گزشتہ دنوں کراچی میں بھارت کی تحقیق اور عالمی معاشی تعلقات کی کونسل (ICRIER)، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کے اشتراک سے پاک بھارت تجارت اور معاشی تعاون پر ایک دوسری رائونڈ ٹیبل کانفرنس منعقد کی گئی۔اس سے قبل پہلی رائونڈ ٹیبل کانفرنس10 جنوری 2013ء کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس (LUMS) کے زیر اہتمام منعقد کی گئی تھی۔ کانفرنس میں 4 اہم مسائل پر مذاکرات ہوئے اور پریذنٹیشن دی گئیں جن میں پاکستان اور بھارت کے بینکنگ مسائل، باہمی تجارت میں حائل رکاوٹیں (نان ٹیرف بیریئرز)، ٹیکسٹائل اور زرعی تجارت میں تعاون شامل تھیں۔ مجھے اس کانفرنس میں بھارت پاکستان کے مابین ٹیکسٹائل کی تجارت میں حائل رکاوٹوں، تیسرے ملک کے ذریعے غیر رسمی تجارت، دونوں ممالک کےمابین ٹیکسٹائل کے شعبے میں تعاون اور فروغ پر پریذنٹیشن دینے کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔

میری پریذنٹیشن میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین محمد زبیر، فیڈریشن کے صدر زبیر ملک، بشیر علی محمد، شبیر دیوان جبکہ بھارت سے ICRIER کے ڈائریکٹر راجات کوتیریا، پروفیسر نیشا تنے جا، جنوبی گجرات چیمبرز کے صدر کملیش یاگنیک اور دونوں ممالک کے ٹیکسٹائل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ممتاز بزنس مینوں نے شرکت کی۔ دن بھر جاری رہنے والی اس رائونڈ ٹیبل کانفرنس میں، میں نے شرکاء کے تعاون سے دونوں ممالک کیلئے اہم سفارشات مرتب کیں جو میں آج کے کالم میں اپنے قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا۔

میں نے اپنی پریذنٹیشن میں بتایا کہ ٹیکسٹائل دونوں ممالک کی معیشت کا ایک اہم سیکٹر ہے۔ پاکستان دنیا میں اس وقت کاٹن یارن برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اورعالمی منڈی میں اس کا شیئر 26% ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان دنیا میں تیسرا بڑا فیبرک برآمد اور چوتھا بڑا کاٹن پیدا کرنے والا ملک ہے۔ بھارت کی ٹیکسٹائل انڈسٹری چین کے بعد دنیا کی دوسری بڑی ٹیکسٹائل انڈسٹری ہے اور بھارت دنیا میں سلک پیدا کرنے والا دوسرا بڑا اور سینتھیٹک فائبر پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ پاکستان میں ٹیکسٹائل کا جی ڈی پی میں حصہ 8.5% جبکہ بھارت کا 4%، پاکستان میں مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ٹیکسٹائل کا حصہ 46% جبکہ بھارت کا 14% ہے۔

پاکستان میں یہ سیکٹر 15 ملین ملازمتیں فراہم کرتا ہے جبکہ بھار ت میں اس شعبے سے 45 ملین افراد کا روزگار وابستہ ہے، پاکستان کی مجموعی ٹیکسٹائل برآمد 13.07بلین ڈالر سالانہ جبکہ بھارت کی 29.10 بلین ڈالر سالانہ ہے، پاکستان کی ٹیکسٹائل کی مجموعی 2.61بلین ڈالر جبکہ بھارت کی 3.72 بلین ڈالر ہے، پاکستان اور بھارت کی ٹیکسٹائل کی اہم مارکیٹس امریکہ اور یورپ ہیں۔ پاکستان اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات کا 30% امریکہ اور 30% یورپی یونین کو برآمد کرتا ہے جبکہ بھارت اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات کا 19% امریکہ اور 34% یورپی یونین کو برآمد کرتا ہے، پاکستان میں ٹیکسٹائل کی فی کس کھپت 4 کلوگرام، بھارت میں 2.8 کلو گرام جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکسٹائل کی اوسطاً فی کس کھپت 17.7 کلوگرام ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں اس کی اوسطاً کھپت 4.5 کلو گرام ہے۔

بھارت میں متوسط طبقہ نہایت تیزی سے اوپر آرہا ہے جس کی وجہ سے بھارت میں ٹیکسٹائل کی فی کس کھپت میں اضافے کی توقع ہے۔ بھارت کے پاکستان میں ہائی کمشنر ڈاکٹر راگوان کے مطابق دونوں ممالک کی تجارت میں حال ہی میں اضافہ ہوا ہے اور اس وقت دونوں ممالک کی باہمی تجارت تقریباً 2.5 بلین ڈالر ہے جس میں بھارت کی پاکستان کو برآمد 2 بلین ڈالر جبکہ پاکستان سے بھارت کو برآمد 500 ملین ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں تقریباً 700 ملین ڈالر سے 2 بلین ڈالر کی اشیاء منفی فہرست میں شامل ہونے کی وجہ سے براہ راست بھارت سے درآمد کرنے کے بجائے تیسرے ملک خصوصاً دبئی اور سنگاپور کے راستے غیر رسمی طور پر درآمد کی جارہی ہیں جس کا نقصان دونوں ممالک کو ہورہا ہے، اس تجارت کو باضابطہ کرنے سے بھی دونوں ملکوں کی باہمی تجارت میں اضافہ ہو گا۔ ڈاکٹر راگوان کے مطابق واہگہ کے علاوہ کھوکھراپار، مونابائو سرحد سے ٹرین کے ذریعے تجارت سے بھی باہمی تجارت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین تجارت میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں بڑی گنجائش موجود ہے لیکن بھارت کی پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمد پر زیادہ کسٹم ڈیوٹی اور نان ٹیرف بیریئرز کی وجہ سے ٹیکسٹائل کے شعبے میں دونوں ممالک کی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا ہے جبکہ سافٹا جس کا پاکستان بھی ممبر ملک ہے کے تحت بھارت نے سری لنکا اور بنگلہ دیش کو بغیر کسٹم ڈیوٹی ٹیکسٹائل مصنوعات بھارت کے برآمد کرنے کی سہولت دے رکھی ہے۔ 2012ء میں بھارت کی پاکستان کو ٹیکسٹائل کی برآمد 242 ملین ڈالر رہی جس میں کاٹن، پولیسٹر یارن اور دیگر مصنوعات شامل ہیں جبکہ پاکستان کی بھارت کے لئے برآمد صرف 95ملین ڈالر رہی۔پاکستان بھارت سے ٹیکسٹائل مشینری بھی درآمد کرتا ہے اور 2011-12ء میں پاکستان نے بھارت سے 387 ملین ڈالر کی ٹیکسٹائل مشینری درآمد کی۔

میری پریذنٹیشن کے دوران گل احمد کے بشیر علی محمد نے بھارتی وفد کو بتایا کہ بھارت میں پاکستانی ہوم ٹیکسٹائل اور لان کی کافی طلب ہے لیکن بھارتی کسٹم حکام ہمارے کنٹینرز روک کر فیبرک کی ٹیسٹنگ کیلئے اسے کلکتہ کی لیبارٹری بھیج دیتے ہیں جس کی وجہ سے AZO فری رپورٹ آنے میں نہایت تاخیر ہوجاتی ہے اور ہمارے کنٹینر پورٹ پر پڑے رہتے ہیں جس سے اضافی لاگت آتی ہے۔ میں نے بھارتی وفد میں شامل پروفیسر نیشا تنے جا کو یاد دلایا کہ گزشتہ دور حکومت میں وزیر تجارت امین فہیم کے ساتھ ہم ایک وفد لے کر دہلی گئے تھے اور اس وقت کسٹم کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے میری سربراہی میں ایک میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستانی لیبارٹری کی رپورٹیں بھارتی کسٹم حکام کو قابل قبول ہوں گی لیکن اس فیصلے پر حقیقتاً عمل نہیں کیا جا رہا۔ اسی طرح بزنس مینوں کو آزادانہ بزنس ویزے دینے کیلئے دونوں ممالک کے مابین معاہدہ ہوچکا ہے لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہورہا۔ پاکستان نے بھارت کو ’’پسندیدہ ملک‘‘ کا درجہ MFN دینے کا وعدہ کیاتھا لیکن اب تک اس سلسلے میں سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا۔

دونوں ممالک کے وفود نے ان تمام حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کیلئے ایک فوکل کمیٹی قائم کی جس میں پاکستان کی طرف سے میرے علاوہ بشیر علی محمد اور شبیر دیوان شامل ہیں جبکہ بھارت کی طرف سے پروفیسر نیشا تنے جا، راجات کوتیریا، کملیش یاگنیگ اور برلا گروپ کے ادیتیا برلا شامل ہیں۔ پریذنٹیشن کے دوران میں نے دونوں ممالک کی قومی ٹیکسٹائل پالیسیوں کے اہم نکات پیش کئے اور بتایا کہ پاکستان اپنی 5 سالہ قومی پالیسی کے تحت ٹیکسٹائل کی موجودہ برآمد 13 بلین ڈالر سے بڑھاکر 25 بلین ڈالر تک لے جانا چاہتا ہے۔ پاکستان نے چین کے ساتھ FTA سائن کیا ہے اور اب دوسرے مرحلے میں ٹیکسٹائل گارمنٹس بھی بغیر کسٹم ڈیوٹی درآمد اور برآمد کئے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ یکم جنوری 2014ء سے یورپی یونین نے پاکستان کو بغیر ڈیوٹی جی ایس پی پلس کا درجہ دینے کا اعلان کیا ہے جس سے ہماری ٹیکسٹائل برآمدات میں 700 ملین ڈالر سے ایک بلین ڈالر تک اضافہ متوقع ہے۔ میں نے شرکاء کو بتایا کہ گزشتہ سال ہم نے دہلی میں 4 روزہ لائف اسٹائل پاکستان نمائش منعقد کی تھی جس میں پاکستان کے معروف فیشن ڈیزائنروں اور ٹیکسٹائل مینو فیکچررز نے حصہ لیا تھا۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کو بھارتی خواتین نے بے حد پسند کیا اور دوسرے دن ہی پاکستانی نمائش کنندگان کے تمام ملبوسات فروخت ہوگئے تھے۔اسی طرح بھارتی بزنس مینوں نے بھی پاکستان میں لاہور چیمبر کے ساتھ اسی طرح کی ایک نمائش کا انعقاد کیا تھا جس میں انہیں توقعات سے بڑھ کر رسپانس ملا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خطے میں پاکستان اور بھارت کے مابین ٹیکسٹائل کے شعبے میں نہایت پوٹینشل پایا جاتا ہے لہٰذا ہمیں باہمی تجارت کے فروغ کیلئے ایک دوسرے کو مقابلاتی حریف سمجھنے کے بجائے پارٹنر سمجھ کر ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہوگا جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے