منی لانڈرنگ اپنی ابتدا سے انتہا تک مغربی فساد ہے۔ صرف امریکا میں ہر برس 10 کھرب ڈالر جائز زر میں تبدیل کرکے ساری دنیا میں پھیلا دیے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے منظم سینڈیکیٹ، مافیا اسلحہ اور منشیات دنیا بھر میں پھیلائے جارہے ہیں۔ ان کے بجٹ، ان کے منافع کئی چھوٹے ملکوں کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

یہ اتنے طاقتور ہیں کہ دنیا کی اور انسانی تاریخ کی طاقت ور ترین حکومتیں اور ادارے بھی ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ ناجائز ذرایع سے کمائی گئی ناجائز دولت کے کھربوں ڈالرز کو جائز بنانے کے لیے انھوں نے نت نئے طریقے اپنا رکھے ہیں۔ ابھی دنیا کرنسی کے مصائب ہی جھیل رہی تھی کہ ’’ورچوئل کرنسی‘‘ بھی آگئی ہے، نہ صرف یہ کہ آگئی ہے بلکہ اس کرنسی کے ذریعے لاکھوں ڈالرز کے کالے دھن کو سفید بھی کیا جاچکا ہے۔ 28 مئی کو ہفنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور دیگر کئی عالمی خبر رساں اداروں نے رپورٹ دی کہ امریکی حکام نے ’’کوسٹاریکا‘‘ کی رقم منتقل کرنے والی ایک کمپنی کو بند کردیا ہے۔

کمپنی کی ویب سائٹ بھی بند ہے۔ اس پر لکھا آرہا ہے کہ اس ’’ڈومین‘‘ کو امریکا کی ’’گلوبل ایلیٹ فنانشل ٹیم‘‘ نے بند کردیا ہے۔ کمپنی کا نام ’’لبرٹی ریزرو‘‘ ہے۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے مطابق ’’لبرٹی ریزرو ڈیجیٹل منی سروس‘‘ 6 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ میں ملوث تھی۔ اب تک 5 گرفتاریاں عمل میں آچکی ہیں۔ گرفتاریوں میں کمپنی کے بانی آرتھر بڈاسکی بھی شامل ہیں جنھیں اسپین میں حراست میں لیا گیا۔ اب تک ڈھائی کروڑ ملین ڈالر کی رقم کے 45 بینک اکاؤنٹ منجمد کردیے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر چلنے والے 5 ڈومین بھی بند کیے گئے ہیں۔ دنیا بھر میں 45 کے قریب افراد کی یا تو تلاش جاری ہے یا انھیں حراست میں لیا جاچکا ہے۔ 15 ممالک میں مدد کی 36 درخواستیں روانہ کی جاچکی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ منی لانڈرنگ کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ایک اہل کار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ لبرٹی ریزرو بڑی بڑی رقمیں منتقل کرتا تھا اور بغیر کسی شناخت کے، کوئی بھی فرد اپنی شناخت بتائے بغیر کتنی ہی بڑی رقم کیوں نہ ہو دنیا میں کہیں بھی منتقل کرسکتا تھا۔ یہ مجرموں کے لیے ایک پے پال (رقم کی منتقلی کا برقی ذریعہ) تھا۔ یہ تمام تر سلسلہ کچھ یوں تھا کہ ’’ایل آر‘‘ کے نام کی ایک ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروائی گئی تھی جس فرد کو ملک یا بیرون ملک کہیں بھی رقم منتقل کرنی ہوتی وہ ’’ایل آر‘‘ کے دفتر جاکر مقامی کرنسی کے عوض ’’ایل آر‘‘ کے یونٹ خریدتا تھا۔ یہ یونٹ کسی بھی مقدار میں خریدے جاسکتے تھے۔

عموماً بڑی خریداریاں دیکھنے میں آتی رہیں۔ ’’ایل آر‘‘ کی خریداری کے لیے قطعی طور پر یہ ضروری نہ تھا کہ خریدار اپنی درست اور حتمی شناخت و ذرایع آمدنی بیان کرے۔ خریدار دنیا کے قریباً 17 ممالک میں موجود ’’ایل آر ‘‘ کی شاخوں سے یہ رقم وہاں کی مقامی کرنسی میں وصول یا کسی کو بھی ادا کرسکتا تھا۔ چونکہ یہ تمام تر لین دین ’’تھرڈ پارٹی‘‘ نظام کے تحت ہوتا تھا لہٰذا رقم بھیجنے یا وصول کرنے والے کو اپنی شناخت چھپانے کی مکمل آزادی تھی۔ استغاثہ کے مطابق کریڈٹ کارڈ کے فراڈ، شناخت کی چوری، سرمایہ کاری کے فراڈ، کمپیوٹر ہیکنگ، پورنو گرافی خاص کر چائلڈ پورنو گرافی اور منشیات کی ترسیل وغیرہ کی رقوم کی وصولی اور ادائیگی کا یہ ایک بڑا ذریعہ تھا۔

جب کرنسی کا چلن شروع ہوا تھا تو اس وقت سے آج تک ماہرین کبھی بھی لین دین کے اس طریقے پر مکمل اعتماد کا اظہار نہیں کرپائے۔ ہر دور میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ یہ فطین افراد کی کارستانی ہے۔ ان فطین افراد نے دہرا وار کیا ہے۔ ایک جانب لوگوں سے ان کا اصل زر سونے اور چاندی کی شکل میں حاصل کیا تو دوسری جانب عالمی سطح پر حکومتوں کے زر کے مالک بھی بن بیٹھے۔ خاص کر امریکی ریزرو کے بارے میں بھی شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ عالمی اصل زر یعنی سونے کے ذخائر آج غیر حکومتی قوتوں کے قبضے میں ہیں۔ بینکوں کا نظام ان کا ہراول دستہ ہے۔ یہ دستہ مصنوعی زر یعنی کرنسی نوٹ تخلیق کیے جارہا ہے لوگوں کو کاغذ کے چند چیتھڑے دے کر خوش کردیا جاتا ہے۔ اب دور مزید آگے بڑھ رہا ہے۔ اب ورچوئل کرنسی کا دور آگیا ہے۔

اب ادارے آپ کو کاغذ بھی نہیں دیتے۔ صرف آپ کو چند ہندسے بتا دیے جاتے ہیں۔ آپ کی زندگی اب ان ہندسوں کو بڑھانے سے مشروط کردی گئی ہے۔ ہندسوں کے گھٹنے بڑھنے کا ایسا جال بن دیا گیا ہے کہ افراد اس میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ذہنی طور پر ہمیں یہ سمجھا دیا جاتا ہے کہ ہندسوں کا نہ ہونا یا کم ہونا اچھی بات نہیں۔ آپ کی اور آپ کی آیندہ آنے والی نسل کی بقاء اسی سے مشروط ہے کہ آپ کے پاس بہت سارے ہندسے ہوں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو آپ سسک سسک کر مرجائیں گے۔ انسان خوف اور لالچ کے خمیر سے بنا ہے۔ وہ ڈر جاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ روایتی تہذیبوں میں بھی امید اور ڈر ہوا کرتی تھی، لیکن اس دور کے لوگ زیادہ پرسکون اور خوش باش تھے۔ ان پر مصروفیت مشغولیت اور شدید ذہنی دباؤ اور تناؤ کا عذاب بھی مسلط نہیں تھا۔

ایک ان دیکھی قوت پر تکیہ کرکے زندگی گزرا کرتی تھی۔ آج کا ایمان اور یقین چند ہندسوں پر آن ٹکا ہے۔ اگر بینک میں یا کسی بھی جگہ آپ کے پاس چند ہندسے ہیں تو آپ جی سکتے ہیں۔ آپ کسی بھی ریسٹورنٹ میں جاکر کچھ بھی کھا سکتے ہیں۔ کھانا کھانے سے توانائی ملی لیکن ہندسے کم ہوگئے۔ اب پھر جت جایئے ان ہندسوں کو بڑھائیے جو توانائی حاصل ہوئی ہے اسے صرف کیجیے۔ اسی طرح اگر آپ بیمار ہوجاتے ہیں تو آپ کو علاج کی اشد ضرورت ہے۔ اگر آپ نے علاج نہ کروایا تو مرجائیں گے۔ اور مرجانا تو بہت ہی بری بات ہے۔

یہ دنیا اور اس کی تمام لذات ختم ہوجائیں گی۔ دنیا کی لذتوں سے زیادہ سے زیادہ مزے اٹھانے کے لیے جینا بہت ضروری ہے۔ جیے جانے کے لیے علاج بہت ضروری ہے۔ جن ملٹی نیشنل یا نیشنلز میں دن رات صرف کرکے مرکھپ کے آپ نے چند ہندسے جمع کیے ہیں۔ اسی ملٹی نیشنل کے ایک اور ملٹی نیشنل بھائی نے آپ کو ادویات کے سہارے تادیر جیتے رکھنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اگر آپ نے اس کے کارخانے کی ادویات نہ کھائیں، اس کے اسپتالوں میں جاکر جان نہ دی تو ان کا دھندا کیسے چلے گا۔ آپ وہاں جائیں۔ علاج کروائیں۔

آپ کے اکاؤنٹ سے چند ہندسے پھر کسی بڑے اکاؤنٹ میں منتقل ہوچکے ہوں گے۔ اب پھر فوراً جت جائیے اپنے کم ہونے والے ہندسوں کو بڑھانے کے لیے۔ آپ کو بتایا جارہا ہے کہ آپ کی زندگی کے لیے ایک عمدہ گھر یا فلیٹ بھی بہت ضروری ہے۔ آپ کے لیے گاڑی اور ایک بڑی اسکرین کا ٹی وی بھی ضروری ہے۔ کمپیوٹر کا دور ہے اب لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ کے بغیر گزارا نہیں۔ آپ کو کتابیں پڑھنے کا چسکا ہے۔ کینڈل لے لیجے۔ اب اس کے بغیر کیا کتاب پڑھنا۔ غرض شدید قسم کی محنت مزدوری کرکے آپ نے جو چند ہندسے جمع کیے وہ بھی اکثر آنے سے پہلے ہی غائب ہوگئے۔

آپ کے پاس نہ اپنے لیے وقت ہے نہ اپنی بیوی کے لیے نہ اولاد کے لیے نہ والدین کے لیے۔ بچے اول تو پیدا ہی کم کیے جائیں جو اس دنیا میں آ بھی جائیں تو وہ ماں باپ کے سینے پر کھیلنے اور پلنے کے بجائے ڈے کیئر سینٹر میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ والدین کے جسم کا لمس اور والدین کے جسم کی خوشبو انھیں زندگی بھر نہیں ملتی۔ نتیجے کے طور پر ان میں کبھی والدین کی خدمت کا جذبہ بھی نہیں ابھرتا۔ ان کے والدین کی اخیر عمر اولڈ ایج ہاؤسز میں ہی سسکتے بلکتے ختم ہوتی ہے۔ یہ مادیت کی وہ ورچوئل دنیا ہے کہ جہاں جذبات اور احساسات ایک قدر زائد سے زیادہ نہیں۔ ورچوئل دنیا کی ورچوئل کرنسی نہ جس کے مالکوں کا پتا ہوتا ہے اور نہ جس کے اصل فائدہ اٹھانے والوں کا علم۔

ہر دور میں دیکھا ہے میری فکر رسا نے
کچھ لوگ زمانے کے خداوند رہے ہیں

اس سنجیدہ معاملے کا تاریک ترین پہلو یہ ہے کہ اسلحہ، منشیات اور پورنو گرافی پر قدغن عائد کرنے میں کوئی سنجیدہ نہیں۔ شاید اس لیے بھی کہ جمہوریت اور سرمایہ داریت کے فروغ کے لیے کرپشن بہرحال ضروری ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے