تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
'فوٹو گرافی کے جنون نے سعودی عرب کی قدیم ثقافت محفوظ کردی'
مٹی سے بنے گھروں کو کیمرے میں محفوظ کرنے والے سعودی فوٹو گرافر کی کہانی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م KSA 18:11 - GMT 15:11
'فوٹو گرافی کے جنون نے سعودی عرب کی قدیم ثقافت محفوظ کردی'
مٹی سے بنے گھروں کو کیمرے میں محفوظ کرنے والے سعودی فوٹو گرافر کی کہانی
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ حامد القرشی

سعودی عرب میں پرانے عمارتوں بالخصوص مٹی اور گارے سے بنے گھروں کو تصاویر اور دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے کے جنون نے اس کے اس عظیم مشن کوغیرمعمولی مقبولیت اور شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

فوٹو گرافرلافی شباب الشریطی نے حائل کے علاقے میں پرانے اور مٹی سے بنے گھروں کو تصاویر اور کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کا مشن کئی سال قبل شروع کیا۔ اس نے نہ صرف سعودی عرب کے قدرتی اور جمالیاتی حسن کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرکےسعودی قومی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرکے قومی خدمت انجام دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئےانہوں نے بتایا کہ اس نے 1987ء میں مڈل اسکول میں تعلیم کے دوران فوٹو گرافی شروع کی۔ میں اس وقت کوڈک فلم کیمرا استعمال کرتا تھا۔ 1988ء سے میں نے باقاعدہ طور پر فوٹو گرافی اور مناظر کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے کا آغاز کیا۔

الشریطی نے کہا کہ میری لی گئی تصاویر انتہائی خوبصورت ، احساسات اور پرانی یادوں کو محفوظ کرنے کا ایک ذریعہ بن گئیں۔ میں نے ان تصاویر کو البم کی شکل میں یکجا کرنا شروع کردیا۔ میں جب بھی ان لحموں کو یاد کرتا ہوں تو ان البم میں لی گئی تصاویر دیکھنے لگ جاتا ہوں۔

سعودی کیمرہ مین نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ فلم بندی کے دوران مشکل حالات سے گذرا تھا۔ تیس سال کے دوران میرے متعدد کیمرے ضائع بھی ہوئے مگر میں اپنے پسندیدہ اور محبوب مشغلہ کی مشق کرنے سے باز نہیں آیا۔ 1990 میں حائل شہر شدید بارش ہوئی ۔میں بارش کے باعث آبشاروں کی تصاویر لینے اجا شہر گیا جہاں نے میں ان آبشاروں کے مناظر اپنے کیمرے میں محفوظ کیے۔

افسوسناک دن

الشریطی نے بتایا کہ اجا کے پہاڑی علاقوں کے سفر کے دوران میں بہت پرجوش تھا۔ میں تصاویر لینے کے لیے پہاڑ پر چڑھ گیا ، اور کیمرہ گر کرسیلاب میں بہہ گیا۔ یوں اس اس پورے دن کی تصاویر کھو گئیں۔ میرے لیے یہ ایک افسوسناک دن تھا جس کو میں تین دہائیوں میں نہیں بھول پایا۔ واپسی پرمیں نے فورا ہی ایک اور کیمرہ خرید کیا اور دوبارہ اپنا مشن شروع کردیا۔

الشریطی کا کہنا تھا کہ میں نے شمالی سعودی عرب کے علاقے حائل میں موجود پرانے اور مٹی سے بنے گھروں کی تصاویر لینا شروع کردیں۔ اس کے بعد اجا پہاڑوں اور سلما پہاڑوں کے خوبصورت مقامات کی تصویر کشی کی۔ مصمک پہاڑوں تبوک میں مدائن اور مقام شعیب علیہ السلام سے منسوب تاریخی مقامات اور کئی دوسرے اہم تاریخی مقامات کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرکے سعودی عرب کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کی حفاظت کی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند