تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نیند میں 16منٹ کی تاخیر آنے والے دن کے کام کی تباہی کا موجب!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 19 شعبان 1440هـ - 25 اپریل 2019م KSA 07:12 - GMT 04:12
نیند میں 16منٹ کی تاخیر آنے والے دن کے کام کی تباہی کا موجب!
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ عماد البلیک

اب تک ماہرین کا خیال یہ رہا ہے کہ رات کو کام ختم کرنے کےلیےنیند میں پر تاخیرآنے والے دن وقت بچانے میں مدد گار ہوسکتی ہے مگر اس تاخیر کے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے بارے میں ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی نیندکے اوقات میں صرف سولہ منٹ کی معمولی تاخیر بھی کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں آنے والے دن میں اس کے کام پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے زیراہتمام کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ نیند میں 16 منٹ کا فرق بھی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتا اور آنے والے دن میں جسم میں تھکاوٹ کے احساس میں اضافے کا موجب بن سکتا ہے۔

برطانوی اخبار'میٹرو ' کے مطابق تحقیق کے دوران 130 ملازمین کی صحت اور نیند کی کمی بیشی سے ان کے آنےوالے دن میں کام پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ تمام افراد سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ ان کی نیند اور کام کی کار کردگی کے اوقات کا جائزہ لیا گیا۔

سروے میں شامل افراد کی معمول کی نیند کے اوقات میں16 منٹ کی تاخیر کرائی گئی۔ اس تاخیر کے باعث انہیں معلومات پر توجہ مرکوز کرانے اور دفتر امور نمٹانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے علاوہ ان کی صحت پر مزید منفی اثرات بھی مرتب ہوئے۔ نیند میں تاخیر سے ڈی پریشن میں اضافہ ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دفتری کاموں اور کاروباری امور میں مصروف افراد کو اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے مناسب ماحول کی فراہمی ضروری ہے۔ اسی ذریعے سے ملازمین ڈی پریشن سے بچتے ہوئے لوگ اپنے کام بہتر اندازمیں انجام دے سکتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند