آپ کو اس فقرے کی صداقت پر یقین نہیں آئے گا کہ "ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور وہ عالمی ادارے جو پاکستان کو قرضے دیتے ہیں ان پر برائے نام سود ہوتا ہے جو دراصل وہ اخراجات ہوتے ہیں جو بینک چلانے کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔"یہ فقرہ گزشتہ کئی برسوں کی ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹوں کا نچوڑ ہے۔ ورلڈ بینک کی 2012ء کی رپورٹ کے مطابق یہ شرح2.34 فیصد تھی۔ بعض قرضوں پر تو یہ ڈیڑھ فیصد سے بھی کم ہے۔ اسکے باوجود اس ملک میں سود کے پرچم کو بلند کرنے والے دانشور، معیشت دان اور صرف اسلام سے بغض رکھنے والے سیکولر کہتے پھرتے ہیں کہ سود سے کیسے نجات مل سکتی ہے۔ ہم تو عالمی طور پر اس نظام میں جکڑے ہوئے ہیں، یہ سود تو اب ہر شخص اور ادارے کی رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے۔

میں نے ان سیکولر حضرات کو صرف اسلام سے بغض رکھنے والا اس لیے کہا ہے کہ یہ لوگ تمام مذاہب کے رسوم و رواج اور عقیدوں کا احترام کرتے ہیں، انہیں بابری مسجد گرانے والے ہندو اچھے لگتے ہیں اور یہ انکے ہر ڈرامے کے ہر دوسرے سین میں پوجا پاٹ کو مذہب کا بے جا استعمال نہیں کہتے، تمام مشنری سکولوں میں بائیبل کے اسباق اور اخلاقیات پڑھانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ بدھ ، کنفیوشس، تائو اور دیگر تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ہاتھوں ہزاروں مسلمانوں کا قتل دیکھتے ہیں لیکن کبھی یہ اس مذہب کو برا نہیں کہتے۔ لیکن کسی ڈرامے میں مسجد یا مولوی دکھایا جائے، کہیں کسی مسلمان کے ہاتھوں قتل ہو جائے یا نصاب میں اسلام کی تعلیمات پڑھائی جانے لگیں تو انکے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتا ہے۔ یہ ایک دم چیخنے لگتے ہیں۔

انکا نشانہ مسلمان نہیں بلکہ سیدھا سیدھا اسلام ہوتا ہے۔ یہ ذکر اس لیے کیا کہ گزشتہ چالیس سال سے سود کے مکروہ نظام کے خلاف جو جدوجہد ہو رہی ہے، اسکا مخالف یہی ہر اول دستہ ہے۔ یہ دانشور، معیشت دان اور انسانی حقوق کے داعمی سود کی مخالفت کو ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بتاتے ہیں اور یہ سود کی مخالفت کرنے والے لوگوں کو رجعت پسند، فرسودہ ، جاہل اور متشدد جیسے ناموں سے پکارتے ہیں، حالانکہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا معیشت دان خواہ وہ کینز ہو یا ملٹن فریڈمن کوئی بھی سود کی حمایت نہیں کرتا۔

سب کے سب اسے معاشی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ گزشتہ دہائی میں دنیا کا ہر بڑا معیشت دان صرف ایک ہی نعرہ بلند کرتا ہے کہ اس دنیا کی معاشی تباہی کا سب سے بڑا ذمہ دار سود پر مبنی بینکنگ سسٹم ہے۔ سٹیو کین کا لگایا ہوا یہ نعرہ "آئو بینکوں کو دیوالیہ کرو" اسوقت ایک مقبول ترین پکار بن چکی ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کا سرمایہ 43ہزار ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس ہے جنکو پانچ سو کے قریب بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ایک مخصوص گروہ کنڑول کرتا ہے۔ پھر ان سب کو بیس بڑے بینک کنٹرول کرتے ہیں جو عوام کی بچت اور اس بچت سے پیدا شدہ مصنوعی دولت ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دے کر پوری دنیا کی معیشت پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں۔ پھر اسی مصنوعی دولت سے دنیا کی سیاست، کاروبار بلکہ معاشرت کو بھی قابو کیے ہوئے ہیں۔ انہی بینکوں کی دولت سے جنگیں ہوتی ہیں، "اخلاق یافتہ" میڈیا چلتا ہے اور لوگوں کی معاشرت میں زبردستی چال چلن متعارف اور مقبول کروایا جاتا ہے۔

علامہ محمد اقبال جنہیں اللہ نے قرآن کے علم کا امین بنایا تھا، نے 1906ء میں اس پورے مکروہ معاشی نظام پر ایک کتاب تحریر کی جسکا نام "علم الاقتصاد"ہے۔ یہ کتاب لوگوں کی نظروں سے چھپا دی گئی تھی۔ لیکن اب اسے لاہور کے ایک پبلشر نے دوبارہ چھاپا ہے۔
یہ کتاب اس وقت لکھی گئی جب یہ بینکنگ سسٹم اپنی جڑیں مضبوط کر رہا تھا۔ اقبال کا ادراک اس سسٹم اور مصنوعی دولت کے بارے میں اس قدر وسیع تھا کہ وہ لکھتے ہیں:" بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بینک کم شرح سود کے عوض ایک سے روپیہ مستعار لیتے ہیں اور دوسرے کو زیادہ شرح سود کے عوض مستعار دے کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ کہ کہ بینک کبھی روپیہ قرض نہیں دیتا بلکہ ساکھ کے بل پر اپنی موجودہ زرنقد کی مقدار سے زیادہ کے اوراق جاری کر کے یا اعتبار کی اور صورتیں پیدا کر کے فائدہ اٹھاتا ہے"۔ یہ ہے وہ ادراک اور علم جو اللہ نے اقبال کو عطا کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پورے سودی نظام کو صرف ایک شعر میں سمو دیتے ہیں:

ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جواء ہے
سود ایک کا، لاکھوں کیلئے مرگ مفاجات

لیکن اگر ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک جیسے ادارے سود نہیں لیتے تو پھر پاکستان کونسے قرضے اور سود کی لعنت کا شکار ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان بیرونی قرضے ادا کرنا چاہے تو اسے سود نہیں دینا پڑے گا۔ اگر دینا بھی پڑا تو بہت ہی کم لیکن ہمارے حکمرانوں کو ملک کے اندر بینکوں سے قرض لینے کا ایک شوق اور جنون ہے۔ اس شوق کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ جو قرضہ انہوں نے بیرون ملک سے لیا ہوتا ہے وہ اسے بجٹ سے ادا نہیں کرتے بلکہ اسے اللوں تللوں میں خرچ کر دیتے ہیں اور اندرون ملک بینکوں سے مہنگے ریٹ پر سودی قرضے لے کر اسے واپس کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ ان بینکوں کے ساتھ انکے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ ان کے مالکان یا ان سے قرضہ لے کر ملیں بنانے والے سرمایہ داران کی پارٹیوں کے فنانسر ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ان بینکوں کے سرمائے سے پل کر موٹے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ اس سرمائے سے حکمرانوں کو بھی آڑے وقتوں میں مدد کرتے ہیں۔ خود بینک بھی اس مصنوعی دولت سے مہران بینک کی طرح سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس ملک کا اندرونی قرضہ بیرونی قرضے سے دن بدن کئی گنا بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اندرون ملک بینکوں سے سود پر قرض لے کر ملک کو چلانے کی لت اس قوم کو قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے ڈالی۔ 1972-73ء میں 17۔8 ارب روپے بینکوں سے قرض کے طور پر لیے گئے۔

اس مقصد کے لیے پہلے تمام بینکوں کو قومی ملکیت میں لیا گیا اور پھر لوگوں کے جمع شدہ سرمائے کو بے دردی سے خرچ کیا گیا۔ 1977ء میں جب وہ حکومت سے علیحدہ کئے گئے تو اس وقت ان کی مہربانیوں سے یہ ملک 32.7ارب روپے کا مقروض تھا۔ ضیاء الحق کو بیرونی امداد بھی ملتی رہی لیکن پھر بھی اندرون ملک بینکوں سے سود پر قرض لینے کی لعنت سے چھٹکارا حاصل نہ کیا۔ 1988ء میں جب اس کے طیارے کا حادثہ ہوا تو اس وقت ان بینکوں کا ملک پر 290.1 ارب روپے سودی قرضہ تھا۔ بینظیر (پہلا دور) ، 448.7 نواز شریف (پہلا دور) 608 ارب، بینظیر (دوسرا دور) 908.9 ارب، نواز شریف (دوسرا دور)1389.3ارب، پرویز مشرف 2610 ارب اور زرداری صاحب کے زمانے میں ان قرضوں کو پر لگ گئے اور یہ 7637ارب تک پہنچ گئے۔ اور اب صرف سودنوں میں ان بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں کی مقدار 8795 ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔

یہ ہے اس قوم کی بد بختی کی تاریخ۔ پرویز مشرف کے دور میں ان قرضوں میں 53 فیصد اضافہ ہوا، آصف علی زرداری کے زمانے میں 135 فیصد اور گزشتہ چند ماہ میں 169 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ لوگ ان قرضوں کو اتارنے کیلئے لوگوں پر ٹیکس لگاتے ہیں۔ ان کی بجلی، پٹرول ،گیس، تیل ، آٹا چینی مہنگا کرتے ہیں اور پھر یہ سب ٹیکس اکٹھا کر کے اپنے پیارے، چہیتے، منظور نظر اور مصیبت میں کام آںے والے بینکروں کو واپس کرتے ہیں۔ ان بینکوں میں سرمایہ بھی عوام کا ہوتا ہے۔ عوام سے ہی قرض لیا جاتا ہے اور پھر انہی پر ٹیکس لگا کر سود سمیت وصول کیا جاتا ہے اور پھر انہی کھاتے داروں کو واپس کیا جاتا ہے یعنی عوام کا جوتا زبردستی ان کے پائوں سے اتارا جاتا ہے اور پھر زور زور سے انکے سروں پر مارا جاتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے