تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
برمنگھم یونیورسٹی سے ’قدیم ترین‘ قرآنی نسخہ برآمد
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 2 صفر 1442هـ - 20 ستمبر 2020م
آخری اشاعت: بدھ 5 شوال 1436هـ - 22 جولائی 2015م KSA 21:31 - GMT 18:31
برمنگھم یونیورسٹی سے ’قدیم ترین‘ قرآنی نسخہ برآمد
سائنسدانوں کے مطابق قرآن کا یہ نادر ترین نسخہ بھیڑ یا بکری کی کھال پر لکھا گیا
العربیہ سٹاف رپورٹ

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ انہیں اپنی لائبریری سے قرآن کا ایسا قدیم ترین نسخہ ملا ہے، جو ممکنہ طور کسی ایسے شخص کا لکھا ہوا ہے، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں موجود رہا ہو گا۔

برمنگھم یونیورسٹی کے مطابق لائبریری سے ملنے والے قرآنی نسخے کا شمار اب تک ملنے والی قدیم ترین قرآنی تحریروں میں ہوتا ہے۔ ریڈیو کاربن ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ قرآنی نسخہ کم از کم 1370 برس پرانا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نسخے کو قدیم ترین قرآنی نسخہ قرار دیا جا رہا ہے۔

برمنگھم یونیورسٹی میں اسلام اور عیسائیت کے پروفیسر ڈیوڈ تھوماس کا کہنا تھا، ’’یہ (قرآنی نسخہ) ہمیں ماضی کے اس دور کے بالکل قریب لے جاتا ہے، جب اسلام کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں۔ یہ نسخہ ظہور اسلام کے صرف چند برس بعد لکھا گیا ہے۔ ‘‘

پروفیسر تھوماس کا کہنا تھا کہ اس قدیم ترین قرآنی نسخے پر جیسی آیات لکھی ہوئی ہیں، حقیقت میں وہ آج کے موجودہ قرآن سے بالکل مشابہت رکھتی ہیں، ’’ اس طرح قرآن سے متعلق اس دعوے کو بہت تقویت ملتی ہے کہ موجودہ قرآن بالکل ویسا ہی ہے، جیسا کہ اسلام کے ابتدائی برسوں میں جمع کیا گیا تھا۔‘‘

سائنسدانوں کے مطابق یہ قرآن بھیڑ یا بکری کی کھال پر لکھا گیا ہے اور اس پر قرآن کے اٹھارہ سے بیسویں پارے کی صورتوں کے حصے لکھے ہوئے ہیں۔ یہ قرآنی نسخہ سیاہی کے ساتھ عربی زبان کے حجازی رسم الخط میں لکھا ہوا ہے۔

ریڈیو کاربن ٹیسٹ کے مطابق یہ بات پچانوے فیصد درستی کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ جس کھال پر قرآن لکھا گیا ہے، وہ سن 568ء سے 645ء کے درمیان حاصل کی گئی اور پیغمبر اسلام بھی سن 570ء سے 632ء تک حیات رہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآنی نسخہ پیغمبر اسلام کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی زیادہ سے زیادہ تیرہ سے چودہ برس کے درمیان لکھا گیا۔

پروفیسر ڈیوڈ تھوماس کے مطابق کھال پر کیے جانے والے تجربات سے اس بات کا بھی قوی امکان موجود ہے کہ جس جانور کی کھال حاصل کی گئی تھی، پیغمبر اسلام کی حیات میں یا اس کے کچھ دیر بعد تک وہ بھی زندہ تھا۔

یہ قرآنی نسخہ یونیورسٹی کی مشرق وسطیٰ سے متعلق ان تین ہزار دستاویزات کا حصہ ہے، جنہیں 1920ء میں برمنگھم میں رہنے والے مسیحی مفکر اور کلڈین پجاری الفونس مينجانا نے حاصل کیا تھا۔ الفونس مينجانا عراقی شہر موصل کے قریب پیدا ہوئے تھے۔

یونیورسٹی نے کہا ہے کہ ملنے والے قرآنی نسخے کو اکتوبر میں عوامی نمائش کے لیے رکھ دیا جائے گا۔ برمنگھم کی مرکزی مسجد کے چیئرمین محمد افضل کے مطابق انہیں امید ہے کہ لندن بھر سے مسلمان اس قرآنی نسخے کو دیکھنے کے لیے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا، ’’جب میں نے یہ اوراق دیکھے تو میں بہت ہی متاثر ہوا، میری آنکھوں میں جذبات اور خوشی کے آنسو تھے۔‘‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند