تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ہوا کے دوش پر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 29 محرم 1434هـ - 13 دسمبر 2012م KSA 07:04 - GMT 04:04
ہوا کے دوش پر
ایک یہودی کا بیٹا روزانہ سو ڈالر کا چینج لینے نکلتا اور جب شام کو واپس آتا تو اس کے پاس ایک سو بیس ڈالر ہوتے۔ جب بنک بن گئے تو یہی کام انہوں نے بنکوں سے لیا اور دنیا بھر میں بنکاری کے اعلی ترین قوانین ہوتے ہوئے بھی جس بنک کا جہاں داﺅ لگتا ہے وہ لگا جاتا ہے۔ زیادہ کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ 911 سے پہلے بنکوں کی مانیٹرنگ اتنی سخت نہیں تھی لیکن بعدازاں امریکہ نے عالمی اداروں کے تعاون سے بہت سخت قوانین کا اجرا کرنے کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ سسٹم میں بھی وسعت پیدا کی جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دو روز پہلے یورپ کے سب سے بڑے بنک HSBC کو ریکارڈ 1.92 ارب ڈالر کا جرمانہ کیا گیا ہے۔ امریکہ کے محکمہ انصاف نے فرد جرم عائد کرنے کے ساتھ تمام دستاویزی ثبوت بھی پیش کئے کہ کس طرح بنک نے نہ صرف کولمبیا اور میکسیکو میں ڈرگ اور منی لانڈرنگ کے دو کارٹل کی 881 ڈالر کی رقم کا لین دین کیا بلکہ امریکی محکمہ انصاف نے یہ بھی ثابت کیا کہ امریکہ نے ایران، لیبیا، سوڈان، برما اور کیوبا پر جو معاشی پابندیاں عائد کی ہوتی ہیں۔ اس بنک نے چند دوسرے بنکوں کی طرح (انہیں مجموعی طور پر چار ارب ڈالر کا جرمانہ ہو چکا ہے) ان معاشی پابندیوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ان ممالک کی صنعت و تجارت کی شخصیات کے ساتھ نہ صرف بنک کاری کی ہے بلکہ کاروباری تعلقات بالکل اسی طرح قائم رکھے جیسے ان ممالک کی بزنس کمیونٹیز کے ساتھ رکھے ہوئے ہیں جن پر امریکہ نے معاشی پابندیوں کا اطلاق نہیں کیا ہے۔ HSBC کے چیف ایگزیکٹو نے بروکلین کی وفاقی عدالت میں موجود دستاویزات اور الزامات کو نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ تحریری طور پر طے پایا ہے کہ بے شک جرمانے کے طور پر سوا ارب ڈالر ادا کرے گا۔

پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ پاکستانی بنک قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے معاملات چلا رہے ہیں اب یہ الگ بات ہے کہ حکومت کو بے تحاشا قرض دینے کی وجہ سے ان کے پاس پرائیویٹ سیکٹر کو قرضہ فراہم کرنے کے لئے رقم کم بچی ہے۔ یہاں بات آگے بڑھانے سے پہلے کچھ تذکرہ پورے پاکستان خصوصاً لاہور میں پھیلے ہوئے ایک مسئلہ کا ہے جس کی وجہ سے پانچ روپے کا نوٹ سٹیٹ بنک کے اعلان کے مطابق تو 31 دسمبر 2012ءکو غیر قانونی ہو کر کاغذ کا ایک ٹکرا رہ جائے گا لیکن ابھی سے دکانداروں اور لین دین کے دوسرے اداروں (مالیاتی ادارے نہیں)نے اس کا لین دین بالکل بند کر دیا ہے۔ سٹیٹ بنک انتظامیہ نے صورتحال کا علم ہونے پر صرف اتنا کہا ہے کہ شیڈولڈ بنک اشتہارات کے ذریعہ سے واضح کریں کہ پانچ روپے کے نوٹ کی قانونی اہمیت اور حیثیت 31 دسمبر 2012ءتک ہے۔ اس لئے اگر کسی کو نوٹوں کے لین دین میں کوئی پرابلم ہے تو وہ بنک سے رجوع کر سکتا ہے۔

ایسا نہ ہو کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ازخود نوٹس لے کر سب پوچھ لیں۔ دوسری طرف ماضی کی شاندار اور عالیشان کرنسی ختم کرکے افغانستان جیسی کرنسی پاکستان کی بھی بنا دی گئی ہے۔ کاغذ معیاری استعمال نہیں کیا جا رہا۔ اگر کسی نے فرق دیکھنا ہو تو پاکستانی کرنسی کا جاپان تو دور کی بات ہے انڈیا کے سو روپے کے کاغذ سے موازنہ کرکے دیکھ لے۔

اسی وجہ سے ہزار روپے کے ہو بہو اصلی جیسے نوٹ مارکیٹ میں آ گئے ہیں جن کی پرنٹنگ اور کاغذ تو ایک جیسا ہے صرف واٹر مارک (سفید دائرے والے حصے کو اگر روشنی میں کرکے دیکھا جائے تو قائداعظم محمد علی جناح کی واضح تصویر واٹر مارک میں پرنٹ ہے، جعلی نوٹ میں یہ تصویر مدھم ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند