پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ کے اس بیان سے کہ عوام ڈالروں کوفوری طور پر کیش کروالیں کیونکہ امریکی ڈالروں کی قدر میں بہت تیزی سے ایک دم کمی آنے والی ہے۔ ایک تاثر یہ ملتا ہے کہ امریکی ڈالرز افغانستان کی نیٹو سپلائی کی طرح کسی ’’سونامی‘‘ کی زد میں آنے والے ہیں۔ دوسرا تاثر یہ ملتا ہے کہ جناب اسحاق ڈار کے عوام وہ لوگ ہیں کہ جو ڈالروں کا کاروبار کرتے ہیں اور جنہوں نے پاکستانی روپوں کو امریکی ڈالروں میں بدلوا رکھاہے یعنی پاکستان کے عوام غریب نہیں ہیں غریب دکھائی دیتے ہیں اور ان کے بھاری مقدار میں امریکی ڈالرز خریدنے کی وجہ سے ہی ڈالروں کی قیمت میں اس قدر اضافہ ہوا ہے۔

اپنے ان عوام کی ہمدردی کے جذبے کے دبائو کے تحت وفاقی وزیر نے سرکاری راز کا ’’پرچہ آئوٹ‘‘کیا ہے کہ ڈالر کی قدر تیزی سے گرنے والی ہے عوام جن کے پاس ڈالرز ہیں ان کو فوری طور پر کیش کروالیں ورنہ نقصان میں رہیں گے۔ ایک تاثریہ بھی مل سکتا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ چاہتے ہیں کہ عوام ڈالر فروخت کردیں تاکہ مارکیٹ میں بہت زیادہ ڈالروں کی آمد سے ان کی قدر میںفوری طور پر ایک دم کمی آ جائے جس سے روپے کی قیمت میں اضافہ ہو جائے مگر جو ’’عوام‘‘ کروڑوں اربوںکی مالیت کے ڈالرز ملک سے باہر بھیج چکے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟اس ضمن میں وفاقی وزیر خزانہ کسی قیاس آرائی سے کام نہیں لے رہے ہوں گے کیونکہ انہوں نے فرمایا ہے کہ قیاس آرائیوں سےگریز کیا جائے۔

جناب اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی حکومت پی آئی اے کی نج کاری کرکے رہے گی، بجلی تقسیم کرنے کی کمپنیوں کو بھی لازمی طور پر نجی اداروں کے حوالے کردیاجائے گا، پنجاب کی صنعتوں کوسانس لیتے رہنے کے قابل بنانے کےلئے دو دن کی گیس سپلائی دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ چار سالوں میں یعنی موجودہ حکومت کے باقی ماندہ عرصہ میں 8000میگاواٹ بجلی بنائیں گے۔ انہوں نےیہ قیاس آرائی بھی فرمائی ہے کہ مالی خسارہ کم کرکے چار فیصدتک لایا جائے گا۔وفاقی وزیرخزانہ نے بتایا ہے کہ بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ ہماری حکومت نے نہیں کیا نگران حکومت نے کیا تھا۔قیاس آرائیوں سے گریز کے مشورے کے ساتھ ہونےوالی ان قیاس آرائیوں میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کا یہ اعلان بھی شامل کیا جا سکتا ہے کہ ملک میں خوشحالی کا دور آنے والا ہے اورقرضہ سکیم سے پاکستان کے نوجوان اپنے پائوںپر کھڑے ہوجائیں گے۔ بلاشبہ یہ کسی بھی ملک میں ہونے والا پہلا معجزہ ہوگا کہ کسی ملک کے نوجوان قرضے کے قدموں پر کھڑے ہو کر اپنے قدموں پرکھڑے ہوجائیں یعنی جو کام ان کا ملک گزشتہ چھیاسٹھ سالوں میں نہیں کر سکا وہ اگلے چار سالوں میں کر دکھائیں گے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکمرانوں کو یاد دلایا ہے کہ حکمرانوں کا ہنی مون ختم ہوچکا ہے جس کے خاتمے پر وہ بائیس دسمبر کو کرسمس سے پہلے لاہور میں تاریخی احتجاج منعقد فرمائیںگے۔ اگر قیاس آرائیوں سے گریز کامشورہ نہ دیاجاتا تو یہ قیاس آرائی ہوسکتی تھی کہ اس تاریخی احتجاج میں پروفیسر، ڈاکٹر، علامہ طاہر القادری بھی شریک یا شامل ہوسکتے ہیں۔ شدید سردی اور بھرپور دھندکے ماحول میں احتجاج کا یہ انعقاد بہت دلچسپ ہوسکتا ہے۔ہندوستانی پنجاب کے سب سے بڑے شہر لدھیانہ میں پاکستانی پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان اگر مل کر اقتصادی میدان میں ترقی کی جنگ لڑیں تو دونوں ملکوں کی اقتصادی ترقی مغرب کو حیران کردے گی۔ میاں شہباز شریف سے بہتر کوئی نہیں جانتا ہوگا کہ مغرب، شمال، جنوب اور مشرق کی کوئی ایسی حرکت برداشت نہیں کرسکتا جو حیران کردینےوالی ہو۔ ان میں دوسروں کے قدموں پر قدم رکھ کر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے والی حرکت بھی شامل ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے