’’دی نیوز‘‘ کے تازہ اتوار ایڈیشن میں ڈاکٹر فرخ سلیم نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ قرضوں کا کشکول توڑنے کا عہد کرنے والی پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت کے دوران پاکستان کے قرضوں میں اضافے کی موجودہ رفتار (روزانہ ایک ارب روپے) قائم رہی تو موجودہ حکومت کے پہلے اقتدار کے پانچ سال پورے ہونے تک پاکستان میں سانس لینے والا ہر فرد، مرد، عورت اور بچہ اڑھائی لاکھ روپے کا مقروض ہو چکا ہو گا۔

ڈاکٹر فرخ کے مطابق سال 2009ء میں پاکستان کا ہر سانس لینے والا فرد 46 ہزار روپے کا مقروض تھا۔ سال 2011ءمیں ہر پاکستانی 61 ہزار روپے کا مقروض ہو چکا تھا۔سال 2013ءکے آخری روز تک پاکستان میں دھڑکنے والا ہر انسانی دل ایک لاکھ روپے کے قرضے کے بوجھ کے نیچے دب چکا تھا۔ توجہ طلب حقیقت یہ ہے کہ جون 2013ء اور ستمبر 2013ء کے درمیانی عرصے میں پاکستان کے قرضوں اور دیگر واجبات کی مالیت، سٹیٹ بنک آف پاکستان کے مطابق ایک ٹریلین ایک ارب روپے تک پہنچ چکی تھی۔یہ وہ عرصہ ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت ہر روز چھ ارب روپے کے حساب سے غیر ملکی قرضہ وصول کررہی تھی۔ یہ بعد میں بتایا جائے گا کہ یہ سارے اربوں روپے کے قرضے کہاں گئے؟ اور کیسے خرچ کیے گئے پہلے یہ بتایا جائے کہ یہ ’’ٹریلین‘‘ کیا بلا ہے۔

انگریزی زبان کی بہت سی ڈکشنریاں اس بارے میں خاموش یا کنفیوزڈ پائی جاتی ہیں۔ آکسفورڈ ڈکشنری بتاتی ہے کہ کسی ہندسے کے ساتھ بارہ صفرے لگائیں تو اتنے ہی ’’ٹریلین‘‘ ہو جائیں گے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قدامت پسند کسی ہندسے کے ساتھ اٹھارہ صفرے لگائیں گے تو اتنے ٹریلین بنیں گے۔ ترقی پسندی کے تحت ’’ٹریلین‘‘ دس کھرب بنتا ہے تو سال 2014ء کے آغاز میں پاکستان کا ہر ذی روح دس کھرب ایک ارب کا مقروض ہو چکا تھا۔

ڈاکٹر فرخ سلیم تین سب سے بڑے ’’بلیک ہولز‘‘ بتاتے ہیں جو پاکستان کے غیر ملکی قرضے کھا گئے ہیں۔ پاکستان نے ہر سال ڈیڑھ ٹریلین روپوں سے زیادہ مالیت کے خرچے یا اخراجات ان تین ’’بلیک ہولز‘‘ میں غرق کرنے کی جرات اور ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ سال 2013-14ء کے دوران سب سے زیادہ کالے ’’بلیک ہول‘‘ یعنی ’’پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام‘‘ میں گیارہ کھرب پچاس ارب روپے (ایک ٹریلین پندرہ بلین) یا سالانہ قومی پیداوار کا پانچ فیصدی غرق کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کا کوئی احتساب نہیں ہوسکے گا۔ رواں مالی سال میں ریاست کی ملکیت کے اداروں کے سوا ٹریلین روپے کی مالیت کے نقصانات بھی برداشت کئے جائیں گے۔ اس برداشت کی مالیت بھی مجموعی سالانہ پیداوار G.D.P کے دو فیصد کے برابر ہوگی۔ سال 2013-2014ء کے دوان کموڈیٹیز آپریشنز کے ’’بلیک ہول‘‘ میں ایک سو ارب سے بھی زیادہ خرچ کئے جائیں گے۔ غیر ملکی قرضوں کو نگلنے والے تین بڑے ’’بلیک ہولز‘‘ کے ہاضمے کو دیکھا جائے اور سوا ٹریلین، پانچ سو ارب اور سو ارب کو جمع کیا جائے تو سالانہ بجٹ کا خسارہ پورا ہو جاتا ہے۔اندازہ لگایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار کے پہلے پانچ سالوں کی تکمیل تک پاکستان کے ہر فرد، مرد، عورت اور بچے پر قرضے کا بوجھ اڑھائی لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہو گا۔

یقینی بات ہے کہ اندازہ لگاتے وقت یہ بھی سوچا گیا ہوگا کہ اس وقت پاکستان کے مقروضوں کی آبادی کہاں تک پہنچ چکی ہوگی؟ڈاکٹر فرخ سلیم نے ولیم شیکسپئر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’وہ جو فوت ہو جاتا ہے اس کے تمام قرض ادا ہو جاتے ہیں۔‘‘ مگر آئی ایم ایف والے شائد ولیم شیکسپئر سے اتفاق نہیں کرتے ہونگے کیونکہ پاکستان میں آنے والے حکومتوں کو جانے والی حکومتوں کے قرضےبھی برداشت کرنے پڑیں گے اور ان کی ادائیگی کے لئے نئے قرضے لینے پڑیں گے جو چھ ارب روپے روزانہ سے بھی زیادہ بیش قیمت اور بھاری ہو سکتے ہیں چنانچہ جب تک کشکول موجود ہے۔ قرضے بھی واجب الادا رہیں گے۔ کشکول ٹوٹتا دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے