تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اسلامی مشاورتی گروپ نے پولیو مخالف فتاویٰ کی مذمت کردی
پولیو کے خاتمے کے لیے ویکسین سے متعلق ہر قسم کی ضمانت دینے کی پیش کش
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 3 رجب 1441هـ - 27 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 26 ربیع الثانی 1435هـ - 27 فروری 2014م KSA 20:32 - GMT 17:32
اسلامی مشاورتی گروپ نے پولیو مخالف فتاویٰ کی مذمت کردی
پولیو کے خاتمے کے لیے ویکسین سے متعلق ہر قسم کی ضمانت دینے کی پیش کش
محکمہ صحت کا ایک کارکن اسلام آباد میں ایک بچے کو پولیو کی ویکسین پلا رہا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

عالم اسلام سے تعلق رکھنے والے نمایاں علماء اور اسکالروں پر مشتمل اسلامی مشاورتی گروپ نے پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف فتاویٰ کو مسترد کردیا ہے۔ان فتاویٰ میں کہا گیا تھا کہ پولیو کی ویکسین پینے والے بچے بڑے ہوکر بانجھ پن کا شکار ہوسکتے ہیں۔

اسلامی مشاورتی گروپ کا سعودی عرب کے شہر جدہ میں دوروزہ اجلاس ہوا ہے۔العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں شریک قاہرہ کی تاریخی جامعہ الازہر سے تعلق رکھنے والے ایک سینیر عہدے دار عباس شومان نے کہا کہ ''پوری دنیا اس طرح کے فتاویٰ کو مسترد کرتی ہے کہ پولیو ویکسین سے بانجھ پن ہوسکتا ہے''۔

واضح رہے کہ پاکستان ،افغانستان ،نائیجیریا اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے بعض علماء نے ایسے فتوے جاری کیے ہیں جن میں پولیو کی ویکسین پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں تو خاص طور پر پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر مسلح افراد قاتلانہ حملے کررہے ہیں اور اب تک ان کے حملوں میں بیسیوں کارکنان اور ان کی حفاظت پر مامور سرکاری اہلکار مارے جاچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 1988ء کے بعد پولیو کے کیسوں میں 99 فی صد تک کمی واقع ہوئی ہے۔تب دنیا کے ایک سو پچیس ممالک میں اس مہلک مرض کے پینتیس لاکھ کیس پائے گئے تھے لیکن 2012ء میں دنیا بھر میں 223 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔

تاہم پاکستان ،افغانستان اور نائیجیریا میں پولیو کا مرض وبائی شکل اختیار کرچکا ہے اور ان ممالک میں گذشتہ پچیس سال سے جاری مہم کے باوجود اس مہلک وائرس پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے اور اس وائرس کے پھیلنے کے خطرات بدستور موجود ہیں۔

2013ء کے آخر میں عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف نے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں قریباً دو کروڑ تیس لاکھ بچوں کو پولیو کی ویکسین پلانے کی مہم شروع کی تھی۔یہ مہم خانہ جنگی کا شکار ملک شام میں پولیو کے نئے کیس سامنے آنے کے بعد شروع کی گئی تھی۔

شام میں 1999ء کے بعد پولیو کا وائرس پھیلا ہے۔اس ملک میں جاری خانہ جنگی سے قبل پولیو کے قطرے پلانے کی شرح 90 فی صد تھی لیکن اب یہ کم ہو کر 68 فی صد رہ گئی ہے۔شام میں پائے جانے والے پولیو کے وائرس کی جڑبنیاد کا پاکستان سے تعلق بتایا گیا تھا اور اس کے نمونے مصر ،اسرائیل ،غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں بھی پائے گئے تھے۔

اسلامی مشاورتی گروپ کے ایک رکن ایاد مدنی کاکہنا ہے کہ ''ان کا گروپ دنیا کے ممالک کو پولیو سے پاک بنانا چاہتا ہے اور ہم اس مہلک مرض کے خاتمے کے لیے ویکسین سے متعلق ضمانتیں دینے کو بھی تیار ہیں''۔

عالمی ادارہ صحت کے مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر علاءالعلوان کا کہنا ہے کہ ''ان کا ادارہ پولیو سے متاثرہ ممالک میں اس مرض کے خاتمے کے لیے حکومتوں ،مقامی تنظیموں اور مذہبی علماء کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے''۔

واضح رہے کہ پولیو کا مرض وائرس سے لاحق ہوتا ہے۔بالعموم آلودہ ماحول ،گندگی اور انسانی فضلات سے یہ پھیلتا ہے اورپانچ سال سے کم عمر بچوں میں ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔پولیو کا وائرس اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے اور یہ گھنٹوں میں اعصابی نظام کو ناکارہ کرکے جسمانی اعضاء کو مفلوج کردیتا ہے۔ بچوں میں معذوری کی صورت میں اس کی علامات ظاہرہوتی ہیں اور اس سے قبل اس کا مریض میں ہرگز بھی پتا نہیں چلتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند