چند روز قبل اس وقت کے صدر اور آج کے سابق صدر آصف علی زرداری کے اعزاز میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے الوداعی ظہرانے پر جہاں قومی حلقوں میں مختلف انداز میں تبصرے ہورہے ہیں، وہاں صنعتی اور تجارتی حلقوں اور سفارتی حلقوں میں بھی اس حوالے سے بڑے دلچسپ کلمات سننے کو مل رہے ہیں۔ جمہوری طور پر دونوں بڑی قومی سیاسی پارٹیوں کے سیاسی مفاہمت کے رویے کو برقرار رکھنے کے عزم پر اطمینان کا ا ظہار اس طرح کیا جارہا ہے کہ اگر واقعی یہ سوچ آگے بڑھتی ہے تو اس سے ملک میں سیاسی ا ستحکام لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس صورتحال کا اثر یقینا ملکی معیشت اور سماجی حالات پر بھی پڑیگا۔ اس لئے کہ جب بڑی سیاسی قوتیں محاذ آرائی کی سیاست چھوڑ کر ملکی مفاد کو ترجیح دینے پر تیار ہوجائیں گی تو اس سے قومی سلامتی کے کئی ایشوز حل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے جیسا کہ آج(سوموار کے روز)اسلام آباد میں قومی سیکورٹی پالیسی کے حوالے سے موجودہ حکومت کی کاوش سے آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) ہورہی ہے، خدا کرے اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں۔ مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان ایوان وزیر اعظم کے ظہرانے میں مفاہمت کا جو پہلو نظر آیا اس کے بارے میں معاشی حلقوں میں یہ کہا جارہا ہے کہ دونوں پارٹیوں میں میثاق جمہوریت کے معاہدہ کے بعد اب شاید آئندہ پانچ سال کے لئے استحکام جمہوریت کا نیا معاہدہ طے پاگیا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق اس صورتحال سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بڑا ڈیوڈنڈ حاصل کرسکتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں خیبر پختونخوا(کے پی کے)کو پنجا ب میں گورننس کے پیٹرن پر چلانا ہوگا جس کا کریڈٹ وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کو جاتا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ عمران خان یا ان کی ٹیم میں میاں شہباز شریف کی طرح سخت مزاجی والے رویے والی صلاحیت نہیں ہے مگر تحریک انصاف (کے پی کے) کو اقتصادی ترقی کے حوالے سے ایک ماڈل صوبہ بناسکتی ہے جس کے بعد دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان مفاہمت کے برعکس سوچ رکھنے والوں کی سپورٹ انہیں مل سکتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ( ن) نے حالیہ انتخابی مہم میں اپنے نعروں اور بیانات کی نفی کرکے پارٹی کارکنوں کو مایوس کیا ہے۔ یہی تاثر پیپلز پارٹی کے حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔اس تاریخی ظہرانے میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے شام اور مشرق وسطیٰ کے حالات کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے وہ اس طرح صحیح لگتے ہیں کہ اگر ان حالات کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے پاکستان کی معیشت اور حکومت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے جس سے آئی ایم ایف سے 6.6ارب ڈالر کا نیا قرضہ ملنے کے باوجود ہماری معیشت دباؤ میں آسکتی ہے۔

رواں مالی سال کے بجٹ میں تیل کی درآمد کے لئے حکومت نے110ڈالر فی بیرل کا تخمینہ لگا کر اس مد میں16ارب ڈالر کے اخراجات رکھے ہیں۔ یہ ریٹ اب پہلی سہ ماہی میں ہی بڑھنا شروع ہوگیا ہے اور 117ڈالر فی بیرل کی مد سے آگے جاچکا ہے جبکہ عالمی اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ شرح125ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکتے ہیں۔ اس سے ہمارے درآمدی تیل کے بل میں780ملین سے800ملین ڈالر(800ارب روپے سے زائد)کا اضافہ ہوسکتا ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ اضافی رقم کہاں سے آئیگی اور دوسری طرف آئی ایم ایف کے نئے قرضہ کی بعض نئی شرائط پر عملدرآمد کا مرحلہ بھی سر پر آجائیگا، اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر اس سے حکومت کی اقتصادی پالیسوں اور سرمایہ کاری خاص کر بیرونی سرمایہ کاری پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس وقت حکومت کی بعض اقتصادی پالیسیوں پر بزنس طبقہ کا اعتماد تو بڑھ رہا ہے مگر پالیسوں پر عملدرآمد کی رفتار سے وہ مطمئن نظر نہیں آرہے، جس میں اکنامک گورننس اور مختلف فیصلوں پر عملدرآمد کے معاملات قابل ذکر ہیں۔ شام اور مشرق وسطیٰ کے حالات کے حوالے سے معیشت پر اثرات کے حوالے سے حکومت کو ایک کور گروپ بنا کر سوچ بچار کرنا ہوگی ورنہ دوسری صورت میں اگر بین الاقوامی حالات سے ہمارے معاشی حالات پر اثرات مثبت کی بجائے منفی طور پر زیادہ بڑھتے ہیں تو اس سے جمہوری نظام چلانے اور مسلم لیگ(ن)کی حکومت کو ”عوامی خدمت“ کے وعدے پورے کرنے میں ایک سے زیادہ مشکلات کا سامناکرنا پڑسکتا ہے، شاید مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے ا نہی خدشات کے پس منظر میں مزید پانچ سال تک ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کا عندیہ دیا ہے کہ آئندہ حالات کے حوالے سے جمہوریت کے استحکام کے لئے مفاہمت یا ایک دوسرے کو برداشت کیا جائے ۔ یہ دونوں پارٹیوں کا خوف بھی ہوسکتا ہے کہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو عمران خان کسی نہ کسی موقع پر قومی سیاسی نظام میں بہتر پوزیشن پر آسکتے ہیں۔

دوسری طرف ایسے حالات بھی پیدا ہوتے نظر آرہے ہیں کہ دو تین سال کے بعد یہاں اس بات کی ضرورت سمجھی جائے کہ فوج اور سیاسی قیادت مل کر ملکی نظام حکومت چلانے کی نہ صرف حکمت عملی تیار کرے بلکہ ترقی کے ماڈل کی طرح پورے نظام میں پارلیمنٹ اور فوج دونوں برابر کے ذمہ دار اور حصہ دار بھی ہوں۔ اس کی ایک تازہ مثال قومی سلامتی کے ادارے کی تشکیل نو میں فوج ا ور حکومت کا تعاون اور پھر تمام قومی جماعتوں کی مشترکہ کانفرنس کا انعقاد ہے۔ ویسے بھی اب امریکہ یہی چاہتا ہے کہ پاکستان میں دونوں ادارے ایک سوچ کے تحت افغانستان اور خطے کے دوسرے مسائل حل کرنے کی طرف پیش قدمی کریں تاکہ کسی طرح یہاں سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہوسکے جو بدقسمتی سے دوسرے صوبوں کے بعد پنجاب میں بھی بڑھتی نظر آرہی ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے