سعودی عرب میں سینیما فلموں کی درآمد اور تقسیم کا لائسنس حاصل کرنے والی پہلی مقامی خاتون خلود عطار کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک مملکت میں فلمی صنعت کا مستقبل تابناک ہے اور یہ ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے خلود کو مذکورہ لائسنس حاصل کرنے پر مجبور کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "میں نے چاہا کہ اس اہم سیکٹر میں میرا کردار بھی ہو۔ میری توجہ کا مرکز غیر ملکی فلمیں نہیں بلکہ سعودی فلمیں ہوں گی"۔

سعودی آرٹس کونسل کی رکن خلود کے مطابق لائسنس کے حصول میں انہیں مشکلات کا سامنا نہیں ہوا اور ہفتہ دس روز کے اندر تمام کارروائی مکمل ہو گئی۔

امریکی جریدے فوبز نے خلود عطار کو سعودی عرب کی متاثر کن شخصیات کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ خلود کے مطابق انہوں نے سب سے پہلے "بلال" نام کی فلم اور بعض دیگر سعودی مختصر فلموں کی تقسیم کے حقوق حاصل کیے ہیں۔

خلود کا کہنا ہے کہ سعودی معاشرہ ایسی کہانیوں سے بھرپور ہے جن کو تاریخی یا سماجی پہلو سے فلم کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

خلود کے مطابق فن کی دنیا سے ان کی دل چسپی نے اچانک جنم نہیں لیا بلکہ وہ گزشتہ 10 برسوں سے ڈیزائننگ سے متعلق ایک رسالہ نکال رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک دہائی کے اندر انہیں مملکت کے اندر گرافکس، سول انجینئرنگ اور فوٹوگرافی کے شعبوں میں جدت اور مہارت کے حامل بہت افراد نظر آئے جن کا کام سامنے نہیں آ سکا۔ خلود کے مطابق ماضی میں لوگ مواقع اور حکومتی سپورٹ نہ ہونے کو حجت بناتے تھے تاہم اب معاملہ مختلف ہے۔