تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جنگ نہیں چاہتے، مگر خطرات سے نمٹنے میں دیر نہیں کریں گے: سعودی ولی عہد
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: اتوار 12 شوال 1440هـ - 16 جون 2019م KSA 09:07 - GMT 06:07
جنگ نہیں چاہتے، مگر خطرات سے نمٹنے میں دیر نہیں کریں گے: سعودی ولی عہد
شہزادہ محمد بن سلمان نے ’’الشرق الاوسط‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں مختلف ایشوز پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔: فوٹو بشکریہ الشرق الاوسط
العربیہ اردو سٹاف رپورٹ

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا، تاہم کسی دھمکی سے نمٹنے کے لئے پس وپیش سے کام نہیں لیں گے۔

لندن سمیت متعدد بین الاقوامی دالحکومتوں سے بیک وقت شائع ہونے والے عرب روزنامہ ’’الشرق الاوسط‘‘ کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں سعودی ولی عہد کا کہنا تھا ’’مملکت خطے میں جنگ کی طلب گار نہیں، تاہم اپنے عوام، خودمختاری اور اہم مفادات کو درپیش خطرات سے نمٹنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں گے۔‘‘

شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’’ایرانی حکومت نے اپنے ہاں مہمان کے طور پر دورہ کرنے والے جاپانی وزیر اعظم کا بھی احترام نہیں کیا۔ ان کی موجودگی میں ہی انھوں نے دو تیل بردار جہازوں پر حملہ کر کے ان کی کوششوں کا جواب دیا۔ نشانہ بنائے جانے والا ایک ٹینکر تو خود جاپان کا ملکیتی تھا۔‘‘

انٹرویو کے دوران شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ خطے میں ایران کے حالیہ حملے بین الاقوامی برادری کے ٹھوس موقف کے متقاضی ہیں۔ ان کے بقول ایران نے جوہری معاہدے کے معاشی فوائد سمیٹ کر خطے میں اپنے معاندانہ اقدامات اور علاقے میں افراتفری اور تباہی پھیلانے کے لئے مدد حاصل کی۔

یمن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد نے واضح کیا ’’کہ سعودی عرب یمنی بحران کے سیاسی حل کی تمام کوششوں کی حمایت کریتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے حوثی ملیشیا یمن اور اس کے عوام کے مفادات کے بجائے ایرانی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔‘‘

’’سعودی عرب اپنی سرحد پر غیر ریاستی ملیشیا کی موجودگی کو قبول نہیں کر سکتا۔ ہم نے حوثیوں کے تیل تنصیبات اور نجران ہوائی اڈے پر خبیثانہ حملوں کا سامنا کیا۔ حوثی رہنماؤں نے ان حملوں کی فخریہ انداز میں ذمہ داری قبول کی۔‘‘ اس صورت حال سے ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہو گئی کہ حوثی ملیشیا کو یمنیوں کے مفادات کا کوئی پاس ہے اور نہ ہی وہ یمنی بحران کے سیاسی حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘‘

الشرق الاوسط سے بات کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے کہا کہ ان کا ملک امریکا سے تعلقات کی تزویراتی اہمیت کو ’’خطے کی سلامتی اور استحکام کے لئے اہم عنصر خیال کرتا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’امریکا سے ہمارے تزویراتی تعلقات میڈیا پر چلائی جانے والی مہم اور ادھر ادھر سے اٹھنے والی آوازوں سے متاثر نہیں ہو سکتے۔‘‘

سوڈان سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ان کا ملک خرطوم کی سلامتی اور استحکام کو مقدم سمجھتا ہے اسی لئے ’’ہم اپنے سوڈانی بھائیوں کی مختلف شعبوں میں اس وقت تک مدد کرتے رہیں گے جب تک سوڈان خوشحالی اور ترقی کی مطلوبہ منزل تک پہنچ نہیں جاتا۔‘‘

شہزادہ محمد نے الشرق الاوسط سے مرحوم سعودی صحافی جمال خاشقجی سے متعلق بھی بات کی اور ان کے قتل کو ’’دردناک جرم‘‘ قرار دیا۔ ’’ہم مکمل محاسبہ اور انصاف کریں گے۔ اس معاملے پر سیاست کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور جو بھی فریق معاملے میں دلچسپی رکھتا ہے وہ سعودی عدالتوں کو شہادتیں فراہم کریں جن سے انصاف کے حصول تک پہنچنا ممکن ہو سکے گا۔‘‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند