تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
'سعودی عرب میں چار سال کے دوران خواتین کے لیے انقلاب آفریں تبدیلیاں'
ہسپانوی خاتون صحافی کے سعودی عرب میں قیام کے دوران تجربات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 21 ذوالحجہ 1440هـ - 23 اگست 2019م KSA 08:27 - GMT 05:27
'سعودی عرب میں چار سال کے دوران خواتین کے لیے انقلاب آفریں تبدیلیاں'
ہسپانوی خاتون صحافی کے سعودی عرب میں قیام کے دوران تجربات
سعودی خاتون گاڑی چلاتے ہوئے: فائل فوٹو
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

گذشتہ چند برسوں کے دوران سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں معاشی اور سماجی اصلاحات کے بے مثال پروگرام کے تحت کئی ایسے اقدامات کیے جنہوں نے تمام طبقات کی زندگیوں پر اس کے مثبت اثرات مرتب کیے۔ انہی اصلاحات میں خواتین کو بہت سے شعبوں میں با اختیار بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

نئی اصلاحات کے ذریعے خواتین کو کئی روایتی پابندیوں سے آزاد کیا گیا۔ چار سال کے دوران سعودی عرب کے معاشرے میں خواتین کے حوالے سے کیا تبدیلیاں آئیں؟ اس سوال کا جواب ایک ہسپانوی خاتون صحافیہ نیکولا سوٹکلیو نے سعودی عرب میں اپنے چار سالہ قیام کے دوران اپنے تجربات کی روشنی میں مفصل مضمون میں روشنی ڈالی ہے۔ یہ مضمون اسپانوی اخبار ' ال مونڈو' میں شائع ہوا۔

نیکولا سوٹکلیو کا کہنا ہے کہ 'میں نے سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران خواتین کے لیے بہت کچھ بدلتے دیکھا۔ لڑکیاں پارکوں، سڑکوں اور کھلے مقامات پر میرے پاس آتیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک چمک ہوتی۔ وہ ایک دوسرے کو میرے پاس جمع کرتیں۔ اس کے بعد ان میں سے کوئی مجھے سعودی عرب میں آمد پر خوش آمدید کہتی مگر مجھے افسوس ہے کہ ان خواتین کو ملک سے باہر کم ہی لوگ خوش آمدید کہتے ہیں'۔

میڈیا کا منفی تاثر

ہسپانوی صحافیہ نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ سعودی مصورہ ھیا نے بتایا کہ ہم لوگ لندن میں رہتے تھے۔ ہمارے لیے جلد کا بیگ اٹھانا پٹرول کے جری کین جیسا تھا مگر یقین جانیے کہ وہ بیگ بے حد خوبصورت تھا۔

مصنفہ کا مزید کہنا ہے کہ "وہ ہماری طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے ہم ... وحشی ہیں۔ کیا یہ صحیح لفظ ہے؟"سعودی عرب کی پہلی پیشہ ور ماڈل میں سے ایک نورا کے نام سے جانی جاتی ہیں۔اس نے کہا کہ "میڈیا کے ذریعہ اپنے ملک کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں پر محض ایک نظر ڈالنے سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے'۔

ہسپانوی صحافیہ نے لکھا کہ 'سب سے تکلیف دہ بات دہشت گردی سے متعلق اشارے ہیں۔ بہت ساری خواتین نے مجھ سے اعتراف کیا ہے کہ وہ بیرون ملک حجاب اتار رہی ہیں ، اس لئے نہیں کہ وہ خود کو آزاد محسوس کریں ، بلکہ ہراساں ہونے سے بچنے کے لیے'۔

"یونیورسٹی کی ایک اور پروفیسر، جس نے اپنا نام ندا بتایا نے کہا کہ میں ہمیشہ اپنی ماں سے کہتی ہوں: آپ کی نسل بادشاہوں اور ملوک کی نسل ہے۔ جب لوگ یہ کہتے کہ ہم عرب ہیں تو لوگوں کا ذہن اللہ کے چراغ اور جن کی طرف لوٹ جاتا اور آج ہم خود کو سعودی عرب کا باشندہ کہنے سے بھی ڈرتے ہیں'۔

مصنفہ کا اپنے بارے میں تاثر

نیکولا اسٹکلیو کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران ہمیں خواتین کے معاملے میں بہت محتاط رہنا پڑتا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ تعصبات ایک دوطرفہ گلی ہے۔ ایک آزاد مغربی خاتون کی حیثیت سے لوگ مجھے میری نظر سے دیکھتے۔ یہ حسد کی نظر نہیں بلکہ ایک تشویش کی نگاہ ہوتی۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ایک منحرف، تنہا اور دکھی عورت ہے، جسے جب اس کی عمر 18 سال تھی تو اسے زبردستی گھر سے بے دخل کردیا گیا۔

ریاض سے تعلق رکھنے والے فیشن ڈیزائنر رانا کا کہنا ہے ، "میں بیرون ملک کے لوگوں کو یہ بتانا چاہوں گی کہ ہم یہاں مضبوط اور خوش ہیں۔ "مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہم تصویروں کے شو میں ایسے نہیں ہیں۔ میں ایک ماں، ایک دوست، ایک بہن، ایک بیٹی اور ڈیزائنر ہوں اور میں ہر دن کسی دوسری عورت کی طرح گزارتی ہوں۔"

مصنفہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو اب کافی آزادیاں ہیں۔ میرا ہر دن ڈریس اسٹیج سے شروع ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران، ہر صبح گھر سے نکلے اس سے پہلے، میں نے الماریوں کے بڑھتے ہوئے گروہ میں سے ایک چادر کا انتخاب کیا۔ حالانکہ سعودی عرب میں لباس کے معاملے میں کوئی یکسانیت نہیں اور ہرایک کو مرضی کا لباس پہننے کااختیار ہے۔

نورہ کا کہنا ہے کہ وہ میں خاتون یونیورسٹی میں کام کرتی ہوں۔ میں یونیورسٹی میں صبح کی شفٹ میں لڑکیوں کو دیکھتی جو لمبی، سیاہ چادریں اوڑھے وہاں آتیں۔ ان کے بالوں کے مختلف اسٹائل، انگلیوں پر پہنی انگشتریاں اور سنواری گئی پلکیں صاف دکھائی دیتیں۔ سڑکوں پرخواتین اس لیے یہ لباس نہیں پہنتیں کہ وہ مردوں سے الگ دکھائی دیں بلکہ یہ لباس ان کی زیب وزینت کا حصہ ہے'۔

سوشل میڈیا کا استعمال اور سعودی عرب میں آزادی نسواں

سوٹکلیو نے لکھا ہے کہ سعودی عرب کے نوجوان سوشل میڈیا کا استعمال اتنا زیادہ کرتے ہیں کہ دنیا میں کہیں اور ایسا نہیں۔ خواتین گھروں سے باہر سر ڈھانپ کر نکلتی ہیں مگر پرائیویسی میں وہ سیلفیاں بنانے میں آزاد ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں انٹرنیٹ کی آمد حقیقی انقلاب کے مترادف ہے۔ یونیورسٹی کی ایک استاد کی حیثیت سے موسیقی کے بارے میں بات کرنا ممنوع تھی۔ اب بھی بعض لوگ اسے اچھا نہیں سمجھتے مگر میں نے دیکھا کہ یونیورسٹی آنے والی سعودی طالبات انٹرنیٹ سے ڈائون لوڈ کی گئی موسیقی سے بھرپور لطف اندوز ہوتیں۔

اس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کا مطلب سعودی عرب کے لئے ایک پاپ کلچر سے زیادہ اہم ہے، سیلفیاں لینا اور ڈیٹنگ۔ انٹرنیٹ نے خواتین کی زندگیوں کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔

ہسپانوی خاتون صحافیہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ سال سعودی عرب میں خواتین کی آزادیوں کے حوالے سے اہم ترین ہیں۔ اس عرصے میں انہیں ووٹ ڈلنے، کاروبار کرنے، ڈرائیونگ اور سرپرست کے بغیر سفر کی آزادی ملی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جامعات میں بہتر تعلیمی نتائج حاصل کرنے میں طالبات طلباء سے آگے ہیں۔ اب مملکت میں خواتین کو وکالت کرنے، انجینیرنگ، فوج میں بھرتی ہونے اور کئی دوسرے شعبوں میں کام کا حق ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند