تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حج اور عمرے سے متعلق مطالبات مضحکہ خیز اور سیاسی ہیں: سینیٹر پروفیسر ساجد میر
سعودی حکومت کی معاشی اصلاحات اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات نے اپنے نتائج دکھانا شروع کر دیے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 11 صفر 1440هـ - 22 اکتوبر 2018م
آخری اشاعت: جمعرات 29 جمادی الاول 1439هـ - 15 فروری 2018م KSA 21:40 - GMT 18:40
حج اور عمرے سے متعلق مطالبات مضحکہ خیز اور سیاسی ہیں: سینیٹر پروفیسر ساجد میر
سعودی حکومت کی معاشی اصلاحات اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات نے اپنے نتائج دکھانا شروع کر دیے
جمعیت اہلِ حدیث کے صدر اور پارلیمان کے ایوان بالا کے رکن پروفیسر ساجد
اسلام آباد - منصور جعفر

پاکستان کی دینی وسیاسی جماعت مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے صدر اور پارلیمان کے ایوان بالا کے رکن پروفیسر ساجد میر نے ایرانی قیادت اور بعض دوسرے ممالک کی جانب سے حج اور عمرے کے انتظامات کو سعودی عرب کے کنٹرول سے واپس لے کر ایک بین الاقوامی کمیٹی کے سپرد کرنے کے مطالبے کو مضحکہ خیز اور سیاسی محرکات کا حامل قرار دیا ہے۔

پروفیسر ساجد میر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ سعودی نظام کے معاندین اس کی شہرت کو داغدار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ یہ معاندین یہ بے بنیاد دعویٰ کرتے ہیں کہ عازمینِ حج کے لیے سکیورٹی اور سہولتوں کا فقدان ہوتا ہے لیکن ان کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز اور بے سروپا ہے‘‘۔

حرم مکی

پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ ’’ عازمین ِ حج اور عمرے کے لیے سہولتوں اور خدمات میں مسلسل بہتری ہمیشہ سعودی قیادت کی ترجیح رہی ہے اور انھوں نے معاشی تنگی کے زمانے میں بھی ضیوف الرحمان کو مہیا کی جانے والی سہولتوں میں کوئی کمی نہیں ہونے دی ۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں الحرمین الشریفین اور دوسرے مقدس مقامات کی توسیع کا سلسلہ گذشتہ چار عشروں سے جاری ہے اور اس پر بھاری رقوم صرف ہوتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ میں جب بھی سعودی عرب گیا ہوں تو میں نے الحرمین الشریفین میں توسیع ہی دیکھی ہے اور ان کی عمارات اور ڈھانچے میں اس توسیع کے نتیجے میں تو اس حد تک تبدیلی ہوجاتی ہے کہ ان کی جگہوں کو پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت ہمیشہ سے عازمینِ حج کو بہتر سے بہتر سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اقدامات کرتی رہی ہے۔

انھوں نے العربیہ کو بتایا کہ اب مقدس شہروں کو ٹرین کے دونظاموں کے ذریعے ہوائی اڈوں سے ملایا جارہا ہے۔یہ فاسٹ ٹرین اور لنک ٹرین کا نظام ہے۔طائف شہر میں ایک نیا ہوائی اڈا تعمیر کیا جارہا ہے تاکہ جدہ پر حج پروازوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے.

پروفیسر ساجد میر

سعودی معیشت

پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی معیشت میں گذشتہ چند ماہ سے بہتری آنا شروع ہو گئی ہے اور حکومت کی معاشی اصلاحات ، نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات نے اپنے نتائج دکھانا شروع کر دیے ہیں۔

انھوں نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت نے تیل کی معیشت پر انحصار کم کرنے کے لیے دلیرانہ اقدامات کیے ہیں ۔ان میں اشیاء کی فروخت پر جنرل سیلز ٹیکس اور تارکینِ وطن پر مختلف ٹیکسوں کا نفاذ ، اشیائے ضروریہ پر زر تلافی کا خاتمہ اور گھریلو صارفین کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔ بدعنوانیوں کے الزام میں سرکردہ شہزادوں ، کئی سابق اور موجودہ وزراء کی گرفتاریاں کوئی معمولی معاملہ نہیں اور ان میں سے بہت سوں نے قومی خزانے سے لوٹی گئی اربوں ریال کی واپسی سے اتفا ق کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سعودی مملکت کے پالیسی سازوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں عوام کومہیا کی جانے والی سہولتوں میں کسی طرح کمی ہو اور نہ ان پر کوئی اضافی بوجھ پڑے۔

سعودی عرب کا دورہ

پروفیسر ساجد میر حال ہی میں سعودی عرب کے دورے سے لوٹے ہیں۔ان کا سعودی عرب کی معاشی اصلاحات کے حوالے سے موقف تھا کہ اس نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے پیش نظر اب اپنی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلی کی ہے اور تیل کی معیشت پر بتدریج انحصار کم کرنے کے لیے ویژن 2030ء کے تحت سخت معاشی اقدامات کیے ہیں۔کرپٹ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن بھی اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔اب سعودی عرب کی اسٹاک مارکیٹ مضبوط ہوئی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار مملکت میں نئے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی تلاش میں ہیں۔

سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ ریاستی مشینری میں کرپشن کے حوالے سے کسی سے بھی رو رعایت نہ برتنے (زیر ٹالرینس) کی پالیسی اب ایک عالمی قدر بن چکی ہے۔غیر ملکی تارکین وطن پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ کو ایک بوجھ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ سعودی مملکت کی اپنے شہریوں کو غیرملکی ملازمین کی جگہ ذمے داریاں سونپنے اور تعینات کرنے کی خواہش کا مظہر ہیں۔سعودی عرب اپنی مقامی افرادی قوت کو بروئے کار لانا چاہتا ہے تاکہ قیمتی زرمبادلہ کو بچایا جاسکے اور سعودیوں کی بڑی تعداد حکومت کے وظائف پر گزارہ کرنے کے بجائے خود کوئی کام کاج کرے۔

حوثی ملیشیا

یمنی حوثی

پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ سعودی مملکت پر مختلف سمتوں سے لاحق سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے سخت دباؤ تھا کیونکہ اس کو ان خطرات سے نمٹنے کے لیے بھاری رقوم بھی صرف کرنا پڑتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مختلف شہروں کی جانب اب تک سیکڑوں میزائل فائر کیے ہیں اور ان میں ایک بیلسٹک میزائل مکہ مکرمہ کی جانب بھی فائر کیا گیا تھا لیکن خوشی قسمتی سے سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے ان تمام میزائلوں کو فضا ہی میں ناکارہ بنادیا تھا ۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ کئی سال سے سعودی عرب کو اپنی اہم تنصیبات پر دہشت گردی کے حملوں کا سامنا رہا ہے۔ غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد اور سعودی عرب کے اندر درانداز ی میں کامیاب ہونے والے باغی گروپ یہ حملے کرتے رہے ہیں لیکن مملکت کی سکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے ان دہشت گرد اور تخریبی عناصر کے مذموم مقاصد کو ناکام بنا دیا ہے اور ان کا قلع قمع کر دیا ہے۔

نقطہ نظر

قارئین کی پسند