تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ڈی ایٹ کانفرنس، توقعات اور خدشات؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: اتوار 11 محرم 1434هـ - 25 نومبر 2012م KSA 10:04 - GMT 07:04
ڈی ایٹ کانفرنس، توقعات اور خدشات؟
پاکستان سمیت آٹھ ترقی پذیر مسلم ممالک کے بلاک ڈی ایٹ کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں اقتصادی ترقی اور جمہوریت کو لازم و ملزوم قرار دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دنیا میں اب غیر جمہوری قوتوں کی بجائے جمہوری قوتوں کی اہمیت بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ یہ ہر لحاظ سے اچھی سوچ ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کے ہوتے ہوئے یہ سوچ آگے بڑھ سکے گی۔ اس وقت عملاً پوری دنیا ایک عجیب طرح کے اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔ امریکہ اور یورپ کا بحران اپنی طرز کا ہے۔ پاکستان سمیت مختلف ترقی پذیر ممالک میں اقتصادی بحران کی نوعیت مختلف ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش ہر ملک میں اقتصادی ترقی کی ترجحات بدل رہی ہیں۔ شاید اس پس منظر میں ڈی ایٹ کانفرنس میں 2018ء تک مشترکہ تجارت 500 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم کیا گیا ہے۔ اس کے لئے پاکستان، ترکی، ایران، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا، نائیجریا اور مصر نے مشترکہ دستاویز پر دستخط کئے ہیں جن کی مجموعی آبادی ایک ارب نفوس سے زائد ہے۔ جو دنیا میں 20 فیصد سے زائد افراد کی نمائندگی کرتے ہیں اور 40 فیصد سے زائد قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ ان ممالک میں جمہوریت ہے بھی اور نہیں بھی، لیکن ہر ملک ترقی کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

پاکستان میں بھی حکومت کی طرف سے اس طرح کے عزم کا اظہار تو کیا جاتا ہے لیکن انرجی کے بحران، مس گورننس، کرپشن، امن و امان کی صورتحال وفاق اور صوبوں میں معاشی ترقی کے ایجنڈے پر مشترکہ سوچ اپنانے کی بجائے ایک دوسرے پر پوائنٹ سکورنگ سے ملکی معیشت پر منفی اثرات تو مرتب ہو رہے ہیں، وہاں عام آدمی کی زندگی بھی اجیرن ہوتی جا رہی ہے حالانکہ اگر یہ مسائل قومی جذبے اور ویژن کے ساتھ حکومت اور اپوزیشن مل بیٹھ کر طے کرنے کی حکمت عملی اپنا لیں تو اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ ڈی ایٹ نہیں پوری دنیا میں غربت کے خاتمے اور اقتصادی ترقی کے اہداف پورے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مسلم ممالک کا مضبوط اقتصادی بلاک بنانے اور مغرب پر انحصار کم کرکے اپنے درمیان ہر تجارت اور سیاحت کو فروغ دے کر تعلیم، ٹیکنالوجی اور دیگر سماجی اور فنی شعبوں میں تعاون کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس کے لئے مسلم ممالک کی اکثریت کو امریکی اور یورپی ممالک کے تسلط سے نکل کر 2013ء سے 2015 ء کے درمیان نئے مسلم اکنامک بلاک کے حوالے سے سوچنا ہو گا۔ اس لئے کہ2014ء کے بعد دنیا کے اقتصادی اور معاشی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔ جس کا آغاز امریکہ کے افغانستان سے نکلنے میں ہو گا۔ اس کے بعد اس خطہ میں اقتصادی ترقی اور افغانستان میں سرمایہ کاری کے لئے امریکہ، چین اور بھارت زیادہ سرگرم نظر آئیں گے لیکن اگر اس سے پہلے مسلم ممالک اقتصادی ترقی کے مشترکہ ایجنڈے پر عمل درآمد شروع کر دیں تو اس سے خطہ میں ایران ،ترکی، بنگلہ دیش اور پاکستان زیادہ اقتصادی فوائد حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں جمہوری سوچ کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تعاون کرنا ہو گا۔

اس وقت پاکستان کیا، ہر جگہ جمہوریت کے نام پر غیر جمہوری طریقے سے نظام چلایا جارہا ہے جس سے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے جارہے ہیں ۔اس حوالے سے پاکستان سرفہرست ہے ،بنگلہ دیش بھی ہمارے پیچھے پیچھے ہے، ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مشترکہ اقتصادی ترقی کا نیا ایجنڈا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مرتب کیا جائے۔ تمام ممالک اپنے اپنے نجی شعبہ کو دوسرے مسلم ممالک سے تجارت بڑھانے کے مواقع فراہم کریں۔ اس سے تجارتی حجم 500ارب ڈالر نہیں ایک ہزار ارب ڈالر سے بھی بڑھ سکتا ہے اور اس سے ہر ملک کے اقتصادی حالات میں بہتری آنے سے غربت، بے روزگاری اور دہشتگردی کے مسائل میں کمی آسکتی ہے جو وقت اور حالات کی اشد ضرورت ہے۔

اس وقت پاکستان عملاً ایک ایسے دوراہے پر کھڑا نظر آ رہا ہے جہاں گورننس نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔ اسلام آباد اور صوبوں میں اخباری بیانات اور دعوؤں پر حکومتیں کام کرتی نظر آرہی ہیں اور عوام کی اکثریت کا دل بہلا رہی ہیں۔ ہمارے عوام بیچارے بڑے سادہ اور معاف کرنے والے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری ایلیٹ کلاس لوٹ مار اور کرپشن پر کیسے پردہ ڈالتی ہیں۔ ان 8فیصد سے 10 فیصد افراد کو ملک سے صرف اخباری بیانات اور ٹی وی انٹرویوز تک محبت ہوتی ہے عملاً ان کا تعلق نہ تو جمہوریت سے ہوتا ہے اور نہ ہی جمہوری روایات اور اقدار سے، حالانکہ مضبوط جمہوریت سے ہی اقتصادی ترقی کے ثمرات ملک و قوم کو ملتے ہیں۔ پاکستان میں تو عوام اب ان ثمرات کو ترس گئے ہیں آگے کیا ہوتا ہے یہ تو کچھ نہیں کہا جاسکتا، فی الحال تو ڈی ایٹ کانفرنس کی روشنی میں مسلم ممالک کے اقتصادی سفر کا آغاز کیا جاسکتا ہے ،بس دعا ہے کہ یہ سفر مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کے ٹریک پر نہ چلے وہاں سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکل جائیگا۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند