تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حجاج کرام کے لیے تیار کردہ سعودی خاتون کے تحائف قومی ورثے اور جدیدیت کا امتزاج
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م KSA 15:34 - GMT 12:34
حجاج کرام کے لیے تیار کردہ سعودی خاتون کے تحائف قومی ورثے اور جدیدیت کا امتزاج
العربیہ ڈاٹ نیٹ ـ حامد القرشی

سعودی خاتون صالحہ تاج نے اپنی خداد داد صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے حجاج کرام کے لیے تحائف تیار کیے ہیں۔ صالحہ نے Decoupage کے فن کو مختلف صورتوں میں بروئے کار لا کر یہ اشیاء تیار کیں جن میں سعودی قومی ورثے اور مقامات مقدسہ کے تعارف پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے صالحہ تاج نے بتایا کہ "یہ تحائف اسلامی تشخص کو نمایاں کرتے ہیں اور سعودی قومی ورثے اور مقامات مقدسہ کا تعارف پیش کرتے ہیں۔ ان تحائف میں مختلف خوشبوئیں اور ڈیکوپیج سے مزین اسلامی مقامات بالخصوص مسجد حرام، مسجد نبوی، جبل رحمہ ، مسجد نمرہ اور خانہ کعبہ کی تصاویر شامل ہیں۔ اسی طرح مکہ کلاک ٹاور، الدرعیہ اور جدہ کے اولڈ ٹاؤن کی تصاویر کے علاوہ کشن بھی ہیں جن کا حجم 10*10 سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہے اور اس میں مشک کی مہک آتی ہے"۔

ڈیزائنر صالحہ نے بتایا کہ 35 برس قبل اپنے بچپن میں وہ محسوس کرتی تھیں کہ کوئی خفیہ طاقت ہے جو انہیں کامیابی کی جانب بڑھا رہی ہے اور پیچھے ہٹنے سے روکتی ہے۔ جدت طرازی کا فن صالحہ کے لیے نیا نہیں۔ ان کے دو بھائی آرٹ ایجوکیشن کے میدان میں خصوصی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ صالحہ اکثر سوچا کرتی تھیں کہ "میں جدت کا حامل کام کیوں نہیں کرتی اور خود سے مقابلہ کر کے زیادہ بہتر نتیجہ حاصل کیوں نہیں کرتی!"

سعودی خاتون نے مزید بتایا کہ دوران تعلیم انہوں نے مختلف آرٹ ورک انجام دیے تاہم یہ یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہی لوگوں کو متوجہ کرنے کی شکل میں سامنے آ سکا۔

صالحہ کے مطابق ان کے فنی سفر کا آغاز 5 عدد Hospitality Sets کی تیاری سے ہوا۔ وہ ان کو لے کر چھ ماہ تک شہر کی دکانوں کی خاک چھانتی رہیں۔ آخر کار ایک شخص نے ان سے 450 ریال میں اسے خرید لیا جب کہ اس پر آنے والی لاگت 380 ریال تھی۔ کم منافع کے باجود صالحہ کی بے انتہا خوشی تھی۔

اپنے آرٹ ورک کے آغاز کے 5 برس بعد 2002 میں وہ اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو گئیں اور ان کا ایجنٹس کے ساتھ اپنی اشیاء کی فروخت کا تعلق بن گیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند