تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عربی ناموں کو لاطینی حروف میں لکھنے کے سبب درپیش سکیورٹی خطرات !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: پیر 2 شعبان 1440هـ - 8 اپریل 2019م KSA 12:42 - GMT 09:42
عربی ناموں کو لاطینی حروف میں لکھنے کے سبب درپیش سکیورٹی خطرات !
العربیہ ڈاٹ نیٹ - عہد فاضل

عربی زبان کی طرح عربی کے اسماءِ خاص کو بھی ایک مخصوص لسانیاتی خصوصیت حاصل ہے۔ لہذا ان کو لاطینی حروف میں تحریر کرنا ایک انتہائی اہم ثقافتی، قانونی اور لسانیاتی ذمے داری ہے۔

عربی زبان کا اسم خاص بین الاقوامی سرکاری دستاویزات میں رابطے کے پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاسپورٹس میں عربی ناموں کو لاطینی حروف میں لکھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ان ناموں کے تحریر کرنے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ خود عرب ممالک میں بھی جو سفری دستاویزات یا قانونی دستاویزات میں ان عربی ناموں کو تحریر کرنے کے حوالے سے اب تک کسی یکساں طریقے پر متفق نہیں ہو سکے۔ ان کے علاوہ بعض نام ایسے ہیں جو عربوں کے ہاتھوں عربی زبان میں ہی مختلف طریقوں سے تحریر کیے جاتے ہیں۔ مثلا رہام اور ریہام ، جمانہ اور جومانا وغیرہ۔

لاطینی حروف میں تحریر کیے جانے والے عربی ناموں میں مشابہت نے عالمی سطح پر سکیورٹی کے مسائل کو جنم دیا۔ بالخصوص سکیورٹی حکام کو مطلوب افراد کے حوالے سے بہت سی پیچیدگیاں سامنے آئیں۔ کویتی سرکاری خبر رساں ایجنسی KUNA نے 2002 میں بتایا تھا کہ عربی کے نام امریکی سکیورٹی اداروں کو پریشان کر دیتے ہیں۔ کونا نے امریکی اخبار یو ایس ٹُو ڈے کے حوالے سے بتایا کہ "عربی ناموں کو انگریزی زبان میں تحریر کرنے کے طریقے میں اختلاف کے سبب" مطلوب افراد کے تعاقب میں مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق عربی کا ایک اسم خاص بعینہ دیگر افراد کے حوالے سے لا تعداد بار پایا جاتا ہے ! اس پر امریکی سی آئی اے اور امریکی ایف بی آئی نے ایک فہرست جاری کی۔ فہرست میں ایسے "گڑبڑا دینے والے عربی ناموں کو" شامل کیا گیا جو ایک سے زیادہ طریقوں سے لکھے جا سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے 2017 میں ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی۔ رپورٹ میں عربی جغرافیائی ناموں کو لاطینی حروف میں منتقل کرنے کے لیے ایک یکساں نظام مقرر کیا گیا۔ اس سلسلے میں بنیادی لاطینی حروف کی فہرست پیش کی گئی جو عربی کے حروف کے مقابل آتے ہیں۔ اس کے مطابق B,T,J,D,R,Z,S,Q,K,L,M,N,H,W,Y عربی میں ب، ت، ج، د، ر، ز، س، ق، ك، ل، م، ن، ه، و اور ي ہوں گے۔ اسی طرح ایسے مرکب حروف کی فہرست بھی متعین کی گئی جن کے لیے لاطینی میں انفرادی حروف نہیں پائے جاتے۔ مثلا GH, SH, DH, KH, TH کے مقابل عربی میں ث، خ، ذ، ش اور غ ... کے حروف ہیں۔

مذکورہ رپورٹ کے اختتام پر عربی ناموں کو تحریر کرنے سے متعلق ہدایت دی گئی۔ مثلا یہ کہ نام میں (عبد) کا لفظ اپنے اگلے لفظ سے علاحدہ تحریر کیا جائے گا۔ بالخصوص بعض مرتبہ عربی میں (عبد) کو اس کے بعد آنے والے لفظ کے ساتھ ملا کر مثلا (عبدالعزيز) لکھ دیا جاتا ہے جب کہ درست طریقہ (عبد العزيز) ہے۔

سعودی محقق اور مشرقی زبانوں کے ماہر ڈاکٹر عبدالرزاق القوسی کے مطابق اُن کے اور اُن کے بیٹے دونوں کے پاسپورٹس پر لاطینی حروف میں خاندان کا نام مخلتف انداز سے تحریر ہے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق نے بتایا کہ اُن کے بیٹے کے پاسپورٹ پر خاندان کا نام (القوسی) Alqawsi لکھا ہے جب کہ اُن کے اپنے پاسپورٹ پر یہ نام ALkousi تحریر ہے۔ القوسی کے مطابق یہ خاندانی نام مختلف افراد کے پاسپورٹس میں 8 مختلف طریقوں سے تحریر دیکھا گیا ہے۔ القوسی نے اس موضوع سے متعلق (العربية بالحروف اللاتينية) کے نام سے ایک کتاب تحریر کی ہے۔ یہ کتاب 2019 میں شائع ہوئی۔ کتاب میں عربی ناموں کو لاطینی حروف میں لکھنے کے حوالے سے درپیش مشکلات، ان کے اسباب، نتائج اور تجاویز اور حل پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

اسی طرح معروف اور مشہور ترین اسلامی نام (محمد) ہے جو پیغمبر اسلام عليہ الصلات والسلام کا نام مبارک ہے۔ یہ لاطینی حروف میں پانچ سے زیادہ طریقوں سے تحریر کیا جاتا ہے۔ القوسی کے مطابق "عرب دانش وران" عربی زبان کے لیے لاطینی حروف کی ابجد تیار کرنے کو مسترد کرتے ہیں۔

سعودی محقق نے باور کرایا ہے کہ عربی ناموں کو لاطینی حروف میں یکساں صورت میں نہ لکھنے کے سبب ... مطلوب افراد کے تعاقب کے سلسلے میں سکیورٹی اداروں کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر یہ کہ اس کے نتیجے میں "بے قصور" افراد ضررر کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ اس لیے کہ لاطینی حروف میں ناموں کو تحریر کرنے کا متعین طریقہ کار نہ ہونے سے ان افراد کے ناموں اور مطلوب افراد کے ناموں میں مشابہت پیدا ہو سکتی ہے۔

القوسی کے مطابق عربی ناموں کو لاطینی حروف میں کسی متعین طریقہ کار کے ساتھ نہ لکھنا "بینکوں کے ذریعے رقوم کی منتقلی" کے عمل کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں صاحبِ حق اپنے حق سے محروم ہو سکتا ہے۔

سعودی محقق القوسی کہتے ہیں کہ عربی ناموں کو لاطینی حروف میں یکساں طریقے سے نہ لکھنے کے سبب بعض عرب مطلوب افراد اُن ممالک میں بآسانی واپس لوٹ گئے جہاں وہ سکیورٹی حکام کو مطلوب تھے۔ اس مقصد کے لیے نیا پاسپورٹ حاصل کیا گیا جس پر لاطینی حروف میں نام کو مختلف ہجے کے ساتھ تحریر کیا گیا تھا۔

عرب دنیا میں ماضی میں بعض کتابیں شائع ہوئیں جن کے مصنفین نے عربی ناموں کو لاطینی حروف میں تحریر کیے جانے کے موضوع پر روشنی ڈالی۔ اس سلسلے میں 1943 میں عبد العزيز فہمی، 1956 میں ابراہیم حمودی الملا موسی، 1961 میں سعید عقل اور 1964 میں عثمان صبری کی کاوشیں قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر عبد الرزاق القوسی کی کتاب میں تجویز کردہ ابجد کی رُو سے تجویز پیش کی گئی کہ عربی کے نام (ابراهيم) کو لاطینی حروف میں اس طرح Ibrahiem لکھا جائے۔ علاوہ ازیں عربی کے نام (بشار) کو لاطینی حروف میں Bacchar لکھا جائے۔ معلوم رہے کہ بین الاقوامی سطح پر شامی صدر (بشار) کے خلاف قانونی کارروائیوں میں اُن کے نام کو لاطینی حروف میں Bashar لکھا جا رہا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند