تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا اسلام 2040ء میں امریکا کا دوسرا بڑا مذہب بن جائے گا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 5 صفر 1440هـ - 16 اکتوبر 2018م
آخری اشاعت: جمعرات 23 ربیع الثانی 1439هـ - 11 جنوری 2018م KSA 18:59 - GMT 15:59
کیا اسلام 2040ء میں امریکا کا دوسرا بڑا مذہب بن جائے گا؟
امریکا میں مقیم مسلمان نیویارک میں ایک مسجد میں نماز ادا کررہے ہیں۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکا میں مسلمان آیندہ دو عشروں کے دوران میں دوسرا بڑی مذہبی گروپ بن جائیں گے اور اسلام اس ملک کا دوسرا بڑا مذہب ہوگا ۔

اس بات کا دعویٰ امریکی کیبل نیوز نیٹ ورک ( سی این این) نے ایک رپورٹ میں کیا ہے اور یہ پیو ریسرچ کے ایک مطالعے پر مبنی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق امریکا میں مسلمان آباد ی بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے اور یہ ایک تخمینے کے مطابق آیندہ تین عشروں میں دُگنا سے بھی بڑھ سے جائے گی۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ 2017ء میں امریکا میں مسلمانوں کی آبادی قریباً ساڑھے چونتیس لاکھ تھی ۔2050ء میں یہ بڑھ کر اکیاسی لاکھ ہوجائے گی۔اس عرصے کے دوران میں مسلمانوں کی تعداد یہود سے بڑھ جائے گی اور وہ عیسائیوں کے بعد دوسرا بڑا مذہبی گروپ بن جائیں گے۔

پیو نے 2007ء ، 2011ء اور 2017ء میں مذہب کی بنیاد پر امریکا میں مقیم لوگوں کی تعداد سے متعلق اپنے مطالعات کو یک جا کیا ہے اور ان مطالعات کی ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی ہے۔اس ضمن میں اس نے امریکا کی مردم شماری کی سالانہ رپورٹس سے اعداد وشمار لیے ہیں اور ان کی بنیاد پر مستقبل میں امریکا میں مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ لگایا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق 2016ء میں مسلمان تارکینِ وطن ریکارڈ تعداد میں امریکا میں آئے تھے ۔اس وقت امریکا میں مقیم مسلمانوں میں تین چوتھائی تارکینِ وطن ہیں یا ان کی اولاد ہیں۔

پیو کے مطابق مسلمانوں کی اوسط آبادی دوسرے مذہبی گروپوں کے مقابلے میں زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ان میں بچوں کی شرح پیدائش بھی زیادہ رہے گی ۔

تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آیندہ چند عشروں میں مسلمانوں کی تعداد تو ضرور دُگنا ہوجائے گی لیکن کل ملکی آبادی میں ان کی تعداد بہت تھوڑی ہی ہوگی۔نیز عیسائیوں کی آبادی امریکا میں پہلے نمبر پر ہی رہے گی۔ان کے بعد لامذہبوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔یعنی وہ لوگ جو سرے سے کسی دین کو مانتے ہی نہیں ہیں۔

نقطہ نظر

قارئین کی پسند