وزیر اعظم نواز شریف کے عرصہ اقتدار کا چھٹا مہینہ شروع ہونے کے بعدباوجود اس کے کہ حکومت نے معیشت کو استحکام دینے کیلئے ضروری اقدامات کئے ہیں مگر اسے اب بھی متعدد فوری حل طلب معاشی چیلنجوں سے نتیجہ خیز طور پر نبرد آزما ہونا ہے۔ ملک کی خارجی صورتحال سب سے زیادہ ابتری کا شکار ہے، گزشتہ دوماہ میں زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔ جس کی وجہ جاری کھاتوں کے خسارے میں ہوشربا اضافہ ہے، جس سے درآمدی بل میں اضافہ ہوا، سرمائے کے بہاؤ میں مکمل جمود جبکہ آئی ایم ایف سمیت بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا تسلسل بھی ہے۔

چونکہ مرکزی بینک روپے کی قدر میں اضافے کیلئے انٹربینک مارکیٹ میں مسلسل مداخلت کرتا رہا اس لئے زرمبادلہ کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہوئے۔ روپے کو خریدنے کیلئے زرمبادلہ کا استعمال زرمبادلہ کےذخائر میں انتہائی حد تک تنزلی کا موجب بنا اور اکتوبر کے اوائل تک زرمبادلہ کےذخائر کم ہوکر ارب ڈالر رہ گئےجو کہ ایک ماہ کی درآمدات کیلئے بھی ناکافی تھے تاہم اکتوبر کے آخر تک اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 4.2 ارب ڈالرز تک بحال ہوگئے تاہم اب بھی زرمبادلہ کےذخائر کا حجم اس حد میں ہے جوکہ 2008 میں بحران کی وجہ بنی تھی لیکن ایک اہم فرق یہ ہے کہ ابھی آئی ایم ایف کا پروگرام جاری ہے لیکن آئی ایم ایف اور دیگر قرضے دینے والوں کی ادائیگیاں حکومت کے سر پر منڈلا رہی ہیں۔ نومبر میں 74کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی ادائیگی تو صرف آئی یم ایف کو کرنی ہے جبکہ دیگر قرض فراہم کرنے والوں کو کتنی ادائیگی کرنی ہے یہ معلوم نہیں۔

اس وقت آئی ایم ایف کا ایک مشن فنڈز میں توسیع کی سہولت(ای ایف ایف) کے زمرے میں پاکستان کو دئیے گئے 6.6 ارب ڈالرز کے قرض کے حوالےسے سہ ماہی جائزے کیلئے اسلام آباد میں موجود ہے، مذکورہ قرض پر اتفاق رواں برس اگست میں ہوا تھا۔ اس جائزے کا انحصار آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان پر عائد کردہ متفقہ شرائط کے پورے ہونے پر ہے اور اس کے بعد آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس دسمبر کے وسط میں ہو گا جس میں قرض کی 54 کروڑ ڈالر کی قسط کی منظوری دی جائیگی۔ ملک کے معاشی منتظمین کیلئے چیلنج یہی ہے۔ آئندہ مہینوں میں آمد زر سے زیادہ انتقال زر کا امکان ہے اس بابت زرمبادلہ کی انتظام کاری خصوصی اہمیت کی متقاضی ہے خاص طور پر مارکیٹ کے اعتماد کو تہہ و بالا ہونے سے بچانے کیلئے۔ ای ایف ایف کی مرحلہ وار طرز پر قسطوں کی صورت میں فراہمی اور دیگر کثیرالاقومی ایجنسیوں سے مالی وسائل کی آمد میں درکار وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ تجزیہ کاروں نے آئی ایم ایف پروگرام کی ساخت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ اس میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں وقت لگے گا اور جس وقت انتقال زر آمد زر سے تجاوز کر جائے گا تو یہ پاکستان کو ایک ایسی نازک صورتحال میں لاکھڑا کرے گا کہ جس میں پاکستان اپنے بیرونی مالی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے میں مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔

ہوسکتا ہے کہ یہ سچ ہوکہ آئی ایم ایف ادائیگیوں کے توازن کو خاطر میں نہ لایا ہو، اسی لئے حکومت نے اس نازک صورتحال سے نکلنے کیلئے فوری طور پر اضافی رقم کا مطالبہ کیا ہو۔ لیکن پھر بھی اس صورتحال نے حکومت کو آئندہ 6 ماہ میں مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور مارکیٹ کو خوف کی فضا سے بچانے کیلئے زرمبادلہ کی ابتر صورتحال کی کمر توڑ انتظام کاری سے دوچار کردیا ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جبکہ آئندہ چار سے پانچ ماہ تک کثیرالاقومی اداروں اور باہمی شراکت داروں کی جانب سے وعدے کے مطابق رقوم آنے کا امکان نہیں، جوکہ آئی ایم ایف کے معاہدے سے بھی مشروط ہیں لہٰذا حکومت کو مہارت کے ساتھ یہ دور گزارنا ہوگا اور مارکیٹ کو یہ اشارہ دینا ہو گا کہ یہ منصوبے کے مطابق کام کر رہی ہے ساتھ ہی ادائیگیوں کے توازن کے مسئلے کو حل کرنے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کی جانب بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

اس چیلنج سے نبردآزما ہونے کیلئے حکومت کو ایک ناگزیر توازن برقرار رکھنے کا سامنا ہے کیونکہ مرکزی بینک پہلے ہی ملکی کرنسی کے دفاع اور زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے ضمن میں مشکلات کا شکار ہے، آغاز میں اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ خریداری شروع کرکے آئی ایم ایف سے کئے گئے وعدے کے مطابق عمل کیا لیکن بعدازاں اس نے راستہ بدل لیا خاص طور پر اندیشوں کے اس ماحول کے بعد جس نے مارکیٹ کو 26 ستمبر کے بعد اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس دن کرنسی مارکیٹ کا رجحان بری طرح اتار چڑہاؤ کا شکار ہوا کیونکہ شرح مبادلہ میں غیر معمولی تغیر دیکھا گیا۔ جس کے نتیجے میں مرکزی بینک کو روپے کی قدر میں اضافے کیلئے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر مداخلت کرنا پڑی۔ خوف کے اس ماحول میں غیر منظم مداخلتوں کا مقصد زرمبادلہ کےذخائر کو اس انتہائی نچلی حد تک جانے سے روکنا تھا جس کا حتمی نتیجہ زرمبادلہ کے خاتمے کے بعد ملکی کرنسی کے تحلیل ہونے کی صورت میں نکل سکتا تھا۔

اس خطرے سے نبردآزما ہونے کیلئے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کیلئے تسلسل کے ساتھ پیش اقدام کرنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی یہ یقینی بنانا ہوگا کہ شرح مبادلہ میں تبدیلی ایک ترتیب اور منصوبے کے مطابق ہو ناکہ اندیشوں کی فضا اور اندازوں پر مبنی کاروبار کے نتیجے میں ہو۔ ممکن ہے کہ یہ آسان نہ ہو۔ زرمبادلہ کے حوالے سے بدانتظامی کی قیمت اور عوام اور مارکیٹ کی توقعات اتنی زیادہ ہیں کہ معاشی منتظمین کو احتیاط کے ساتھ پیش قدمی کرنا ہوگی، ساتھ ہی یہ یقینی بنانا ہوگا کہ زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی نچلی ترین سطح تک نہ جائیں۔ یہ محاذ کمزور رہا جبکہ حکومت نے دیگر محاذوں پر مالی استحکام کیلئے ناگزیر اقدامات کرکے عزم کا مظاہرہ کیا۔ جس کی وساطت سے اس نے آئی ایم ایف پروگرام کیلئے ستمبر تک کارکردگی کے متعین کردہ اصولوں کو پورا کیا جس کی شرط آئی ایم ایف سے تکنیکی مفاہمت کی یادداشت میں عائد کی گئی ہے تاہم زرمبادلہ کے ذخائر کو مقررہ حد تک رکھنے کی شرط پوری نہ ہو سکی۔ 

بجٹ کی انتظام کاری کیلئے تسلسل کے ساتھ کوششیں معیشت کو ٹھیک کرنے کے اقدامات کا محور رہیں گی جبکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مالی خسارے کا ہدف مستحکم رہے گا۔ سب سے زیادہ ردوبدل بجلی کے نرخوں میں اضافے سے آیا۔ بالآخر بجلی کے نرخوں کے منصوبے کی بابت قومی خزانہ پر سے سبسڈی کا انتہائی ضخیم بوجھ کم ہوگا۔ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے پہلے مرحلے میں کمرشل، صنعتی اور بڑے پیمانے پر بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے سبسڈی کم ہونے کا امکان ہے جس کا سالانہ حجم 1.7 ارب ڈالرز کے برابر ہے۔ آمدنی کے زمرے میں مالی وسائل متحرک کرنے کی راہ میں پہلا قدم ٹیکسز کا دائرہ بڑھانے کیلئے 10 ہزار اضافی نوٹسوں کا اجراء رہا لیکن ان نوٹسوں کے نتیجے میں وصولی کو یقینی بنایا جانا اگلا اور زیادہ اہم قدم ہے۔

زیادہ اہم اقدام ٹیکس کی بنیاد میں اضافے کیلئے حکومت کی جانب سے وعدہ کئے گئے تین مرحلوں پر مبنی منصوبے پر عملدرآمد کرکے اسٹیچوری ریگولیٹری آرڈز(ایس آر اوز)۔ ایس آر اوز ٹیکس میں چھوٹ کا رعایتوں کا ایک ایسا شرمناک نظام ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔بالآخر حکومت ایک پارلیمانی ایکٹ کے ذریعے ایس آر اوز پر عملدرآمد کے خاتمے کی متمنی ہے لیکن اس مقصد کیلئے پہلے قدم کا منصوبہ اگلے ماہ دسمبر کیلئے بنایا گیا ہے جس میں ضروری ایس آر اوز(جو کہ آزادانہ تجارت کے حوالےسے بھی ہے) کو اسثتنیٰ اور رعایتوں سے علیحدہ کر کے ختم کر دیا جائےگا۔ اگر حکومت اس سمت میں قدم اٹھائے تو اس سے عوام کو ایک اہم پیغام جائے گا کہ وہ اپنے سیاسی مفادات پر عوامی مفاد کو ترجیح دیتی ہے۔ اس اقدام سے اسے مزید ٹیکس عائد کئے بغیر مالی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

حکومت رواں برس دسمبر میں گیس لیوی عائد کرے گی جس کا مقصد بھی مالی وسائل جمع کرنا ہے۔ اس اقدام کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو گی لیکن یہ حکومت کی اہلیت کا امتحان ہو گا کہ وہ متوقع مخالفت کے باوجود اصلاحی راہ پر گامزن رہے لیکن ابتدا میں توانائی کے شعبے کی ہمہ گیر تذویر کے تحت حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں پر ثابت قدم رہنا اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی سنجیدگی کا عکاس ہے۔

حکومت کے نجکاری کے منصوبے سے بھی ایک مثبت پیغام گیا ہے لیکن دیگرامور کی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ یہ کام کس طرح سرانجام دیا جاتا ہے۔ یہ کام انتہائی شفاف طریقے سے کیا جانا چاہئے جس میں جانبداری اور اقربا پروری سے احتراز کیا جائے۔ کامیابی کا تعین اس بات سے کیا جائے گا کہ کس طرح یہ اقدامات معیشت اور عام شہریوں کو مدد فراہم کرتے ہیں، جیسا کہ مثال کے طور پی آٗئی اے۔
جیسا کہ حکومت فوری حل طلب اور اہم مسائل حل کرنے میں کوشاں ہے اسے چاہئے کہ دو اہم امورپر بھی توجہ دے جو کہ موثر پالیسی کے عملدرآمد کیلئے لازمی ہیں۔ اول، اسے اپنے معاشی اقدامات کی وضاحت اور اس ضمن میں عوامی حمایت کے حصول کیلئے ایک ابلاغی تذویر کی ضرورت ہے، جو کہ آج کل کے 24 گھنٹے کے میڈیا زدہ ماحول میں اندیشوں میں گھری ہوئی معاشی صورتحال میں اعتماد پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے۔ دوم، حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں اداراجاتی اصلاحات کا عنصر نظر نہیں آتا، مثال کے طور پر ایف بی آر کیلئے اہل سربراہ کا تقرر ضروری ہےلیکن یہ اقدام کافی نہیں۔ اداروں کو مستحکم بنائے بغیر اچھی پالیسیوں کے موثر طور پر عملدرآمد کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے