریا نے اپنی ماں کےساتھ مل کر نئی دہلی کے قریب ’پانانا‘ اسٹوڈیو قائم کیا۔

نینا مھروترا کا کہنا ہے کہ جن والدین کے بچے ’ڈاؤن سینڈروم‘ کا شکار ہوں تو انہیں بچوں کی دلچسپیوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کم عمر میں کس طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ انیس سال کی عمر میں شوریا کو رنگوں اور برتنوں میں دلچپسی لیتے پایا گیا۔

نقطہ نظر

قارئین کی پسند