تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب کے مقدس پہاڑوں کا ’تصویری تعارف’
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 22 ربیع الاول 1441هـ - 20 نومبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 12 رمضان 1438هـ - 7 جون 2017م KSA 07:12 - GMT 04:12
سعودی عرب کے مقدس پہاڑوں کا ’تصویری تعارف’
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ محمد الحربی

سعودی عرب کی سرزمین جہاں لق ودق صحراؤں پر مشتمل ہے وہیں اس میں جگہ جگہ چھوٹے اور بڑے کئی پہاڑی سلسلے بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں کئی پہاڑ اپنے تاریخی اور مذہبی تقدس کی بدولت خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ کچھ پہاڑ ایسے بھی ہیں جن کے نام اور تذکرہ آج سے ہزاروں قبل عرب شعراء کے کلام میں بھی ملتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک رپورٹ میں سعودی عرب کے ان مقدس پہاڑوں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ان کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ ذیل میں ان پہاڑوں کا احوال بیان کیا جا رہا ہے۔

الصفا اور المروۃ

الصفا اور المروۃ کو ’شعائر اللہ‘ یعنی اللہ کی نشانیاں قرار دیا گیا۔ یہ دونوں سعودی عرب کے مشہور پہاڑ ہیں۔ یہ وہ پہاڑ ہیں جن کے درمیان جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ حضرت ہاجرہ نے اپنے ننھے بیٹے اسماعیل کو چھوڑ کر پانی کی تلاش شروع کی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیاں رگڑنے کی جگہ سے پانی کا چشمہ جاری کیا۔

مسلمان قیامت تک حضرت ہاجرہ کی صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی یاد میں تا قیامت سعی کرتے رہیں گے۔

مکہ مکرمہ میں واقع جبل عرفات مشاعر مقدسہ میں شامل ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت آدم اور حواء علیہما السلام کی ملاقات ہوئی تھی۔ مسلمان حجاج کرام ہرسال مقام عرفات پر وقوف کرتے ہیں۔ عرفات میں وقوف حج کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔

جبل عرفات

نور نبوت کے گواہ تاریخی پہاڑ

حجاز مقدس کے کئی پہاڑ نُور نبوت کے عینی شاہد اور اس دھرتی پرظہور اسلام کے گواہ ہیں۔ انہی پہاڑوں میں ’جبل النور‘ جسے پرانے دور میں غار حرا اور جبل حرا کہا جاتا تھا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعلان نبوت سے قبل عبادت کے لیے جایا کرتے۔ یہی وہ مقام مقدس ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتہ پہلی وحی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہاڑ کو ’جبل النور‘ کا لقب دیا۔ یہ پہاڑی مسجد حرام سے شمال مشرق میں 642 میٹر بلند ہے۔ اس کی چوٹی اونٹ کی کوہان کی طرح بلند ہے۔

جبل النور۔

’جبل الثور‘ بھی نور نبوت کے گواہ مقامات میں سے ہے۔ یہ پہاڑ اور اس میں موجود غار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ھجرت مدینہ کی وجہ سے مشہور ہے۔ آپ اپنے گھر سے نکلنے کے بعد غار ثورمیں ٹھہرے۔ یہ پہاڑ مسجد حرام سے شمالا جنوبا پھیلا ہوا ہے جس کی بلندی قریبا 728 میٹر ہے۔ قرآن پاک میں ’اذ ھما فی الغار‘ کے الفاظ سے غار ثور کی جانب ہی اشارہ ہے۔

جبل الثور۔

مقدس پہاڑیاں

سعودی عرب میں کئی اور پہاڑیاں بھی مقدس مذہبی درجہ رکھتی ہیں۔ ان کا تذکرہ احادیث نبوی میں بھی تواتر کے ساتھ ملتا ہے۔ جبل احد اور جبل ورقان کو ’جنت کی پہاڑیاں‘ کہا جاتا ہے۔ جبل احد مشہور زمانہ جنگ احد کی وجہ سے تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گا۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو حاصل ہوئی فتح اچانک شکست میں بدل گئی تھی۔

جبل ورقان

امام بخاری کی مرتب کردہ بخاری شریف کی شرح فتح الباری میں ایک حدیث میں اللہ کے رسول کے فرمایا کہ ’جبل احد ہم سے اورہم اس سے محبت کرتے ہیں اور یہ جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے‘۔

جبل ورقان کا پرانا نام جبل حمت بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جبل ورقان بھی جنت کے پہاڑوں میں شامل ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہاڑ کے قریب سے گذرے توآپ نے [صحابہ سے] پوچھا کہ کیا آپ اس پہاڑ کا نام جانتے ہیں؟ پھر آپ نے خود ہی جواب دیا اور فرمایا کہ اس کا نام ‘حمت‘ ہے اور یہ جنت کے پہاڑوں میں سے ایک ہے۔ اللہ اس پہاڑ اور اس کے مکینوں پر برکت نازل کرے‘۔

جبل حمت یا ورقان مدینہ منورہ کی پہاڑیوں میں سےایک ہے۔ اس کی بلندی سطح سمندر سے 2400 فٹ ہے۔

جبل حومل

جبل الدخول

عرب اشعار میں پہاڑوں کا تذکرہ

قدیم عربی اشعار میں ’الدخول اور حومل‘ دو پہاڑی چوٹیوں کے نام بہ کثرت ملتے ہیں۔ خاص طور پر ان پہاڑوں کا تذکرہ دور جاہلیت کے شاعر امراء القیس نے کیا ہے جو اس کے معلقات میں آج بھی موجود ہے۔ یہ دونوں پہاڑ نجد کی بلندیوں پر واقع ہیں۔ ان کا خاص مقام جفر الصاقب ہے جو سعودی عرب کے الریاض شہر سے مغرب میں 500 کلو میٹر دور ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند