تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یاسمین المیمانی ، تجارتی پروازیں اڑانے والی سعودی عرب کی پہلی خاتون پائیلٹ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 19 ذیعقدہ 1440هـ - 22 جولائی 2019م
آخری اشاعت: اتوار 12 شوال 1440هـ - 16 جون 2019م KSA 00:34 - GMT 21:34
یاسمین المیمانی ، تجارتی پروازیں اڑانے والی سعودی عرب کی پہلی خاتون پائیلٹ
یاسمین المیمانی نے طیارے کے کاک پٹ میں بیٹھے ہوئے اپنی تصویرجاری کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

یاسمین محمد المیمانی سعودی عرب میں تجارتی پروازیں اڑانے والی پہلی خاتون پائیلٹ بن گئی ہیں ۔سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے انھیں چھے سال قبل تجارتی ہوا بازی کے لیے لائسنس جاری کیا تھا۔

انھوں نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’ اللہ کا شکر ہے ۔آج میں نے اپنے خواب کی تعبیر پالی ہے اور فرسٹ آفیسر بن گئی ہوں‘‘۔انھوں نے اس کے ساتھ طیارے کے کاک پٹ میں بیٹھے ہوئے اپنی ایک تصویر بھی جاری کی ہے۔

محمد المیمانی نے امریکا میں 300 گھنٹے تک تجرباتی طور پر پروازیں اڑائی تھیں اور طیارہ اڑانے کی اردن میں تربیت حاصل کی تھی۔انھوں نے 2013ء میں اپنے امریکی لائسنس کا سعودی عرب میں لائسنس سے تبادلہ کیا تھا۔انھوں نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سعودی عرب اور خلیج کی ایسی کوئی فضائی کمپنی نہیں مل سکی تھی جو انھیں ان کی صنف کی وجہ سے بہ طور پائیلٹ بھرتی کر لیتی۔

انھوں نے 2018ء میں العربیہ سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ میں نے ملازمت کے لیے بہت سے دروازے کھٹکائے لیکن ابھی تک مجھے پائیلٹ رکھنے سے انکار کیا جارہا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا جارہا ہے کہ خاتون کپتان کی تو کوئی اسامی موجود ہی نہیں‘‘۔

واضح رہے کہ اس وقت سعودی عرب میں شہری ہوابازی کے مختلف شعبوں میں سعودی خواتین کام کررہی ہیں۔وہ گذشتہ سال سے صارف خدمات ، فضائی ٹریفک کنٹرول ،ائیر ٹرانسپورٹ اور انتظامی امور میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔اب یاسین المیمانی کے بعد وہ کمرشل پائیلٹ بھی بن سکیں گی۔

کیپٹن یاسمین المیمانی نے 2010ء میں اردن سے پرائیویٹ پائیلٹ ہونے کا لائسنس حاصل کیا تھا۔اسی سال وہ سعودی عرب میں آگئی تھیں اور ہوابازوں کی تربیت کے ادارے ربیغ ونگز ایوی ایشن میں ایک سال تک کام کرتی رہی تھیں۔

اس دوران انھیں امریکا میں قائم ایروسیم فلائٹ اکیڈیمی کی جانب سے یہ پیش کش ہوئی تھی کہ وہ مشرق اوسط میں ان کی سفیر بن جائیں۔اس اکیڈیمی نے انھیں آٹوکمرشل پائیلٹ لائسنس کے حصول کے لیے وظیفے کی بھی پیش کش کی تھی جو انھوں نے قبول کرلی اور فلوریڈا چلی گئی تھیں۔وہاں سے سعودی عرب واپسی پر وہ فلائٹ آپریشنز سروسز کمپنی نیکسس میں کام کرتی رہی تھیں۔

واضح رہے کہ مشرق اوسط میں ایوی ایشن کی صنعت بڑی تیزی سے فروغ پارہی ہے اور خطے میں آیندہ برسوں میں پانچ ہزار طیاروں کی آمد متوقع ہے۔اس کے پیش نظر ماہرین نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ عالمی سطح پر تربیت یافتہ ہوابازوں کی تعداد کم پڑ جائے گی۔ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ آیندہ پندرہ سال میں موجودہ تعداد سے دُگنا پائیلٹ درکار ہوں گے۔

دنیا کی بڑی فضائی کمپنیاں پندرہ سو سے دوہزار گھنٹے تک پروازیں چلانے کا تجربہ رکھنے والوں کو پائیلٹ کے طور پر بھرتی کرتی ہیں لیکن اگر کسی پائیلٹ کا تجربہ صرف تین سو گھنٹے تک ہو تو وہ اس کی درخواست کو لائق اعتناء نہیں سمجھتی ہیں۔چنانچہ پائیلٹ حضرات لائسنس حاصل کرنے کے بعد سیاحتی پروازیں اڑا کر یا مختلف اداروں کے فضائی سروے کے لیے طیارے اڑا کر اپنے مطلوبہ گھنٹے پورے کر لیتے ہیں۔یوں تجارتی پروازیں چلانے کے لیے درکار تجربہ کے حامل ہو جاتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند