سنہ 1999 میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی اور اسحٰق ڈار وزیر خزانہ۔ آج کل کی طرح امریکی ڈالر پاکستانی روپے کو لتاڑتا، چوکڑیاں بھرتا، پچپن چھپن روپے سے چھیاسٹھ روپے تک جا پہنچا۔ یہ وزیر خزانہ کی شخصیت کا کمال ہے یا پالیسیوں کاحسن کہ جب یہ منصب پر آئیں تو ڈالر کو پر لگ جاتے ہیں۔ ایک منہ پھٹ رپورٹرنے تو ان سے پوچھ ڈالا ’’جناب! روپے کی یہ بے قدری کم ہوگی یا جس طرح خبر گرم ہے ڈالر سوروپے کو چھوئے گا؟‘‘ ’’دعا کریں پاکستان میںتیل نکل آئے ورنہ ڈالر پر قابو پانا حکومت کے بس کی بات نہیں‘‘ ڈار نے جواب دیا۔
 
میں نے ایک اخبار میں کالم لکھا جس کاعنوان تھا ’’اسحٰق ڈالر‘‘ پھر کرنا خدا کا یہ ہوا کہ 12اکتوبر کی شام جنرل پرویز مشرف نے ہیوی مینڈیٹ کو فوجی بوٹوں سے روند ڈالا اور ایک آئین شکن، عوام دشمن، جمہوریت مخالف حکومت وجود میں آگئی جس کو میاں نواز شریف کے دوست امریکی صدر کلنٹن پسند نہیں کرتے تھے۔ ملک میں تیل نکلا نہ آئی ایم ایف سے قرضہ لیاگیا مگر ڈالر گرتے پڑتے ساٹھ روپے پر آ گیااور پھراگلے ساڑھے8سال تک اپنی چوکڑی بھول کرساٹھ پر ہی ٹکا رہا۔ مخالفین کو یہ کہنے کاموقع ملاکہ موجودہ حکومت کے معاشی ماہرین کی نااہلی، حکومت کی تاجرانہ سوچ اورمعاشی ڈسپلن سے عاری طرز ِ حکمرانی کا شاخسانہ تھا ورنہ ڈالر کی اصل اوقات یہی تھی۔
 
جنرل پرویز مشرف نے سیاسی اور سماجی سطح پر بہت سی غلطیاں کیں۔ معاشرے کے مزاج کو سمجھا نہ قوم کے جذبات و احساسات کا ادراک کرپایامگر بلدیاتی انتخابات کا تسلسل، میڈیا کی آزادی اور قومی معیشت کی بحالی تین اقدامات ایسے ہیں جن کا کریڈٹ فوجی آمر کو ملنا چاہئے۔ بڑے بڑے منکر مانتے ہیں کہ ایوب خان ، ضیاالحق اور پرویز مشرف کے د ور میں صنعت و زراعت نے ترقی کی، عوام نےترقی و خوشحالی کامزہ چکھا اور مہنگائی و بیروزگاری قابو میں رہی جبکہ جمہوری ادوار میں عوام کا مقدر غربت، پسماندگی، مہنگائی ، بیروزگاری اور لوٹ مار ہی رہی۔
 
جون 2013 میں اسحٰق ڈار وزیرخزانہ بنے تو ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 96/97 کا تھا۔ زرداری، گیلانی ٹولے کی لوٹ مار مارکہ جمہوریت کو 60 روپے کا ڈالر 96/97 تک لے جانے میں پانچ سال لگے۔ مگر موصوف کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے سو دن میں اسے 111 روپے تک پہنچادیا اور فرمائش یہ ہے کہ نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز، شائد دسمبر میں ڈالر بہادر 150روپے کا ایک ملے۔ ڈالر کی مہنگائی سے تیل کے نرخ بڑھیں، سبزیاں، دالیں اور دیگر اشیائے خورونوش مہنگی ہوں یا کرایوں میں اضافہ ہو، حکومت کی بلا سے۔ ایک وزیر باتدبیر نے اگلے چندروز میں بجلی کے نرخوں میں تیس فیصداضافے کی خوشخبری سنائی ہے اور یہ سلسلہ شایداگلے تین سال تک جاری رہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لیا ہے تو شرائط بھی ماننا پڑیں گی۔
 
چیف جسٹس افتخا ر محمد چودھری نے چند روز پیشتر جب یہ کہا کہ جمہوری حکومتوں سے مارشل لا دور بہتر تھا کہ کم از کم بلدیاتی انتخابات بروقت کرادیتے تھے تو ’’شرمناک‘‘اور ’’جعلی جمہوریت‘‘کے ہیضے میں مبتلا دانشوروں کو ابکائیاں آنےلگیں حالانکہ کڑوا سچ یہ ہے کہ صرف بلدیاتی اداروںکے حوالےسے نہیں لااینڈآرڈر، اشیائے خور و نوش کی قیمتوںاور اقتصادی و معاشی ترقی کے حوالے سے ہر فوجی دور جمہوری حکومتوں سے بہتر رہا اور عوام اب تک اسے یادکرکے افسردہ ہو جاتے ہیں۔ بہتی گنگا میں اشنان کرنے والوں کامعاملہ مگر مختلف ہے۔ عام آدمی کو روکھی سوکھی آسانی سے میسر نہ بجلی، گیس اور تیل سستا دستیاب۔ ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے۔
 
موجودہ حکمرانوں کو اقتدار پیپلزپارٹی کی نااہل، بدعنوان اور جمود پسند حکومت کے بعد ملا یہ کوئی معمولی کارنامہ انجام دے کر ہیرو بن سکتے تھے مگر انہوں نےٹھان لی کہ ’’جمہوریت‘‘ کا تسلسل نظرآنا چاہئے اس لئے کچھ نہیں کیا کمال کیا۔ وقت گزاری کے لئے عوام کو بلٹ ٹرین اور گوادر تا خنجراب ریل کی بتی کے پیچھے لگا دیااور قوم میں پائی جانے والی مایوسی اوربے چینی کاعلم ہوا تو نوجوانوںکو قرضہ سکیموں کی لت لگا دی۔ کسی کو احساس نہیں کہ خالی پیٹ سفر ہوتاہے نہ زندہ باد کے نعرے لگتے ہیں البتہ اس طرح کے میگا پراجیکٹس سے احساس محرومی مزید بڑھتا ہے:
 
بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو!
کرہ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ
 
میاں نوازشریف کے بارے میں مشہور تھا کہ انہوں نے ماضی سے سبق سیکھا ہے۔ وہ پارلیمینٹ کی مضبوطی اور جمہوری نظام کے عوام دوست، ثمربار، نتیجہ خیز ڈلیوری سسٹم کو یقینی بنانے کا عزم رکھتے ہیں مگر گزشتہ سو دن کے دوران کھلا کہ پارلیمینٹ کا رخ وہ نہیں کرتے۔ ان کی دیکھا دیکھی وزیروں مشیروں نے اسمبلیوں اور سینٹ میں آنا چھوڑ دیا ہے۔ وزراء کرام عوام تو درکنار ارکان اسمبلی کو گھاس نہیں ڈالتے۔ خواجہ آصف ایسے لوگ تو آپے سے باہرہوتے ہیں۔ حلقے میںعوام، دفتروں میں بیوروکریٹس اوراسمبلی میں وزرا کرام عوامی نمائندوں کو ذلیل کرتے ہیں۔ پارلیمانی نظام مضبوط خاک ہوگا۔ اہم قومی ادارے امریکہ و برطانیہ سمیت اہم ممالک کے سفارتخانے سربراہوں سے محروم ہیں۔ وزیراعظم ملک میں ہوں تو دو دن لاہور میں گزارنا فرض سمجھتے ہیں۔ اسلام آباد میں ان کا انحصار اسحٰق ڈار جیسے معیشت دانوں اور تاجر پیشہ مشیروں پر ہے جو انہیں نیلی پیلی سکیموں کے فوائد بتا کر اپنا رانجھا راضی رکھتے ہیں۔
 
سرمایہ کار، صنعتکار، تاجر، پراپرٹی ڈیلر اور غیرملکی کرنسی کا کاروبار کرنے والے البتہ مزے میں ہیں ۔ انہیں گھر بیٹھے روپے کی بے قدری کا منافع مل رہا ہے۔ سارا سرمایہ پراپرٹی اورغیرملکی کرنسی کے کاروبار پر لگ رہا ہے اور عام آدمی پریشان ہے کہ اس کا کیا بنے گا؟ وہ اپنی محدود آمدنی سے دال روٹی کاخرچ چلائے، بجلی اورگیس کا تین گنا زیادہ بل ادا کرے یا بچوں کی تعلیم اور صحت کے بارے میں سوچے۔ ٹھنڈے کمروںمیں بیٹھ کر قوم کا غم کھانے والوںکو کون بتائے کہ تعلیم اور علاج معالجہ تو درکنار مناسب غذا سے محروم، کوڑا کرکٹ کے ڈھیر سے رزق تلاش کرنے، جوہڑوں میں نہانے اور ڈگریاں ہاتھ میں پکڑ کر کانسٹیبل، کلرک کی نوکری تلاش کرنے والے بالآخر کیا کریں گے۔
 
پڑھی لکھی اور ان پڑھ افرادی قوت کو اگر ریاست اور حکومت استعمال نہ کرسکے تو جرائم پیشہ، دہشت گرد اور تخریب کار گروہ آسانی سے پھانس کر اپنا کاروبار چمکاتے ہیں مگر اسحٰق ڈار اور ان جیسے معیشت دانوں کی بلا سے۔ ان کا تو اندرون و بیرون ملک کاروبار پھل پھول رہا ہے وہ عالمی مالیاتی اداروں کےسامنےسرخرو ہیں صرف سو دن میں ڈالر کو 111روپے تک پہنچا دیا ہے۔ اب کشکول بھرنے میں دیر نہیں۔ کشکول توڑنے سے بھرنا بہتر۔ یہ بھی جمہوریت کا حسن ہے۔ پاکستانیوں کی قسمت ہی خراب ہے تو حکمرانوں کا کیا قصور!
 
بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے