تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ہرمز سے لے کر ہانگ کانگ تک 10 جیوپولیٹیکل تنازعات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 12 ذوالحجہ 1440هـ - 14 اگست 2019م KSA 17:02 - GMT 14:02
ہرمز سے لے کر ہانگ کانگ تک 10 جیوپولیٹیکل تنازعات
آبنائے ہرمز
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

فرانس کے اخبار لوفیگارو میں الیکسس ورچیک نے اپنے ایک مضمون میں رواں سال موسم گرما کے دوران دنیا بالخصوص ایشیا اور مشرق وسطی میں بحران کے علاقوں پر روشنی ڈالی ہے۔ مضمون میں سب سے زیادہ اہم جیوپولیٹیکل معاملات کا عمومی جائزہ لیا گیا ہے۔

1۔ آبنائے ہرمز: امریکا اور ایران کے بیچ بحران کہا تک جائے گا؟

مئی 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کا فیصلہ کیا اور تہران پر دوبارہ سے پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے بعد سے خلیج میں کشیدگی اور تناؤ کی فضا بڑھتی جا رہی ہے۔ ادھر ایرانیوں نے جولائی کے اوائل سے اس جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں کے آغاز کا اعلان کیا جو جولائی 2015 میں طے پایا تھا۔ تہران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے شدید دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے جس کے ذریعے تیل کی عالمی تجارت کا ایک تہائی حصہ گزرتا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں کئی تیل بردار جہازوں کو تحویل میں لے چکی ہے۔ ادھر امریکا نے جہاز رانی اور ہائیڈروکاربونیٹ مواد کے عبور کو یقینی بنانے کے لیے خلیج میں ایک عسکری مشن منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

2۔ ہانگ كانگ: کیا چین کی عسکری مداخلت عمل میں آئے گی ؟

گذشتہ دو ماہ سے ہانگ کانگ میں جمہوریت کی تائید میں احتجاج دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہانگ کانگ برطانوی سامراجی کالونی تھی جو 1997 میں چین کو "خود مختاری کے اعلی درجے" کے ساتھ واپس کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے ہانگ کانگ میں آزادانہ انتخابات سمیت متعدد مطالبات سامنے آئے ہیں۔ انتخابی قانون سے متعلق مذکورہ اصلاحات چینی حکام کے لیے باعث تشویش ہیں۔ چین سخت عسکری لہجے میں یہ کہہ چکا ہے کہ "جو لوگ آگ سے کھیل رہے ہیں وہ اس میں بھسم ہو جائیں گے"۔ مظاہرین ہانگ کانگ کی خود مختاری اور آزادی کے شدید خواہاں ہیں۔

3۔ امریکا اور چین: ان دونوں کے بیچ تجارتی جنگ کہاں تک جائے گی؟

امریکا اور چین کے درمیان تزویراتی مسابقت میں تمام جہتیں شامل ہیں۔ یکم اگست کو واشنگٹن نے اعلان کیا کہ یکم ستمبر سے چینی درآمدات پر نیا ٹیکس لاگو کیا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں بیجنگ نے مژدہ سنایا کہ وہ امریکا سے بعض زرعی مصنوعات کی درآمدات کم کر دے گا۔ اس اعلان نے امریکی صدر کو چراغ پا کر دیا۔ امریکا میں 2020 کے صدارتی انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ اختلاف کا دوسرا موضوع یہ ہے کہ چین ایرانی تیل کے حوالے سے امریکی حصار سے تجاوز کر رہا ہے۔

4۔ بھارت: کشمیر کی خود مختاری ختم کرنے کا نتیجہ پُرتشدد کارروائیوں کی شکل میں ہو گا؟

بھارت میں نریندر مودی کی سرکاری نے انسداد دہشت گردی کے نام پر جمو و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا فیصلہ کر ڈالا۔ یہ مسلم اکثریتی بھارتی ریاست قدیم تاریخ کا ٹھکانا اور تصادم کا پلیٹ فارم رہا ہے۔ اسے وفاقی حکومت کے براہ راست اختیار میں دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اس سے پرتشدد کارروائیاں بھڑکنے کے علاوہ پاکستان سے تعلقات بھی بگڑ سکتے ہیں۔

5۔ امریکا، روس اور چین: ہتیاروں کی ایک نئی دوڑ کی جانب ؟

اگست کے اوائل میں امریکا سرکاری طور پر "درمیانی مار کی جوہری قوت" سے متعلق معاہدے سے نکل گیا۔ یہ سرد جنگ کے زمانے کا ایک اہم سمجھوتا ہے جس پر واشنگٹن اور ماسکو نے 1987 مین دستخط کیے تھے تا کہ یورپی میزئلوں کا بحران ختم کیا جا سکے۔ امریکا کے حوالے سے اس معاہدے سے نکل جانے کی انہیں زیادہ قیمت نہیں چکانا ہو گی جب کہ وہ روس پر اس معاہدے کے عدم احترام کا الزام عائد کرتے ہیں۔ البتہ چین کے ساتھ مخاصمت کا پہلو اہم ہے جس نے اس معاہدے پر دستخط ہی نہیں کیے تھے۔ چین نے اس دوران درمیانی رینج رکھنے والے ہتھیاروں کے حوالے سے بہت سے پروگراموں میں پیش رفت کی۔ اسی وجہ سے امریکا کے نزدیک چین ایشیا میں امریکی وجود کے لیے خطرہ ہے۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے اعلان کیا تھا کہ میزائلوں کو جلد از جلد اس خطے میں نصب کرنا ہو گا۔ اس امر نے بیجنگ کو چراغ پا کر دیا۔

6۔ شمالی کوریا: پیونگ یانگ کے دباؤ کی سطح کہاں تک جائے گی ؟

سال 2019 میں ہینوے سربراہ اجلاس میں ناکامی کے بعد مناسب طور امید کی کرن دوبارہ نمودار نہ ہو سکی۔ واشنگٹن اور پیونگ یانگ کے بیچ مذاکرات ابھی تک تعطل کا شکار ہیں۔ اس طرح جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا وعدہ پراسراریت کے پردوں میں ڈھک چکا ہے۔ امریکا کے برعکس شمالی کوریا کو ابھی تک اس امر کی حاجت ہے کہ جوہری معاملے میں کسی بھی پیش رفت سے قبل پیونگ یانگ پر سے پابندیاں اٹھائے کی ضرورت ہے۔ شمالی کوریا نے اگست میں جنوبی کوریا اور امریکا کے بیچ عسکری مشقوں کی بھرپور مذمت کی۔ پیونگ یانگ حکومت بھی اپنا مکمل دباؤ ڈالا ہوا ہے۔ وہ مختصر فاصلے کے بیلسٹک میزائل کے تجربوں اور بیلسٹک میزائلوں سے لیس جدید ترین آبدوز تعمیر کرنے پر روشنی ڈالنے سے کسی طور نہیں ہچکچاتا۔

7۔ جنوبی کوریا اور جاپان: ان کے درمیان تاریخی اختلاف تجاوز کر جائے گا ؟

سب سے کم شہرت رکھنے والا اختلافی تاریخ جنوبی کوریا اور جاپان کے بیچ ہے۔ یہ کئی ماہ سے بڑھتا جا رہا ہے اور کئی ہفتوں سے تو یہ بد سے بدتر ہو گیا ہے۔ اس بحران کا تعلق 1910 سے 1945 کے دوران جاپانی شہنشاہیت کی جانب سے جنوبی کوریا پر وحشیانہ سامراج سے ہے۔ یہ بحران 1965 میں عام تعلقات کے معاہدے پر دستخط کے باوجود جاری وساری ہے۔ تنازع کا ایک پہلو ڈوکڈو جزیرے کے ساتھ علاقائی اختلاف ہے جس پر سیؤل کا کنٹرول ہے۔

8۔ داعش: ایک بار پھر نمودار؟

پانچ ماہ قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ داعش تنظیم پر "100% کامیابی" حاصل کر لی گئی ہے۔ تاہم یہ تنظیم ایک بار پھر ایک نئی صورت میں پہلے سے زیادہ خفیہ انداز سے ظاہر ہو رہی ہے۔ تنظیم موجودہ افواج کے خلاف بغاوت کی جنگ لڑ رہی ہے خواہ وہ شامی ہو ، عرقی ہو یا پھر کرد فورسز ہوں۔

9) شام: حالت جنگ کے شکار ملک کے شمالی حصے میں کیا ہو رہا ہے؟

شامی حکومت نے اپریل کے اواخر میں اپنے روسی اور ایرانی حلیفوں کے ہمراہ ادلب پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہ مسلح گروپوں کے زیر کنٹرول آخری علاقہ ہے۔ اس سرحدی علاقے میں موجود ترک فوج براہ راست شکل میں یا پھر انقلابی جماعتوں کے ذریعے اپنا نفوذ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اسی طرح وہ ماسکو کے ساتھ کردوں کا معاملہ بھی زیر بحث لا رہے ہیں۔ انقرہ شام کے شمال اور مشرق میں بعض حصوں پر غلبہ رکھنے والے کردوں کے خلاف فوجی آپریشن کی دھمکی دیتا ہے۔ کردوں کو داعش کے خلاف برسر پیکار امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی سپورٹ بھی حاصل ہے۔

10۔ وینزویلا: نئی پابندیوں کے بعد کیا ہو گا؟

امریکی حکومت نے نیکولس میڈورو کے زیر صدارت وینزویلا پر نئی مالی پابندیاں عائد کرنے کے حق میں رائے شماری انجام دی۔ وینزویلا میں حکومت کو گزشتہ کئی ماہ سے خوان گوائڈو کے زیر قیادت امریکی حمایت یافتہ اپوزیشن کا سامنا ہے۔ تاہم خود کو عبوری صدر کے منصب پر فائز کرنے والے گوائڈو ابھی تک مؤثر شکل میں اقتدار پر قبضہ نہیں جما سکے۔ نئی پابندیاں وینزویلا میں اقتصادی اور سماجی صورت حال کو ابتر کرنے کا ذریعہ بنیں گی۔ تاہم یہ نیکولس میڈورو کو مضبوط بنا رہی ہیں جو سامراجیت کے معاند اپنے خطاب میں زیادہ بڑے پیمانے پر امریکا کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند