تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب کے علاقے شیبہ میں تیل اور گیس کے کتنے وسائل ہیں؟
شیبہ قدرتی وسائل سے مالا مال دنیا کا دولت مند علاقہ ہے، آپ بھی جانیے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 17 ذوالحجہ 1440هـ - 19 اگست 2019م KSA 18:30 - GMT 15:30
سعودی عرب کے علاقے شیبہ میں تیل اور گیس کے کتنے وسائل ہیں؟
شیبہ قدرتی وسائل سے مالا مال دنیا کا دولت مند علاقہ ہے، آپ بھی جانیے
الاحسا ۔ ابراہیم الحسین

حال ہی میں سعودی عرب کے متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب علاقے الشیبہ اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا جب وہاں پر موجود ایک گیس فیلڈ پر یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے حملہ کرکے وہاں تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی زیر نظر رپورٹ میں اس اہم علاقے کی جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ وہاں پرموجود قدرتی وسائل کی بہ دولت اس کی غیر معمولی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔

رپورٹ کے مطابق الشیبہ شہر متحدہ عرب امارات کی جنوبی سرحد سے متصل سعودی عرب کا قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ ہے۔ ربع الخالی صحرا کی ریتلی چوٹیوں پر واقع یہ علاقہ ناقابل رہائش ہے اور یہاں پر زندگی کا وجود ناممکن ہے۔

تاہم سعودی عرب نے وہاں پرایک گیس فیلڈ کا منصوبہ قائم کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ ریتلے صحرا میں بھی زندگی کا وجود ممکن ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے الشیبہ میں گیس فیلڈ قائم کر کے اس علاقے کو مزید پرشکوہ بنا دیا ہے۔ سعودی عرب کی تیل کمپنی 'آرامکو' نے سنہ 1998ء میں پہلی بار اس علاقے میں فیف فیلڈ قائم کرنے کے ساتھ گیس کے متعدد کارخانے قائم کیے۔

شیبہ کا علاقہ قدرتی وسائل کے اعتبار سے دنیا کا دولت مند مقام سمجھا جاتا ہے۔ آرامکو کمپنی کے سابق مشیر برائے پٹرولیم اور شاہ سعود یونیورسٹی میں ارضیات کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز بن لعبون نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی اعتبار سے شیبہ کا علاقہ وادی السھباء اور وادی الرمہ کے درمیان واقع ہے۔ اس کے جنوب میں میں بطحاء گذرگاہ واقع ہے۔ ان دونوں وادیوں کے درمیان گیس اور تیل کے 100 کنویں واقع ہیں۔ یہ دونوں وادیاں بھی خلیجی ممالک ہی نہیں بلکہ قدرتی وسائل کے اعتبار سے خطے کے قدرتی وسائل کے حوالے سے زرخیرعلاقوں میں شامل ہیں۔

سنہ 2003ء میں سعودی عرب نے اس علاقے میں گیس کے ذخائر کی دریافت کے لیے سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس کے مرکزی گیس فیلڈ یومیہ پیدوار کا اندازہ ساڑھے سات لاکھ بیرل یومیہ لگایا گیا ہے۔

الشیبہ گیس فیلڈ کی مجموعی پیدوارا یومیہ 13 لاکھ بیرل تک پہنچ سکتی ہے وہاں سے70 سال تک یومیہ تیرہ لاکھ تیل نکالا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک چھوٹا ہوائی اڈا قائم ہے جسے آرامکو کے ملازمین دمام اور الاحساء میں آمد ورفت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ریتلے صحراء کی وجہ سے جہاں کا ماحول اور موسم کافی پیچیدہ ہے اور یہ دنیا کے سب سے بڑے ریتلے صحراء سے متصل ہونے کی وجہ سے عام شہری آبادی کے لیے موزوں نہیں مگر یہاں زیر زمین موجود گیس اور تیل کے ذخائر لامحدود ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند