مریض عشق کے بارے میں علاج معکوس کی بات کی جاتی ہے۔
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

یہی بیماری غربت اور امارت کے درمیان خلیج کی بھی ہے کہ عالمی سطح پر اس خلیج کے بڑی تیزی سے سکڑنے کی زبردست تشہیر کے برعکس یہ مسلسل اور مواتر پھیل رہی ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں میں اگر کوئی فرق پڑا ہے تو وہ یہ ہے کہ ’’سوشلزم‘‘ کے مقابلے میں ’’سوشل سروسز‘‘ کو ابھارنے کی کوشش میں ’’این جی اوز‘‘ نے بھی ایک صنعت کی صورت اختیار کرلی ہے۔ باقاعدہ ’’انڈسٹری‘‘ بن چکی ہے۔

جہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ بیس سالوں کے دوران امیر ترین انسان کی ماہوار کمائی میں کم از کم ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ عالمی سطح پر سرمائے کے بحران کے دوران بھی جاری رہا ہے وہاں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سرمائے کی دنیا میں ایک نیا رجحان سرمائے کی جبری جلا وطنی اور سرمائے کے اغوا برائے تاوان کا بھی ہے۔ جس طرح سمگلروں کو اپنے کاروبار کے لئے پاسپورٹ یا ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی ایسے ہی ’’کیپیٹل‘‘ بھی کوئی سرحد عبور کر کے کسی نئ سرحد کے اندر جاسکتا ہے اور جارہا ہے۔ یہ نیا رجحان سرمائے کی دنیا کے علاوہ سیاسی دنیا میں بھی غنڈہ گردی اور انتشار کی فضا پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن رہا ہے۔

ریاستی قرضوں۔ ریاست کے قرضوں میں مسلسل اضافے کی سب سے بڑی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ملٹی نیشنل اور امیر ترین لوگ قرار واقعی انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے اور اپنا سارا بوجھ ریاست پر ڈال دیتے ہیں اور اگر ریاستی دبائو میں آجاتے ہیں تو اپنی اور اپنے سرمائے کی ریاست بدل لیتے ہیں جس طرح مفاد پرست سیاست دان یہ کہہ سکتے ہیں کہ ٹھیک ہے اگر آپ کو میرے اصول پسند نہیں ہیں تو ان کو بدل لیتے ہیں۔ ویسے ہی سرمایہ پرست بھی ریاست بدلنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لیتے۔ بتایا جاتا ہے کہ روئے زمین پر کوئی ریاست ایسی نہیں ہے جو ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کی لوٹ مار سے محفوظ ہو۔ سرمائے کی اڑان مسلسل اور مواتر گھڑیوں کی سوئیوں کی طرح جاری رہتی ہے۔ جنرل الیکٹرک ایک سو آٹھ ارب ڈالروں کی فائزر 73 ارب ڈالروں کی مائیکر و سافٹ ساٹھ ارب ڈالروں کی، ایپل 54 ارب ڈالروں اور میرک 53 ارب ڈالروں کی سالانہ اڑان جاری رکھتے ہیں۔

صرف ساٹھ ملٹی نیشنل کارپوریشنیں ایک کھرب ڈالروں سے بھی زیادہ سرمایہ، سرمائے کی محفوظ جنتوں میں منتقل کررہے ہوتے ہیں اور ان سے پوچھنے کی جرات کسی کے پاس نہیں ہوتی۔ ایک اور اندازے کے مطابق دنیا کے امیر ترین لوگ ان جنتوں میں سالانہ 32 کھرب ڈالرز محفوظ کراتے ہیں اور دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی سے زیادہ رہنے کا حق چھین رہے ہوتے ہیں اور اس کے لئے جمہوریت کے نظام اور ٹریکل ڈائون اکانومی کی بے اصولیوں کو استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ 32 کھرب ڈالرز کرہ ارض کے تمام ملکوں کے مجموعی قومی قرضوں سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ کرہ ارض کے تمام ملکوں کے مجموعی قومی قرضوں کی مالیت چار کھرب ڈالروں سے زیادہ نہیں ہے۔تیسری دنیا میں کالی دولت سرمائے کی اڑان کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

ہندوستان کی سی بی آئی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق فروری 2012تک دنیا کے امیر ترین لوگوں نے سوئس بنکوں میں پانچ سو ارب ڈالروں کی مالیت کا چوری کا مال جمع کرایا۔ پاکستان کے گورنر سٹیٹ بنک یاسین انور صاحب نے دو اکتوبر کو بتایا تھا کہ روزانہ اڑھائی کروڑ ڈالرز پاکستان سے باہر پرواز کررہے ہیں یعنی سالانہ نو ارب ڈالرز جارہے ہیں جو آئی ایم ایف کی ’’بیل آئوٹ‘‘ سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے جو پاکستان نے تین سالوں میںوصول کی تھی۔یہ بھی بتایا گیا کہ سال 1990ء سے 2008ء تک کے دوران دنیا کے غریب ترین ملکوں انگولا، ایتھوپیا اور یمن سے بھی 197 ارب ڈالروں کی مالیت کے سرمائے نے پرواز کی۔ دو سو سال پہلے امیر ممالک غریب ملکوں سے تین گنا امیر تھے۔ آج امارت غربت سے 80 گنا زیادہ ہے۔ امیر ممالک غریب ملکوں کو سالانہ 130 ارب ڈالروں کی مدد دیتے ہیں اور تیسری دنیا سے سالانہ نو سو ارب ڈالروں کا ڈاکہ ڈالتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے