روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہفتے کے روز20جولائی کو جی ٹوئنٹی گروپ (بیس ممالک)کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کا اجلاس ہوا، جس کا مقصد عالمی معیشت کا جائزہ لینا تھا، اس موقع پر انہوں نے ملازمتوں کے موقعوں میں اضافہ کر کے میعشت میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا۔

ان کے خیال میں عالمی معیشت بہت زیادہ کمزور ہے اور اس کی بحالی بھی نازک عمل ہے اور دیگر یورو زون ممالک کی نسبت نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 60 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ اسی تناظر میں جی ٹوئنٹی نے معاشی اصلاحاتی اقدامات سے قبل معیشت کی شرح پیداوار میں اضافے کا عزم کیا۔ اگر ہم جی ٹوئنٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کو غور سے پڑھیں تو معاشی پیداوار اور اس کے استحکام پر ہونے والی بحث کا خاتمہ ہوجائے گا۔ بے روزگاری سے نمٹنا اور طلب کو بڑھانا جی ٹوئنٹی اجلاس کی اہم ترین ترجیح کے طور پر سامنے آیا۔درمیانی مدت میں بجٹ کا استحکام لازمی ہے جبکہ مختصر مدت میں پیداوار میں اضافہ یقینی طور پر لازمی ہے جس پر ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں اتفاق رائے پایا گیا۔

قارئین کو میرے آرٹیکلز کا سلسلہ (23اپریل، 30 اپریل، 7 مئی ودیگر) کے حوالے سے یاد ہوگا، میں نے ان آرٹیکلز میں استحکام اور معیشت کے کلاں کی پالیسیوں کے تعمیری کرداروں پر بات کی تھی۔ آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ معیشت کلاں کی روایتی پالیسیوں کا مرکز پہلے ہمیشہ ہی استحکام پر زور دیتا ہے تاکہ معاشی پیداوار اور روزگار میں اضافہ ہوسکے۔ ان تجاویز میں بجٹ خسارے کو کم کرنا، حکومتی قرضوں پر قابو پانا اور مہنگائی کی شرح کو کم کرنا شامل ہے۔ مالی سال 2008-09ء کے بعد عالمی معیشتوں کی ناکامی اور خاص طور پر یورپین ممالک کے بڑھتے قرضوں کے بحران نے کئی یورو زون ممالک کی معاشی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا اور ان سے منسک لوگوں کے مسائل نے عالمی رہنماؤں کو معیشت کلاں کی پالیسیوں کے بارے میں دوبارہ سوچ بچار کرنے پر مجبور کر دیا۔

یونان، اسپین اور دیگر یورو زون ممالک کی معیشتوں میں مالی ایڈجسٹمنٹ میں اضافے کی وجہ سے گمبھیر سماجی مسائل پیدا ہوئے اور کفایت شعاری کے پروگراموں کی وجہ سے لوگوں کے متاثر ہونے میں اضافہ ہوا۔گزشتہ سال برازیل میں ہونے والے جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں معیشت کے استحکام اور معیشت کلاں کی تعمیری پالیسیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر اتفاق رائے پیدا ہوا جسے جی ٹوئنٹی رہنماؤں نے ماسکو میں ہونے والے گزشتہ اجلاس کی طرح اپنے متعدد اجلاسوں میں بھی دوبارہ نافذ کیا۔ عالمی رہنما اب معاشی پیداوار، ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے، مساوات، سماجی اور ماحولیاتی ترقی کی اہمیت کو بخوبی جان چکے ہیں اور جسے مستقبل میں معیشت کلاں کی پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے حاصل کیا جاسکتا ہے جو پائیدار ترقی کو تقویت دے سکتا ہے اور اس کے ذریعے ایک طرف تو معاشی پیداوار میں موثر اضافہ کیا جا سکتا ہے اور دوسری طرف یہ معیشت کو استحکام بخشے گا۔

پاکستان کے تناظر میں گزشتہ 6 ماہ سے یہی تجویز دے رہا ہوں کہ روایتی معنوں میں استحکام کے بجائے پاکستان کو معاشی استحکام اور پیداوار کے درمیان توازن قائم کرنا چاہئے۔ میں یہ بھی خبردار کرچکا ہوں کہ اس طرح کی معیشت کلاں کی پالیسیاں مالی انضباط پیدا نہیں کریں گی۔ یہ پالیسیاں ایک طرف تو اندرونی ذرائع کو بروئے کار لانے پر زور دیں گی اور حکومتی اخراجات کو بہتر کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوں گی۔ میں ہمیشہ سے ہی ٹیکس کے نظام اور ٹیکس انتظامیہ میں اصلاحات کے ذریعے سے وسائل پیدا کرنے پر زور دیتا رہا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور انفرااسٹرکچر کیلئے مزید وسائل مختص کرنے کی تاکید کرتا رہا ہوں تاکہ اس سے اخراجات کے معیار اور وسائل کی تقسیم کو بہتر بنایا جاسکے جو کہ معیشت کلاں کی پالیسیوں کے تعمیری اہداف حاصل کرنے کیلئے اہم جز ہوگا۔ یہ اب ایک نئی سوچ ہے جسے عالمی رہنماؤں نے تجویز کیا ہے تاکہ ایک طاقتور اور ملازمتوں سے مالامال معیشت کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔

نئی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کیلئے اسٹاف کی سطح کا معاہدہ بھی کرلیا ہے۔ پالیسی کی سمت ٹھیک دکھائی دے رہی ہے لیکن اس کے طریق کار کی وجہ سے معیشت کلاں کے تعمیری اہداف حاصل کرنا ممکن ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ ٹیکس انتظامیہ کی استعداد اور رواں مالی سال کیلئے مختص کردہ آمدنی کا ہدف (جو کہ 24کھرب اور75/ارب روپے کا ہے) ایک دوسرے سے متصادم ہے۔ موجودہ ٹیکس کی بنیاد میں اتنا بڑا محصولاتی ہدف خیالی اور ناقابل حصول نظر آتا ہے۔ پاکستان کو تمام معاشی سرگرمیوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانا ہو گا جن پر اب تک ٹیکس نہیں لگایا گیا یا وہ ابھی تک ٹیکس سے باہر ہیں۔ ہر شخص توقع کر رہا تھا کہ زرعی آمدنی کو براہ راست ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے گا لیکن انہیں ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب تک مختلف خدمات ٹیکس کے دائرے سے باہر رہی ہیں یا جن پر ٹیکس لاگو ہے وہ براہ راست ٹیکس کے دائرے سے باہر ہیں۔

ٹیکس کٹوتی کے نظام کو بہتر کرنے کیلئے کوئی کوششیں نہیں کی گئی۔ وزیر خزانہ کی جانب سے ٹیکس کے اس حصے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ یہ آمدنی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے اور یہ غیر حقیقی محصولات کے ہدف کو حاصل کرنے میں خاصا معاون ثابت ہوگا۔ ٹیکسوں کا وصول ہونا لیکن سرکاری خزانے میں جمع نہ ہونا ایک اور مسئلہ ہے۔ ٹیکس وصولی اس کے سرکاری خزانے میں جمع کئے جانے والے درمیانی خلاء کو ختم کرنے سے 3 سال کے عرصے میں 250 سے 300/ارب روپے حاصل ہوسکتے ہیں۔

حکومت نے ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کے بجائے ان کی شرح میں اضافے پر انحصار کیا۔ دوسری لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ حکومت نے انہی لوگوں پر اضافی ٹیکس عائد کیا جو کہ پہلے سے ہی ٹیکس ادا کر رہے تھے۔ وہ لوگ جو کہ بااثر تھے اور جنہوں نے کبھی ٹیکس کی ادائیگی نہیں کی اور اب بھی وہ ٹیکس کے دائرے سے باہر رہے۔ حکومت نے مایوسی کی کیفیت میں غریبوں کے پرانے کپڑوں (لنڈا) کی خریداری اور موبائل فون صارفین پر بھی بھاری ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا۔ ایسے اقدامات کی معاشرے پر اثر انداز ہونے والے طبقے، جو کہ ٹی وی کے ٹاک شوز میں نمودار ہوتے ہیں یا اخبارات میں لکھتے ہیں، نے بھی پذیرائی نہیں کی۔ اس طرح کے ٹیکس اقدامات سیاسی طور پر بھی غلط تھے۔اگر سب کچھ ٹھیک رہے تو پاکستان ستمبر 2013ء میں آئی ایم ایف پروگرام میں داخل ہوجائے گا۔

ٹیکس وصولی کے اہداف سہ ماہی سطح کے ہوں گے۔ سہ ماہی سطح پر ٹیکس کی عدم وصولی کی صورت میں آئی ایم ایف کا مشن حکومت کو اضافی ٹیکس اقدامات کرنے کے لئے مزید دباؤ ڈالے گا۔ ایسا اکتوبر، جنوری اور اپریل میں ہوسکتا ہے۔ عارضی اقدامات سے ٹیکس کے ضمن میں بڑے پیمانے پر بے ترتیبی کا خطرہ ہوگا جو کہ صنعتوں کی تباہی کا باعث بنے گا۔ جس کی بنا پر ہمیں منی بجٹس کی دوبارہ آمد نظر آسکتی ہے۔ میں وزیر خزانہ کو ایف بی آر کے ٹیکس محصولات کے ہدف پر نظرثانی کرنے کیلئے زور دوں گا کیوں کہ یہ موجودہ ٹیکس انتظامیہ کی سکت سے بالاتر ہے یا پھر انہیں قابل اعتبار اقدامات کے ساتھ سامنے آنا چاہئے یا پھر انہیں آمدنی کا ہدف پورا کرنے کیلئے اضافی ٹیکس کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔

بہ شکریہ روزنامہ"جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے