مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو سابق امریکی صدر ہنری ٹرومین سے تشبیہ دی۔ آج سے ستر برس قبل آنجہانی ٹرومین نے اسرائیل اور امریکا کے درمیان تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ صدر ہنری ٹرومین کے دور میں امریکا نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ قیام اسرائیل کے کچھ ہی عرصے بعد امریکا نے صہیونی ریاست تسلیم کرلی تھی مگر اسرائیل کے ستر سالہ سفر میں امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات میں اتار و چڑھائو آتا رہا ہے۔

واشنگٹن میں العربیہ کی نمائندہ خصوصی نے اپنی ایک رپورٹ میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان بنتے بگڑتے تعلقات کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے۔

سنہ 1948ء کو امریکا کے ڈیموکریٹک صدر ہیری ٹرمین نے نوائدہ صہیونی ریاست کو تسلیم کر لیا۔ امریکا پہلا ملک تھا جس نے فلسطین میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کیا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا امریکی فیصلہ نہ صرف نہ صرف عالمی سطح پر وجہ نزاع بنا بلکہ امریکی وزارت خارجہ میں بھی اس باب میں اختلافات سامنے آئے۔

کیرون مڈل ایسٹ اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر شائی فیلڈمن کا کہنا ہے کہ قیام اسرائیل کے وقت امریکا کا عمومی مفاد عرب ممالک سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اور تیل کی دولت کے تناظر میں امریکا اپنے مفادات کی قربانی نہیں دینا چاہتا تھا، مگر صدر ٹرومین کی طرف سے صہیونی تحریک کی غیر مشروط حمایت کے نتیجے میں امریکا، اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا۔

صہیونی تحریک نے دوسری عالم جنگ کے بعد ہولوکاسٹ سے بچنے والے یہودیوں کو سنہ 1946ء میں فلسطین میں آباد کرنے کے لیے برطانیہ پر دباؤ ڈالا گیا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے باوجود امریکا نے مغربی القدس پر صہیونی ریاست کا تسلط تسلیم نہیں کیا۔

سنہ 1956ء میں فرانس اور برطانیہ کی مدد سے غزہ کی پٹی اور مصر کے جزیرہ سیناء پر قبضے کے بعد امریکی صدر ڈوائیٹ آئزن ہاور نے اسرائیل پر تجارتی پابندیاں عاید کرنے اور اسرائیل کو دی جانے والی 10 کروڑ ڈالر کی امداد روکنے کی دھمکی دی۔ اگرچہ بعد ازاں اس دھمکی پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

سنہ 1962ء میں ڈیموکریٹ صدر جان ایف کینیڈی پہلے امریکی صدر تھے جنہوں نے اسرائیل کو اسلحہ کا بنیادی نظام فراہم کرنے کی منظوری دی۔ وزارت خارجہ کی سخت مخالفت کے علی الرغم صدر آئزن ہاور نے اسرائیل کو میزائل شکن ’ہاک‘ سسٹم مہیا کیا۔

سنہ 1967ء کی جنگ جسے عرب ممالک نے ‘النکسہ‘ [یعنی قیامت صغریٰ] کے دوران امریکا نے اسرائیل کی مدد کی۔ چھ روز تک جاری رہنے والی اس جنگ میں اسرائیل نے جن عرب علاقوں پر قبضہ کیا تھا امریکا نے انہیں خالی کرانے کے لیے تل ابیب پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ اس کے بعد ’زمین کے بدلے امن‘ کی اصطلاح مشہور ہوئی مگر القدس کے بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ سابق خاتون سفارت کار لارا فریڈمن کا کہنا ہے کہ سنہ 1967ء کے بعد امریکا نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے پر غور شروع کردیا تھا۔ امریکا فریقین کے درمیان کسی ایسے حل کا خواہاں تھا جس میں القدس بھی شامل ہو۔

سنہ 1974ء میں کانگریس میں ری پبلیکن کے رکن جیرالڈ فورڈ نے پہلی بار امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی آواز بلند کی۔ دو سال کے بعد جب جیرالڈ فورڈ صدر منتخب ہوئے تو امریکا میں متعین اسرائیلی سفیر اضحاک رابین نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ القدس کے بارے میں اپنی رائے کو عمل شکل دیں۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھا شخص معاملات کو مختلف انداز سے دیکھتا ہے۔

سنہ 1975ء میں صدر جیرالڈ فورڈ نے اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت بند کر دی اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر نظر ثانی کی بھی دھمکی دی۔ تاہم اسرائیل نے مصر کے ساتھ معاہدہ کرکے جزیرہ نما سیناء کا علاقہ خالی کر دیا اور یوں وہ امریکی پابندیوں سے بچ گیا۔

سنہ 1979ء میں ڈیموکریٹ صدر جمی کارٹر نے میری لینڈ میں مصر اور اسرائیل کے درمیان مشہور زمانہ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرایا۔ اس معاہدے کے بعد امریکا نے کو بھاری مالی اور دفاعی امداد کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔

سنہ 1989ء میں صدر رونالڈ ریگن نیٹو سے باہر اسرائیل کے پہلے حلیف بن گئے۔ اس اتحاد کے نتیجے میں اسرائیل کو مالی اور دفاعی فواید مہیا کیے گئے۔ لبنان جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے عراق کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بھی رہی، تاہم وقت گذرنے کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی شراکت داری بڑھتی چلی گئی۔

سنہ 1993ء میں صدر بل کلنٹن نے تحریک 'فتح' کے بانی اور تنظیم آزادی فلسطین کے بلا شرکت غیرے قائد یاسر عرفات مرحوم اور اسرائیلی وزیر اعظم آنجہانی اضحاک رابین کے درمیان اوسلو معاہدہ کرایا۔

سنہ 1997ء میں سلامتی کونسل میں بیت المقدس میں جبل ابوغنیم کے مقام پر یہودی آباد کاری کی مذمت میں قرارداد پیش کی گئی تو امریکا نے ’ویٹو‘ پاور استعمال کرتے ہوئے یہ قرارداد ناکام بنا دی۔ تجزیہ نگار تھامس فریڈمن کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد نے یہ پیغام دے دیا کہ اسرائیل اوسلو معاہدے کی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔

سنہ 2000ء میں صدر بل کلنٹن نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کی ناکام کوشش کی۔ امریکا اور اسرائیل نے ان مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری یاسرعرفات پرعاید کی۔

سنہ 2005ء میں ری پبلیکن صدر جارج ڈبلیو بش پہلے امریکی صدر تھے جنہوں نے پہلی بار فلسطینی ریاست کی تشکیل کی بات کی۔

سنہ 2009ء سابق صدر باراک اوباما نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین میں یہودی آباد کاری بند کر دے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے صدر اوباما کا مطالبہ مسترد کردیا۔ جب تک اوباما اقتدار میں رہے اسرائیل اور امریکا کے درمیان تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی رہی حالانکہ صدر اوباما نے امن بات چیت کی بحالی کی بھی کوششیں کیں جو کامیاب نہیں ہوسکیں۔

سنہ 2010ء میں ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اسرائیل نے مشترکہ انٹیلی جنس اور ملٹری آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن میں ’سائبر ورم‘ کی تیاری اور اس کے استعمال کے تجربات کیے گئے۔ فریڈمن کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی میدان میں تعاون کافی پرانا ہے مگر مشترکہ انٹیلی جنس اور ملٹری آپریشنز میں شرکت باہمی اعتماد کا اظہار ہے۔

سنہ 2016ء میں امریکی صدر باراک اوباما کے آخری دور میں سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی گئی۔ اس قرارداد میں فلسطین میں یہودی آباد کاری کی مذمت کی گئی۔ تاہم یہ قرارداد امریکا کی طرف سے ویٹو نہ ہونے کے باعث منظور کی گئی۔