تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اسد خاندان پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنی دولت کیسے ماسکو منتقل کررہا ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م KSA 21:20 - GMT 18:20
اسد خاندان پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنی دولت کیسے ماسکو منتقل کررہا ہے؟
شامی صدر بشارالاسد کے کزن رامی مخلوف ملک کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی سمیت مختلف کاروباروں کے مالک ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

روس اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد اور ان کے خاندان کو امریکا اور یورپ کی پابندیوں سے بچانے کے لیے بھرپور کردار ادا کررہا ہے اور ان کی ہر طریقے سے مدد کررہا ہے۔اس کے بدلے میں اسد خاندان اپنے سرمائے کو ماسکو میں منتقل کررہا ہے اور شامی صدر کے کزن مخلوف خاندان نے روسی دارالحکومت میں چار کروڑ ڈالر مالیت کے اپارٹمنٹ خرید کر لیے ہیں۔

مخلوف شام کا امیر ترین خاندان ہے۔دنیا میں امیرکبیر افراد اور خاندانوں کی دولت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے واچ ڈاگ ’گلوبل وٹنس‘کی رپورٹ کے مطابق مخلوف خاندان کا شام میں 2011ء میں خانہ جنگی چھڑنے سے قبل ملک کی 60 فی صد معیشت پر کنٹرول تھا۔

لیکن امریکا نے جب اس خاندان کے افراد کے شام میں پُرامن مظاہرین کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں میں کردار پر اثاثے ضبط کر لیے،سوئس بنکوں میں بھی ان کے اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے اور یورپی ممالک نے ان کے ویزے منسوخ کردیے تو انھوں نے روس کا رُخ کر لیا اور اپنی دولت کو برقرار رکھنے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کر لیے۔

گلوبل وٹنس کی رپورٹ کے مطابق مخلوف خاندان نے ماسکو کے مشہور’’دارالحکومتوں کے شہر‘‘ کمپلیکس میں انیس بلند وبالا اپارٹمنٹس خرید کیے ہیں۔اس جائیداد کے منظرعام پر آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اس الزام کو تقویت ملی ہے کہ مخلوف برادران امریکا اور یورپی یونین کی پابندیوں سے محفوظ رہ کر اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شام کے سابق سفارت کار بسام برابندی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ روس مخلوف خاندان کو اپنے ہاں سرمایہ کاری لانے کی شرط پر منی لانڈرنگ میں مدد دے رہا ہے۔ان کے بہ قول ’’ روس ایک بڑی مارکیٹ ہے اور اس کو مخلوف خاندان ایسے گروپ ہی چلا رہے ہیں۔اس لیے وہاں روسی حکومت کے زیر سایہ شراکت داروں کی تلاش کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

ماسکو میں سب سے زیادہ اپارٹمنٹ بشارالاسد کے فرسٹ کزن حافظ مخلوف کے ملکیتی ہیں۔انھوں نے شامی انٹیلی جنس کے اعلیٰ افسر کی حیثیت سے پُرامن مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور اسی بنا پر یورپی یونین نے ان کے خلاف پابندیاں عاید کردی تھیں۔

حافظ مخلوف اب روس میں متعدد پراپرٹی کمپنیوں کے مالک ہیں۔انھوں نے لبنان کی ایک آف شور کمپنی نیلام سال سے قرضہ حاصل کیا تھا۔یہ کمپنی ان کے ایک اور کزن محمد عباس کی ملکیتی ہے۔مخلوف نے 2018ء میں روسی کمپنیوں میں اپنے حصص ایک لبنانی کمپنی بریانا سال آف شور کو فروخت کردیے تھے۔انھوں نے مبینہ طور پر یہ سمجھوتا اپنی رقم کو شام سے روس منتقل کرنے کے لیے کیا تھا۔

حافظ مخلوف کے بڑے بھائی اور شام کی امیرترین شخصیت رامی مخلوف بھی اپنے کالے دھن کو سفید کرنے میں کسی سے پیھے نہیں رہے۔رامی اور ان کی بیوی نے ماسکو میں ’’دارالحکومتوں کے شہر‘‘ میں متعدد اپارٹمنٹ خرید کیے ہیں۔وہ شام کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی سیریا ٹیل کے مالک ہیں۔اس کے علاوہ وہ متعدد ہولڈنگ کمپنیوں کے بڑے حصص دارہیں۔انھوں نے تیل ، گیس اور شہری ہوابازی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے 2011ء میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پاداش میں شامی صدر بشار الاسد ، ان کی حکومت کے نو عہدے داروں، تین اداروں اور مخلوف برادران پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔حافظ مخلوف پر اس سے پہلے 2007ء میں بھی امریکا نے لبنان کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے اور وہاں جمہوری عمل کی راہ میں روڑے اٹکانے کے الزام میں پابندیاں عاید کی تھیں۔

روس: ایک متبادل جنت ارضی

مذکورہ رپورٹ کے مطابق ’’روس شامی نظام کے لیے کالے دھن کو سفید کرنے اور پابندیوں سے بچنے کے عمل میں ایک متبادل محفوظ جنت ارضی کا کردار ادا کررہا ہے اور بظاہر شامی نظام وسیع تر مالیاتی نظام میں داخلے کے لیے ماسکو کو ایک گیٹ وے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔‘‘

گلوبل وٹنس نے روس کے بنکوں کو بھی شامی نظام کو ترسیل زر میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔اس ملک کا سب سے بڑا 'ایس بربنک ' مخلوف کی ماضی میں ملکیتی ایک پراپرٹی کمپنی کو بنک کاری کی خدمات مہیا کرچکا ہے۔

بسام برابندی کے بہ قول روسی دارالحکومت میں مخلوف خاندان کے ملکیتی اپارٹمنٹس تو سامنے کی بات ہے لیکن اس کے علاوہ بھی ان کے کاروبار، فرمیں اور فیکٹریاں ہیں جو ہرکسی کو کم ہی نظر آتی ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ قریباً نو سال سے خانہ جنگ جاری ہے۔ شام میں 2011ء کے اوائل میں صدر بشارالاسد کے مطلق العنان اقتدار کے خلاف پُرامن احتجاجی مظاہروں سے تحریک شروع ہوئی تھی۔ بشار الاسد نے اپنے بھائی بندوں کی مدد سے اس کو تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی تھی۔ان کی فوج کی جبروتشدد کی کارروائیوں کے خلاف شامی نوجوانوں نے ہتھیاراٹھا لیے تھے اور پھر ملک کے بیشتر علاقوں میں خانہ جنگی چھڑ گئی تھی۔اس میں اب تک تین لاکھ ستر ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند