تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ابھا ہوائی اڈے پر حوثی راکٹ حملے کی ’ایکسکلوسیو ویڈیو‘ العربیہ سکرین پر دیکھئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 19 ذیعقدہ 1440هـ - 22 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 9 شوال 1440هـ - 13 جون 2019م KSA 20:37 - GMT 17:37
ابھا ہوائی اڈے پر حوثی راکٹ حملے کی ’ایکسکلوسیو ویڈیو‘ العربیہ سکرین پر دیکھئے
راکٹ گرنے کا ہولناک لمحہ پہلی مرتبہ ’العربیہ‘ سکرین کے ذریعے دنیا تک پہنچا
العربیہ نیوز چینل

دبئی سے نشریات پیش کرنے والے معروف پین عرب نیوز چینل ’’العربیہ‘‘ نے گذشتہ روز ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے راکٹ حملے ویڈیو حاصل کر لی۔ یہ ویڈیو پہلی مرتبہ ’’العربیہ‘‘ نیوز چینل کی سکرین کے ذریعے دنیا تک پہنچی ہے۔

یمن کی آئینی حکومت کی رٹ بحالی کے لئے سرگرم عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا تھا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے شہر أبها میں بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بدھ کو علی الصباح ایک راکٹ حملہ کیا۔

حملے میں 26 افراد زخمی ہوئے۔ اس ہوائی اڈے سے روزانہ ہزاروں سعودی شہری، مملکت میں مختلف قومیتوں کے مقیم غیر ملکی شہری سفر کرتے ہیں۔ حملے کے بعد چند لمحوں کے لئے ائر ٹریفک بند رہی تاہم بعد میں ہوائی اڈا سے معمول کی پروازں کا سلسلہ بحال کر دیا گیا۔

ایک بیان میں کرنل ترکی المالکی نے بتایا ابھا ہوائی اڈے کے آمد ہال پر راکٹ کرنے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے کم سے کم 26 مسافر زخمی ہوئے۔ ان میں یمن، بھارت اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی تین خواتین، دو سعودی بچے شامل تھے۔ حملے میں آٹھ دوسرے مسافروں کو بھی درمیانے درجے کے زخم آئے جنہیں علاج کی غرض سے ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔ اٹھارہ زخمیوں کو موقع پر مرہم پٹی کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔ راکٹ حملے سے ہوائی اڈے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔

کرنل ترکی المالکی کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی اور فوجی حکام دہشت گرد حملے میں استعمال کئے جانے والے راکٹ کی نوعیت کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد نے اپنے ہم نوا ذرائع ابلاغ کے توسط سے دعوی کیا تھا کہ انھوں نے ابھا ہوائی اڈے پر ’’کروز‘‘ میزائل سے حملہ کیا ہے۔ یہ دعوی شہری تنصیبات اور عوام کو نشانہ بنانے سے متعلق حوثیوں کا صریح اعتراف ہے۔ یاد رہے جنگ کے دوران بھی عام شہریوں اور سول عمارتوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی شمار کیا جاتا ہے۔ عام شہریوں اور سول عمارتوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حوثی ملیشیا نے جدید طرز کا اسلحہ استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔ ایرانی حکومت سرحد پار دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں حوثیوں کی مکمل امداد کر رہی ہے جو بذات خود اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے منظور کی جانے والی قراردادوں (2216) اور (2231) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اپنے بیان کے اختتام میں کرنل ترکی المالکی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عرب اتحاد کی مشترکہ کمان حوثیوں کی دہشت گردانہ اور غیر اخلاقی کارروائیوں کا جلد اور ٹھوس جواب دے گی جو دہشت گرد ملیشیا کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دے گی۔ ہم اپنے شہریوں اور تارکین وطن کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دینے کے لئے بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق ان عناصر کا محاسبہ کرتے رہیں گے جو ایسے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند