تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران ، جہاں خواتین کا لازمی حجاب اب تار تار ہوا جارہا ہے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 14 ذیعقدہ 1440هـ - 17 جولائی 2019م KSA 18:27 - GMT 15:27
ایران ، جہاں خواتین کا لازمی حجاب اب تار تار ہوا جارہا ہے!
تہران ۔ ایسوسی ایٹڈ پریس ،العربیہ ڈاٹ نیٹ

ایران میں وقت کے ساتھ 1979ء میں برپا شدہ انقلاب کے اثرات ماند پڑتے جارہے ہیں اور لازمی حجاب اب تار تار ہوا جاتا ہے کیونکہ نوجوان ایرانی خواتین بالخصوص جدید نسل سے تعلق رکھنے والی دوشیزائیں اب لازمی سرپوش یا حجاب کی کوئی زیادہ پابند نہیں رہی ہیں اور انھیں جہاں بھی موقع ملتا ہے، وہ سرپوش اتار کر آزادانہ گھومنے پھرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

لیکن گاہے انھیں اس آزادی کی قیمت بھی چکانا پڑتی ہے۔ان کی اس آزاد روی کو باغیانہ روش پر محمول کیا جاتا ہے اور اگر کوئی عورت حجاب کے بغیر نظر آجائے تو اس کی عمر سے قطع نظر اخلاقی پولیس کے اہلکار اس کو موقع پر دھر لیتے ہیں اور بعض اوقات تو وہ ہاتھا پائی سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔

انھیں ہر دم گرفتاری یا ہراساں کیے جانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ایران میں 1979ء میں انقلاب کے بعد لباس کے سخت ضابطے کا نفاذ کیا گیا تھا۔ اخلاقی پولیس اس لباس کی پابندی کرانے کی ذمے دار ہے لیکن ان کی سخت روی کے خلاف اب ایرانی خواتین سڑکوں پر نکل کر احتجاج کررہی ہیں اور حکام کے لیے انھیں جبرواستبداد کے ہتھکنڈے استعمال کرکے انھیں دبانا مشکل ہورہاہے۔

ایک ایرانی خاتون نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنےکی شرط پر بتایا کہ ’’اب مظاہروں میں خواتین بڑی تعداد میں شرکت کررہی ہیں اور اس کے بعد تو حکام کے لیے ان مظاہروں کو بزور دبانا بتدریج مشکل ہوتا جارہا ہے۔ وہ ہمارا پیچھا کرتے ہیں لیکن ہمیں پکڑ نہیں سکتے۔ اس وجہ سے ہمیں یقین ہے کہ اب کے تبدیلی رونما ہو کر رہے گی‘‘۔

ایران میں لازمی سرپوش کے خلاف اس جاری جدوجہد کاآغاز دسمبر 2017ء میں ہوا تھا جب ایک خاتون نے دارالحکومت تہران کی شاہراہِ انقلاب پر نصب ایک یوٹیلٹی باکس پر چڑھ کر اپنا حجاب ایک چھڑی پر لٹکا دیا تھا۔ یہ خبر شہ سرخی کے ساتھ میڈیا میں شائع اور نشر کی گئی تھی۔

اس کے بعد حجاب کی مخالفت میں سڑکوں پر نکلنے والی ایرانی خواتین کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اب تک پینتیس ، چالیس خواتین کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔نیویارک میں مقیم ایرانی کارکن مسیح علی نجاد نے بتایا کہ ان میں سے نو خواتین اب بھی زیر حراست ہیں۔

خواتین مظاہرین کو خاموش کرانے کی کوششوں کے باوجود حجاب مخالف عوامی بحث زور پکڑتی جارہی ہے اور سوشل میڈیا نے تو اس کو مہمیز دی ہے۔گذشتہ ماہ ایک نوعمر لڑکی کی ویڈیو کو آن لائن بڑی تعداد میں دیکھا گیا تھا۔اس میں ایک سکیورٹی ایجنٹ نے ایک بے حجاب نوعمر لڑکی کو بڑے وحشیانہ انداز میں پکڑ رکھا تھا اور وہ اس کو پولیس کی کار کے پچھلے حصے میں زبردستی بیٹھا رہا تھا۔اس واقعے پر ایرانی حکام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ضابطۂ لباس کی پاسداری نہ کرنے والی ایرانی خواتین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کی حمایت کی ہے۔ تاہم سخت گیر اس طرح کی نرم روی کی مخالفت کررہے ہیں۔وہ بے پردہ خواتین کو سخت سزائیں دینے حتیٰ کہ کوڑے تک مارنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر خواتین کو بال دکھانے کی اجازت دے دی جاتی ہے تو اس سے اخلاقی زوال کی راہ ہموار ہوگی اور خاندان ٹوٹ جائیں گے۔عدلیہ نے حال ہی میں ایرانیوں پر زور دیا ہے کہ وہ بغیر حجاب نظر آنے والی خواتین کے بارے میں سوشل میڈیا کے متعلقہ اکاؤنٹس پر اطلاع دیں اور اس کے ساتھ ان کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنا کر بھیجیں۔

ایران کی پیراملٹری فورس باسیج کی خواتین شاخ کی سربراہ مِنو اسلانی نے گذشتہ ہفتے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا :’’جتنی زیادہ خواتین اپنے نازک اعضا کو نمایاں کرنے والا لباس پہنیں گی،اس سے اتنا ہی سماجی امن کم تر ہوتاچلا جائے گا جبکہ انھیں جرائم کی اعلیٰ شرح کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

اصلاح پسند رکن پارلیمان پروانہ صلاح شوری کہتی ہیں کہ اب جبر وتشدد سے کام چلنے کا نہیں۔ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ یہ کہ اخلاقی پولیس ناکامی سے دوچار ہورہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کے ذریعے حجاب کے قواعد کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ پارلیمان پر بعض قدغنیں عاید ہیں۔

وہ کہتی ہیں :اس کے بجائے خواتین کو عدم تشدد پر مبنی سول نافرمانی شروع کرنی چاہیے۔وہ خبردار کرتی ہیں کہ یہ ایک سست رفتار اور مشکل راستہ ہے لیکن ایرانی خواتین نے مشکلات کے باجود اپنی کوششوں کو ترک نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں حجاب پر تنازع کی تاریخ کوئی نئی نہیں ہے ۔اس کا آغاز 1930ء کے وسط میں ہوا تھا۔تب موجودہ دور سے بالکل برعکس واقعہ پیش آیا تھا۔سابق شاہِ ایران شاہ رضا پہلوی معاشرے کو مغربیانے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے اور پولیس خواتین کو مجبور کررہی تھی کہ وہ حجاب کو اتار پھینکیں۔ اب ایرانی پولیس خواتین کو ڈنڈے کے بل پر حجاب اوڑھنے پر مجبور کررہی ہے۔

ایرانی پارلیمان کے ایک تحقیقی مرکز کے 2018ء میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق زیادہ تر خواتین عام سرپوش لیتی ہیں اور صرف 13 فی صد مکمل چادر اوڑھتی ہیں۔گویا ایرانی خواتین کے حجاب اوڑھنے کے رویوں میں نمایاں تبدیلی رونما ہوچکی ہے۔1980 میں ایران میں انقلاب برپا ہونے کے صرف ایک سال کے بعد دو تہائی ایرانی اس بات میں یقین رکھتے تھے کہ خواتین کو حجاب اوڑھنا چاہیے۔ آج صرف 45 فی صد اس کے حق میں ہیں کہ حکومت کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے۔

سماجی کارکن مسیح علی نجاد کہتی ہیں کہ جبری حجاب کے خلاف مہم ایک علامتی وزن کی حامل ہے کیونکہ لازمی حجاب اس بات کی علامت تھا کہ ایرانی حکومت نے پورے معاشرے ہی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

انھوں نے حالیہ برسوں کے دوران میں انٹرنیٹ پر کارکنان کی ویڈیوز اورتصاویریں پوسٹ کی ہیں۔ ان میں سرپوش کے بغیر ایرانی خواتین کی ویڈیو اور تصاویر بھی شامل تھیں جو انھوں نے ایران کے دارالحکومت تہران اور دوسرے شہروں میں شاہراہوں پر چہل قدمی کرتے ہوئے بنائی تھیں۔علی نجاد کا کہنا ہے کہ انھیں روزانہ بیس سے زیادہ تصاویر موصول ہورہی ہیں لیکن وہ ان میں سے چند ایک ہی کو پوسٹ کرتی ہیں۔

خواتین سماجی کارکنان کے لیے مشکلات

اسی سال مارچ میں ایران میں انسانی حقوق کی معروف وکیل نسرین ستودہ کو ساڑھے اڑتیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہ خواتین مظاہرین کے خلاف دائر کیے گئے مقدمات کی پیروی کرتی رہی ہیں۔ ان کے خاوند کے بہ قول ایرانی عدالت کے فیصلے کے تحت ان کی اہلیہ کو اس مدت میں سے بارہ سال کی قید ضرور بھگتنا ہوگی۔

اپریل میں ایک سماجی کارکن یاسمن الاریانی ، ان کی والدہ منیرہ عرب شاہی اور مجگان کیشورز کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ان کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے تہران میٹرو پر سفر کرتے ہوئے اپنی حجاب کے بغیر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی۔اس میں وہ خواتین مسافروں میں پھول تقسیم کرتے نظر آرہی تھیں اور یہ کہہ رہی تھیں کہ وہ دن آنے والا ہے جب انھیں انتخاب کی آزادی مل جائے گی۔

ایرانی خواتین کو مسلسل خوف وہراس کا بھی سامنا رہتا ہے اور وہ پولیس کا سامنا ہونے سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ایک تیس سالہ فائر سیفٹی کنسلٹینٹ نے بتایا کہ وہ حجاب کے بغیر تہران کی شاہراہوں پر چلتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے سامنے آنے سے گریز کرتی ہیں۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ لیکچر دیتے وقت تو ضابطہ لباس کی پاسداری کرتی ہیں تاکہ انھیں کسی مخالفانہ کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

عام خواتین کے علاوہ اب ایرانی دکاندار بھی حجاب اوڑھنے کے انتباہ کی علامات کی مکمل پابندی کرتے نظر نہیں آتے ہیں۔اس کا اندازہ تہران کے شمال میں واقع ایک بڑے مال میں دکانیں کرنے والے ایرانیوں کے طرزعمل سےکیا جاسکتا ہے اور وہ ان اشاروں کو نظر انداز کردیتے ہیں جن میں ان کے گاہکوں کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ حجاب لازمی ہے۔

ایرانی خواتین کو جب بھی اور جہاں بھی موقع ملتا ہے، وہ حجاب اتار پھیکنتی ہیں لیکن بعض اوقات ان کے لیے اس طرح کی نئی صورت حال بڑی مضحکہ خیزبن جاتی ہے۔ایسی ہی ایک عورت نے اپنے کندھوں پر لٹکا ہوا سرپوش اتار پھینکتا تھا لیکن جوں ہی وہ ایک لفٹ میں سوار ہوئی تو وہاں اس کا سامنا ایک سکیورٹی گارڈ سے ہوگیا تھا۔

بیس سالہ پانیز معصومی نامی ایک لڑکی کے ساتھ بھی ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔اس نے بتایا کہ پولیس نے اس کی کار کو کوئی دوہفتے تک پکڑے رکھا تھا اور اس پر جرمانہ بھی عایدکیا تھا۔ اخلاقی پولیس کے مطابق اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے گاڑی چلاتے ہوئے مطلوبہ معیار سے کم تر حجاب اوڑھ رکھا تھا اور اس کی خلاف ورزی کا ٹریفک کیمروں سے پتا چلا تھا۔معصومی کا کہنا تھا کہ ’’اگر حجاب رضاکانہ ہوتا تو میں اب تک اس کو اتار پھینک چکی ہوتی لیکن فی الوقت میں کسی مصیبت میں نہیں پڑنا چاہتی ہوں‘‘۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند