تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ہُنر مند سعودی خاتون نے کجھور کے پتوں کو خوبصورت فن پاروں‌ میں کیسے تبدیل کر دیا؟
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ مریم آل عبدالعال
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م KSA 14:09 - GMT 11:09
ہُنر مند سعودی خاتون نے کجھور کے پتوں کو خوبصورت فن پاروں‌ میں کیسے تبدیل کر دیا؟
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ مریم آل عبدالعال

عرب کے صحراء میں پرانے زمانوں میں کھجور کے پتوں اور اس کی چھال سے بہت سی چیزیں‌ بنائی جاتی تھیں مگر اب کھجور کے پتوں سے چیزیں تیار کرنے کی باتیں صرف کتابوں میں رہ گئی ہیں۔ کھجور کے پتوں سے مصنوعات سازی کی دم توڑتی روایت کو ایک سعودی خاتون 45 سالہ معصومہ صالح الحمدان نے زندہ کرنے کی منفرد کوشش کی ہے۔

اس نے اپنے دست ہنر سے کھجور کے پتوں سے ہمہ نوع اشیاء اور گھروں میں سجاوٹ کے خوبصورت اور دیدہ زیب نمونے تیار کر کے نہ صرف اپنی ہنرکاری کا لوہا منوایا بلکہ اس نے کھجور کے پتوں کو ایک نئے انداز میں استعمال میں لانے کا ڈھنگ بھی پیش کیا ہے۔

معصومہ کے دست ہنر سے کھجور کے پتوں‌ سے تیار کردہ 30 مختلف اشیاء کی نمائش گذشتہ روز مشرقی سعودی عرب کے شہر صفوی میں لگائی گئی۔ اس نمائش میں رکھی گئی کھجور کے پتوں سے تیار کردہ اشیاء کو زائرین نے بہت زیادہ پسند کرتے ہوئے معصومہ کی محنت کو داد تحسین پیش کی ہے۔

معصومہ پچھلے 15 سال سے اس منفرد مشغلے میں دن رات مشغول رہی ہیں۔ اس دوران اس نے کھجور کے پتوں کے دستی پنکھے، چٹائیاں، بیگ، ٹوکریاں، گل دستے اور کئی دوسری منفرد اور مفید چیزیں تیار کیں۔ اس نے نہ صرف کھجور کے پتوں سے مختلف اشیاء بنائیں بلکہ پتوں کی مدد سے اس نے کتابت کے خوبصورت نمونے بھی تیار کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے معصومہ الحمدان نے بتایا کہ کھجور کے پتوں سے مختلف اشیاء‌کی تیار کا شوق اسے اپنی ماں سےملا۔ اس کا کہنا ہے کہ چھوٹی عمرہی سے میں نے انٹرنیٹ پر گل دستےتیار کرنے کے طریقے تلاش کرنا شروع کر دیے تھے۔ میں چاہتی تھی کہ کھجور کے پتوں کو کسی ایسے مفید کام میں استعمال کیا جائے تاکہ ہماری دم توڑتی روایت بھی زندہ ہو اور دنیا تک کھجور کے پتوں‌کی اہمیت کا پیغام بھی پہنچایا جا سکے۔ اس نے کہا کہ میں یہ بات دعوے سے کہتی ہوں کہ دُنیا میں میرے سوا کھجور کے پتوں کو اس طرح استعمال نہیں کیا ہوگا۔

سعودی آرٹسٹ محمد المصلی نے معصومہ حمدان کی تیار کردہ مصنوعات کو بہت زیادہ پسند کیا۔ انہوں‌ نے کہا کہ حقیقی معنوں میں معصومہ نے کھجور کے پتوں کو ایک نئی تنکینک سے استعمال کرکے مملکت میں ہنرمندوں اور نوجوانوں کو اپنی روایات سے مربوط رہنے کا پیغام دیا ہے۔

انہوں‌نے کہا کہ آج کے دور میں‌ جب کہ پوری دنیا میں نئے نئے ڈیزائن کی مصنوعات کی بھرمار ہے کھجور کے پتوں کو آرٹ کے نمونوں میں تبدیل کر کے معصومہ نے ایک نئی جہت سے روشناس کیا ہے۔ اس کے تیار کردہ فن پارے، گل دستے اور استعمال کی اشیاء مفید ہی نہیں بلکہ ماحول دوست بھی ہیں۔

سعودی عرب کے ایک دوسرے آرٹسٹ منصور المدن نے معصومہ حمدان کے فن پاروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کھجور کے پتوں کا آج کے دور میں اس سے بہتر اور کوئی استعمال نہیں ہوسکتا ہے۔ معصومہ نے کھجور کے پتوں سے ایسے ایسے تحفے تیار کیے ہیں جنہیں ہرکوئی پسند کرے گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند