تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قصہ سعودی عرب کے مغربی صحرا میں موجود دروازوں کا!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 19 ربیع الاول 1441هـ - 17 نومبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 11 ربیع الاول 1441هـ - 9 نومبر 2019م KSA 07:26 - GMT 04:26
قصہ سعودی عرب کے مغربی صحرا میں موجود دروازوں کا!
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ ابراہیم الحسین

دروازوں اور ان کے ڈیزائن کے جنون کی حد تک شوق رکھنے والے ایک سعودی نوجوان نے مملکت کے جنوبی صحراء میں موجود دروازوں کے راز سے پردہ اٹھایا ہے۔

سعودی آرٹسٹ معاذ العوفی کا کہنا ہے کہ مملکت کے مغربی صحراء میں موجود ان دروازوں کے پیچھے کئی سربستہ راز اور کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ ان دروازوں کے بارے میں تفصیلات اور ان کے پیچھے کہاںیوں کے بارے میں نوجوان آرٹسٹ معاذ العوفی نے بیان کیں اور بتایا کہ مملکت کے جنوبی صحراء میں جگہ جگہ دروازے رکھے گئے ہیں تاکہ یہاں آنے والے سیاح اور آرٹ کے شوقین ان سے مستفید ہوسکیں۔

فوٹو گرافر معاذ العوفی

مدینہ منور اور اس کے اطراف واکناف میں گھروں میں استعمال ہونے والے ان دروازوں، ان کے خوبصورت دیدہ زیب ڈیزائن اور ان کی تیاری کے حوالے سے کئی باتیں مشہور ہیں۔ معاذ العوفی نے ان تاریخی دروازوں کو فنون لطیفہ کے ایک ذخیرے کے طور پر نئی نسل تک پہنچانے کے لیے ان کی تصاویر کا ایک اچھا خاصہ ذخیرہ جمع کیا ہے۔

'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے العوفی نے ان دروازوں کی کہانی کے بارے میں بتایا جو اس نے المنسہ گاؤں کے صحرا میں لگے دیکھے تھے۔ اس نے کہا کہ میں نے مسجد نبوی کے اطراف میں پرانے دور میں لگائے گئے 15 دروازوں کی تصاویر محفوظ کیں۔ اس نے علاقے کے لوگوں اور ان کے گھروں سے منسلک کہانیوں کو یاد رکھنے کے لیے صحرا میں تصاویر کھینچیں۔ معاذ کا کہنا ہے کہ دروازے تہذیب رفتہ کی یادگاری علامتیں ہوتی ہیں اور انہیں کسی نا کسی طرح محفوظ رکھنا چاہیے۔

35 سالہ عوفی نے کہا کہ دروازوں کو ریت کے ٹیلوں میں پھیلانے اور جگہ جگ نصب کرنے کا مقصد آنے والی نسلوں کو ان کے بارے میں متوجہ کرنا ہے۔

ان دروازوں کو سیاحوں اور آرٹ کے چاہنے والوں نے حیرت سے دوچار کیا ہے۔ العوفی کا کہنا ہے کہ اس نے اس کی جمع کردہ دروازوں کی تصاویر مختلف نمائشوں میں پیش کی گئی ہیں۔ دروازوں کی تصاویر آڑٹ کا شاہکار ہونے کے ساتھ ساتھ آئندہ نسلوں کے لیے ایک تاریخی یادگار بھی ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دروازوں کے مختلف پرانے ڈیزائن سعودی عرب کی ثقافت کو ظاہر کرتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند