تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب نے ہمیشہ اور ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے:عمران خان
سی پیک کے تحت اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے مواقع سے سعودی عرب فائدہ اٹھا سکتا ہے: خصوصی انٹرویو
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: پیر 12 جمادی الثانی 1440هـ - 18 فروری 2019م KSA 09:22 - GMT 06:22
سعودی عرب نے ہمیشہ اور ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے:عمران خان
سی پیک کے تحت اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے مواقع سے سعودی عرب فائدہ اٹھا سکتا ہے: خصوصی انٹرویو
 
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ ہماری ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ رہا ہے۔ دونوں ممالک کو اپنے دوطرفہ تعلقات سے ماورا دیکھنے کی ضرورت ہے اور اوّل الذکر ثانی الذکر کے ہاں پاک چین اقتصادی راہداری کے ساتھ ساتھ قائم کیے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز میں شرکت کرکے فائدہ اٹھا سکتا ہے کیوں کہ اس کی پھر چین تک بھی رسائی ہوجائے گی۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان ’’العربیہ‘‘ نیوز چینل کے نمائندہ خصوصی کو انٹرویو دے رہے ہیں

انھوں نے یہ باتیں العربیہ نیوز سے خصوصی انٹرویو میں کہی ہیں۔ ان سے یہ انٹرویو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اتوار کی شب پاکستان آمد سے قبل لیا گیا تھا ،لہٰذا اس کو اسی تناظر میں پڑھا جائے۔ وزیراعظم عمران خان کے العربیہ سے اس خصوصی انٹرویو کی اردو زبان میں مکمل تفصیل ملاحظہ کیجیے:

العربیہ : جناب وزیراعظم ! بہت شکریہ کہ آج آپ ہمارے ساتھ ہیں۔

عمران خان: یہ میرے لیے بھی خوشی کا موقع ہے۔

العربیہ : جناب وزیراعظم سعودی ولی عہد ایشیا کے دورے کے پہلے مرحلے میں اسلام آباد آرہے ہیں۔ان سے ایک سربراہِ ریاست کا سا معاملہ کیا جارہا ہے۔آپ بہ نفسِ نفیس ان کا استقبال کریں گے اور خود کار چلاتے ہوئے معزز مہمان کو وزیراعظم ہاؤس لے جائیں گے۔انھیں پاکستان کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازیں گے ۔آپ اس دورے کو کیسے دیکھتے ہیں؟

عمران خان : پہلی بات تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کے عوام کی سعودی عرب کے ساتھ ہمیشہ سے ایک خاص تعلق داری رہی ہے۔اس تعلق کے دو پہلو ہیں۔ایک مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور الحرمین الشریفین کی وجہ سے سعودی عرب پاکستانیوں کے دلوں میں بستا ہے۔ ہر پاکستانی مسلمان مکہ اور مدینہ منورہ جانا چاہتا ہے۔یہ تو سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا ایک پہلو ہے۔دوم ، سعودی عرب ہمیشہ ہماری ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ رہا ہے۔بہت مرتبہ تو یہ مشکل وقت خود ہماری غلط پالیسیوں کے نتیجے میں ہم پر آیا۔اس کے علاوہ بھی ہمیں مشکل حالات کا سامنا رہا ہے۔جب بھی پاکستان کو تباہ کن جنگوں ، زلزلوں ، سیلاب کی صورت میں قدرتی آفات کا سامنا ہوا ، تو سعودی عرب نے ہمیشہ ہمارے دوست ہونے کا کردار ادا کیا اور حق ادا کردیا ۔چناں چہ اس بنیاد پر سعودی عرب کےساتھ ہمارے خصوصی تعلقات استوار ہیں۔اب سعودی ولی عہد پاکستان آرہے ہیں تو میں آپ کو یہ یقین دہانی کراسکتا ہوں کہ ا ن کا شاندار استقبال کیا جائے گا اور لوگ ان کے دورے کے شدت سے منتظر ہیں۔

العربیہ : جناب وزیراعظم ! سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کی نو یادداشتوں ( ایم او یوز) پر دست خط کیے جارہے ہیں۔ان کی مالیت 32 ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔پاکستان میں ہر کہیں سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔سوال یہ ہے کہ آپ کے خیال میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات نئے دور میں کیا رُخ اختیار کررہے ہیں؟

عمران خان : ہم جو کچھ کرنا چاہتے ہیں،اس کے بارے میں ہم کیوں یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک نیا دور ہے اور دوطرفہ تعلقات میں ایک نئی جہت کا وقت آگیا ہے،کیوں کہ ہم ایک دوسرے کے مفاد میں کام کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان میں سعودی عرب کا ایک مختلف انداز میں مفاد وابستہ ہے۔آج شاید دنیا بھر میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ مسلمان پاکستانی ہیں۔ان میں زیادہ تر ۔۔اسّی سے نوّے لاکھ پاکستانی بیرون ملک روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ان میں سائنس دان بھی ہیں۔بیرون ملک ہرشعبے میں پاکستانی کام کررہے ہیں۔ چناں چہ ہمارے پاس ہر شعبے میں افرادی قوت کی شکل میں انسانی سرمایہ موجود ہے۔پاکستان واحد مسلم ملک ہے جس کے پاس جوہری بم بنانے اور جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے کی صلاحیت ہے۔میزائل ٹیکنالوجی ہے۔اس لحاظ سے پاکستان کئی شعبوں میں دوسرے ممالک سے آگے ہے۔

سعودی عرب کے پاس سرمایہ اور تیل ہے۔پاکستان کے پاس مختلف شعبوں میں انٹرپرینیور شپ اور کاروباری افراد ہیں، افرادی قوت ہے۔اگر ہم ایک دوسرے کے مفاد کے لیے کام کریں تو اس سے دونوں ملک ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

العربیہ :آپ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو کس سطح تک لے جانا چاہتے ہیں جب آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ انھیں اعلیٰ سطح تک بڑھانا چاہتے ہیں؟

عمران خان : بلند ترین سطح سے میری مراد یہ ہے کہ دونوں ممالک اس انداز میں باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کریں کہ جس سے دونوں ہی فائدہ اٹھا سکیں۔اگر آپ کے پاس مضبوط تجارتی شراکت دار ہیں تو اس سے دونوں ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مجھے یاد ہے جب میں برطانیہ میں ایک جامعہ میں زیر تعلیم تھا تو یورپی یونین کی تشکیل کی گئی تھی۔اس کے بعد اس تنظیم کے تمام رکن ممالک کے عوام کا معیارِ زندگی بلند ہوگیا تھا کیوں کہ انھوں نے تجارت کو کھول دیا اور آزاد کردیا تھا ۔ پھر زیادہ تجارت سے معیارِ زندگی بلند ہوتا چلا گیا۔ اسی طرح میرے خیال میں سعودی عرب اور پاکستان کو اپنے دوطرفہ تعلقات سے ماورا دیکھنے کی ضرورت ہے۔ہم ماضی میں تجارت کرتے رہے ہیں ،ہم ایک دوسرے کے ہاں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ہم مشترکہ منصوبے شروع کرسکتے ہیں،اس لیے میرے خیال میں اس سے دونوں ملکوں کے عوام کا معیارِ زندگی بلند ہوگا۔

العربیہ: پاکستان نے سعودی عرب کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے ( سی پیک) میں تیسرے فریق کے طور پر شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔سعودی عرب ہی کا انتخاب کیوں کیا گیا ہے؟وہ تیسرے فریق کی حیثیت سے سی پیک میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟

عمران خان: جی، سی پیک کیا ہے؟سی پیک بنیادی طور پر چین کے ساتھ جڑنے کا ذریعہ ہے۔چین اس وقت دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے۔چین اس وقت جس رفتار سے ترقی کررہا ہے،اگر یہ رفتار برقرار رہتی ہے تو وہ آیندہ دس سال میں امریکا سے بھی آگے نکل جائے گا۔اس وقت وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔سی پیک کا منصوبہ پاکستان کو چین کے ساتھ ملاتا ہے اور ہم خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے عمل سے گزر رہے ہیں۔سعودی عرب ان خصوصی زونز میں شریک ہوکر فائدہ اٹھا سکتا ہے کیوں کہ اس کی پھر چین تک بھی رسائی ہوجائے گی۔اسی لیے پاکستان متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے اپنے دوستوں کو ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دینا چاہتا ہے۔

العربیہ : ہم یہاں کن فوائد وثمرات کی بات کررہے ہیں ؟وہ ( سعودی ، اماراتی )کیا حاصل کریں گے؟

عمران خان : میرے خیال میں ان خصوصی اقتصادی زونز میں سرگرمیاں اس انداز میں ہوں گی کہ وہ افسر شاہی کے سرخ فیتے کی زد میں نہیں آئیں گی۔یہاں سرمایہ کاری بہت آسان ہوگی۔ان زونز میں خصوصی سہولتیں مہیا کی جائیں گی اور یہ ٹیکسوں کی کم شرح کی شکل میں ہوسکتی ہیں ۔اس لیے یہ تمام فریم ورک وضع کیا جارہا ہے۔ہمارا آئیڈیا یہ ہے کہ یہاں سعودی عرب کے لیے ایک موقع میسر آئے اور پھر اس کے لیے آگے چین کی ایک بڑی مارکیٹ ہوگی۔

العربیہ : بنیادی طور پر کسی بھی مارکیٹ میں داخل ہونے والے سرمایہ کار کو پہلی تشویش ٹیکسوں سے متعلق ہی لاحق ہوتی ہے۔کیا پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہاں سعودی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی کوئی تجویز زیر غور ہے یا اس کا کوئی وعدہ کیا جارہا ہے؟

عمران خان : اس ضمن میں مجھے اپنا فلسفہ بیان کرنے دیجیے۔جب آپ نیا پاکستان کہتے ہیں تو پھر دیکھیے کہ پاکستان کیسے تبدیل ہوگیا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں 1970ء کے عشرے کے بعد سے ایک سوشلسٹ ذہنیت کارفرما رہی ہے۔اب سوشلزم (اشتراکیت) کا ایک پہلو تو بہت زبردست ہے کہ ترقی مساوی بنیاد پر ہونی چاہیے اور امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر نہیں ہونے چاہییں۔دولت کو پھیلایا جانا چاہیے تاکہ لوگوں کو نچلی سطح سے بلندی کی طرف لے جایا جائے لیکن ہمیں ستر کے عشرے میں جس سوشلسٹ قسم کی حکومت کا سامنا ہوا ،اس نے یہ کیا تھا کہ اس نے ہر چیز ہی کو قومیا لیا تھا۔قومیانے کی اس پالیسی نے ہماری شرح نمو کو متاثر کیا۔اس سے دولت کی تخلیق کا عمل متاثر ہوا اور پاکستان کا آگے بڑھنے کا سلسلہ بھی متاثر ہوا حالانکہ تب ہم خطے کے دوسرے ممالک سے زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کررہے تھے۔اس ذہنیت نے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا کہ دولت بنانا ایک گناہ ہے۔بہت زیادہ نفع اندوزی ایک جرم قرار پائی تھی۔اب یہ ایک جرم ہے کہ ایک فرد نفع تو کماتا جائے مگر اپنے ذمے واجب الادا ٹیکس کوئی بھی ادا نہ کرے۔یہ بھی ایک جُرم ہے کہ ایک معاشرہ اپنے غریب عوام کی حالت بہتر بنانے کے لیے کچھ نہیں کرتا ہے۔

چین نے صرف 30 سال کے عرصے میں اپنی 70 کروڑ آبادی کو غُربت کی دلدل سے نکال ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسا ذہن کارفرما ہوگیا کہ زیادہ دولت کمانا ایک جرم ہے۔چناں چہ اس سے ہر چیز متاثر ہوئی ۔افسر شاہی نے کیسے کام کیا۔سیاسی طبقہ کیسے کام کرتا تھا ۔ یوں پورا ماحول ہی منافع کمانے کے خللاف ہوگیا تھا۔اب ہم یہ کرنا چاہتے ہیں کہ سرمایہ کار وں کو دولت کمانے کی اجازت ہونی چاہیے۔ہم چاہتے ہیں کہ وہ منافع کمائیں کیونکہ اگر وہ منافع کمائیں گے تو مزید لوگ بھی سرمایہ کاری کے لیے آئیں گے۔میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ خیرات کے لیے کاروبار نہیں کرسکتے۔آپ دولت کمانے کے لیے ہی کاروبار کرتے ہیں۔اس لیے ہمیں ایسے سازگار حالات پیدا کرنا ہوں گے کہ لوگ آئیں، سرمایہ کاری کریں اور اس عمل سے دولت کمائیں۔

العربیہ : میں معذرت خواہ ہوں کہ دوبارہ آپ کی توجہ ٹیکسوں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔سعودی اشیاء کے بارے میں کیا خیال ہے ۔ان پر ٹیکسوں کی شرح بھی زیادہ ہے۔بعض اوقات تو یہ 20 سے 50 فی صد تک بلند ہوجاتی ہے۔کیا محاصل کی شرح میں کسی طرح کی کوئی کمی کرنے کا بھی ارادہ ہے۔

عمران خان : میں اسی بات کی طرف واپس آتا ہوں۔میں واضح کردوں کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ رقوم بنائیں لیکن اگر ٹیکسوں کی شرح ہی بلند ہوتی ہے تو پھر وہ کیسے منافع کماسکیں گے۔چناں چہ ہمارا تمام تصور یہ ہے ہم اپنے سرمایہ کاروں کو سہولت بہم پہنچائیں گے ۔ اگر سرمایہ کار اچھے طریقے سے کام کرتے ہیں تو پھر دوسرے لوگ بھی آپ کے ملک میں سرمایہ کاری کے لیے آئیں گے۔

العربیہ : بعض ایسی بھی آوازیں سنائی دے رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کا اپنے پہلے بین الاقوامی دورے کے لیے انتخاب کیا تھا کیوں کہ انھیں یا پاکستا ن کو قرضے کی اشد ضرورت تھی۔آپ اس کو کیسے چیلنج کرتے ہیں؟

عمران خان: نہیں۔ یہ درست ہے۔میر امطلب ہے، ہمیں جو پاکستان ورثے میں ملا اور جو سابق حکومت چھوڑ کر گئی تھی تو وہ دیوالیہ پن تھا۔ ادائیوں کا توازن بری طرح سے بگڑ چکا تھا۔ ہمارا دیوالہ نکلنے کو تھا۔ہمارے پاس قرضوں کی ادائی یا درآمدات کے لیے کافی رقم نہیں تھی۔جب کسی کو ایسی صورت حال درپیش ہو تو وہ پھر اپنے دوستوں ہی کے پاس جاتا ہے۔چناں چہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور چین تین ایسے ممالک تھے جہاں ہم گئے اور میں یہاں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ ان تینوں ممالک نے کبھی ہمیں نیچا نہیں دکھایا ہے۔انھوں نے ہمیشہ ہماری مدد کی ہے۔دوست دوستوں کے لیے یہی کرتے ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ آپ اپنے دوستوں کے پاس قرضوں کے حصول کے لیے نہیں جانا چاہتے۔ہمیں امید ہے کہ ہم نے اصلاحات کا جو عمل شروع کیا ہے ،اس سے بتدریج ہم قرضوں کی دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔پاکستان ان شاء اللہ اس قدر شرح نمو کے ساتھ ترقی کرے گا اور دولت بنائے گا کہ پھر کبھی ہمیں قرضے لینے کے لیے کسی کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔

العربیہ : پاکستانی حکومت اور عوام دونوں نے ملک کو قرض دینے یا مالی امداد سے انکاری ممالک کے بارے میں کس رد عمل کا اظہار کیا تھا؟

عمران خان : دراصل ہم صرف تین ممالک ہی کے پاس گئے تھے۔ہم نے چین جانے کا فیصلہ کیا تھا کیوں چین ہر مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں کے ہمیشہ ہمارے ساتھ اچھے تعلقات ا ستوار رہے ہیں۔ان دونوں ملکوں میں لاکھوں پاکستانی کام کررہے ہیں۔ مجھے ان تینوں ممالک کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کیوں کہ ان تینوں ممالک نے ہمیں نیچا نہیں دکھایا ، کبھی مایوس نہیں کیا۔

العربیہ : کیا آپ اس قدر اعتماد کے ساتھ گئے تھے کہ آپ کو مایوس نہیں کیا جائے گا ؟

عمران خان: بہتر ، شاید آپ کبھی یہ نہ جان پاتے ۔مجھے اس کرسی پر بیٹھے ابھی صرف چھے ماہ ہوئے ہیں۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ دوسرے کیا سوچتے ہوں گے لیکن ہمیں ان ملکوں کے بارے میں جاننا ہوگا جنھوں نے مشکل وقت میں ہماری مدد کی ہوگی۔ہماری کابینہ نے محسوس کیا کہ ہم ان تینوں ممالک سے ہی قرضوں کے حصول کے لیے رجوع کرسکتے ہیں ۔چناں چہ ان ممالک نے ہمیں قرضے دیے ہیں اور ہم ان سے مل کر مستقبل میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کے بارے میں بھی بات چیت کررہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند