تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
"ڈریگوون آپریشن" جس نے جنوبی فرانس میں ہٹلر کا وجود ختم کیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م KSA 15:53 - GMT 12:53
"ڈریگوون آپریشن" جس نے جنوبی فرانس میں ہٹلر کا وجود ختم کیا
تیونس ـ طہ عبدالناصر رمضان

دوسری جنگ عظیم میں نورمینڈی میں لینڈنگ آپریشن کی منصوبہ بندی کے دوران اتحادیوں نے فرانس کے جنوب میں لینڈنگ کے ایک دوسرے آپریشن کا منصوبہ وضع کرنے کا سوچا۔ اس کا مقصد جرمنوں پر دباؤ ڈال کر انہیں جلد فرانسیسی سرزمین سے نکلنے پر مجبور کرنا تھا۔

فرانس کے جنوب میں اس لینڈنگ آپریشن کا خیال 1942 سے سامنے تھا جب امریکی جنرل جارج مارشل نے اس کی تجویز پیش کی۔ سال 1943 میں سوویت کمانڈر جوزف اسٹالن نے تہران کانفرنس کے دوران اس امر کو بہتر جانتے ہوئے اسے (Overlord) آپریشن کا جزو لا ینفک قرار دیا۔ تاہم برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے اسے فوجیوں کو ہلاکت میں ڈالنے کا باعث قرار دیا۔ چرچل اس کے بدلے بلقان کی جانب فوجی آپریشن کو ترجیح دی۔

روسی حکمران جوزف اسٹالن

امریکی جنرل جارج مارشل

اس دوران جنوبی فرانس میں لینڈنگ کے آپریشن کو امریکی جنرل ڈوائٹ آئزن ہاور کی حمایت حاصل ہو گئی۔ اس آپریشن کو ابتدا میں (Anvil) اور بعد ازاں (Dragoon) کا نام دیا گیا۔ جنرل آئزن ہاور کا کہنا تھا کہ آپریشن کی کامیابی کی صورت میں اتحادیوں کو ٹولون اور مرسیلیا کی اضافی بندرگاہیں میسر آ جائیں گی۔ اس کے علاوہ کارروائی کے نتیجے میں جرمنوں میں افراتفری پیدا ہوگی اور وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس طرح فرانس کے شمال میں بھی امریکیوں اور برطانویوں پر دباؤ میں کمی واقع ہو گی۔

البتہ اتحادی ممالک اطالیہ میں اپنی عسکری پیش قدمی میں تاخیر اور سمندر میں فوجیوں کی لینڈنگ کے واسطے جہازوں کی کمی کے سبب ڈریگوون آپریشن کو کئی ماہ کے لیے اگست 1944 تک ملتوی کرنے پر مجبور ہو گئے۔

ڈریگوون منصوبے کی نگرانی امریکی جنرل جیکب ڈویئرز نے کی جب کہ آپریشن کی قیادت امریکی جنرل الیگزینڈر پیچ اور ان کے فرانسیسی ہم منصب جین ڈی لاترے ڈی تیسینی نے کی۔ آخر کار یہ فیصلہ کیا گیا کہ نورمینڈی لینڈنگ آپریشن کے آغاز کے تقریبا ڈھائی ماہ بعد اگست 1944 کے وسط میں ڈریگوون آپریشن شروع کیا جائے گا۔

جیکب دیفرز

آئزن ہاور

آپریشن کے لیے اتحادی ممالک نے فرانس کی تین بندرگاہوں کا انتخاب کیا۔ ان میں پہلی بندرگاہ(Cavalaire-sur-Mer) کے لیے (Alpha) کی علامت ، دوسری بندرگاہ(Sainte-Maxime) کے لیے (Delta) کی علامت اور تیسری بندرگاہ(Saint-Raphaël) کے لیے (Camel) کی علامت مقرر کی گئی۔

الیگزینڈرباتش

بالآخر 15 اگست 1944 کی صبح شدید فضائی بم باری اور توپوں کی گولہ باری کے بیچ اتحادیوں نے لینڈنگ کا آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن میں تقریبا دو ہزار کشتیوں کا استعمال ہوا جن کے ذریعے لاکھوں فوجیوں کو جنوبی فرانس کے ساحلوں پر منتقل کیا گیا۔ اس سلسلے میں پہلی کھیپ کے طور پر اتحادیوں نے 50 ہزار فوجی اتارے۔ اگلے چند روز میں یہ تعداد 3.5 لاکھ تک پہنچ گئی۔

 

نورمینڈی لینڈنگ آپریشن میں مصروف ہونے وار مطلوبہ سپورٹ کی عدم دستیابی کے سبب جنوبی فرانس میں تقریبا 2.5 لاکھ اہل کاروں پر مشتمل جرمن فوج پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔

اتحادی ممالک کی افواج کو پیش قدمی میں کسی بڑی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ 21 اگست کو(Aix-en-Provence) اور اس کے سات روز بعد مرسیلیا کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئیں۔ آپریشن ڈریگوون کے نتیجے میں اتحادیوں نے جنوبی فرانس کو آزاد کرا لیا اور اس دوران جرمنوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اتحادیوں نے 25 ہزار سے زیادہ جرمن فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کیا جب کہ 1.5 لاکھ سے زیادہ جرمن فوجی قیدی بنا لیے گئے۔ اس طرح فرانس کی آزادی کا آپریشن تیز ہو گیا اور آخرکار وہاں سے نازیوں کو نکال باہر کیا گیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند