تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
وینزویلا میں حزب اللہ کیا کررہی ہے؟ قتل ، منشیات کا دھندا اورسونے کی غیرقانونی کان کنی
حسن نصراللہ وینزویلا میں بھوک ، قتل اور جبرواستبداد کی کی تربیت دے رہے ہیں: حزبِ اختلاف کی سفیر کے انکشافات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 4 ربیع الثانی 1441هـ - 2 دسمبر 2019م KSA 05:09 - GMT 02:09
وینزویلا میں حزب اللہ کیا کررہی ہے؟ قتل ، منشیات کا دھندا اورسونے کی غیرقانونی کان کنی
حسن نصراللہ وینزویلا میں بھوک ، قتل اور جبرواستبداد کی کی تربیت دے رہے ہیں: حزبِ اختلاف کی سفیر کے انکشافات
وینزویلا کی حزبِ اختلاف کی برطانیہ میں سفیر وینیسا نیومن
العربیہ ڈاٹ نیٹ

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے وینزویلا میں ایک بڑےعلاقے پر قبضہ کررکھا ہے اور ریاست کے اندر اپنی ایک ریاست قائم کررکھی ہے۔اس کے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو سے قریبی تعلقات استوار ہیں اور یہ وہاں منشیات کی اسمگلنگ اور سونے کی غیر قانونی کان کنی میں ملوّث ہے۔

یہ الزامی انکشافات وینزویلا کی حزبِ اختلاف کی برطانیہ میں سفیر وینیسا نیومن نے العربیہ سے خصوصی انٹرویو میں کیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کی وینزویلا میں موجودگی ہمارے لوگوں کو موت اور مسائل کا شکار کرنے کا حصہ ہے۔اس تنظیم کے لیڈر حسن نصراللہ ہماری سیاست میں دخیل ہیں اور وہ اپنے کارکنوں کو ہمیں قتل ، بھوک اور جبر واستبداد کا شکار کرنے کی تربیت دے رہے ہیں۔

نیومن نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے موقع پر العربیہ سے خصوصی گفتگو کی تھی اوراس میں لبنانی ملیشیا کی اپنے ملک میں غیر قانونی سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ حزب اللہ نے وینزویلا کے ایک بڑے علاقے پر کنٹرول حاصل کررکھا ہے۔ملک کے مغربی علاقے میں حزب اللہ عشروں سے منشیات کا دھندا چلا رہی ہے۔نیومن کے بہ قول انھوں نے بہ ذات خود یہ معلومات 2012ء میں بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو فراہم کی تھیں۔

نیومن نے بتایا کہ ’’حزب اللہ نے وینزویلا کے مشرقی علاقے میں سونے کی غیرقانونی کان کنی کے ذریعے منافع کما رہی ہے۔اس سونے کو مادورو کے طیاروں کے ذریعے ترکی اور ایران میں منتقل کیا جاتا ہے۔‘‘واضح رہے کہ وینزویلا میں سونے کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔

نیومن نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ ’’وینزویلا کی حزب اللہ اور اس کے پشتیبان ایران کے ساتھ تعلق داری بالائی سطح سے قائم ہے۔نیکولس مادورو کے حزب اللہ کے ساتھ براہ راست تعلقات استوار ہیں اور مادورو کے وزیر خارجہ جارج ایریزا بیروت میں حسن نصراللہ سے براہ راست ملاقات کے لیے جاتے ہیں۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ وینزویلا کے شامی لبنانی نژاد وزیر صنعت اور قومی پیداوار طارق الاعصامی کے حزب اللہ کے ساتھ اپنے ملک کے براہ راست رابطہ کار ہیں۔امریکانے 2017ء میں الاعصامی کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں بلیک لسٹ کردیا تھا۔الاعصامی اور ان کے خاندان نے حزب اللہ کے وینزویلا میں قدم جمانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔اس نے منشیات فروشی کا دھندا کرنے والے ایک سرغنہ کی حیثیت سے کاروبار شروع کیا تھا۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق حزب اللہ نے ایک سو چالیس ٹن کیمیکل حاصل کیا۔یہ کوکین کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

نیومن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک وینزویلا میں مادورو اور حزب االلہ کے گٹھ جوڑ کو توڑنے میں مدد دیں گے۔

’’حزب اللہ ظالم نظام کا حصہ ہے،وہ ہمارے ظالموں کی مدد کررہی ہے اور ہمیں قتل کررہی ہے جبکہ اس کے جنگجو خود ذاتی طور پر ڈھیروں دولت اینٹھ رہے ہیں۔ اگر ہم حزب اللہ کے اثرات سے آزاد ہوجاتے ہیں تو اس طرح ہم ایک آزاد اور جمہوری وینزویلا کی تعمیر میں کامیاب ہوجائیں گے اور اسی کی لیے ہم جدوجہد کررہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا۔

وینزویلا ایک وقت میں جنوبی امریکا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا تھا لیکن اس وقت وہ بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے۔حکومت کی استبدادی کارروائیوں اور اقتصادی بحران کے نتیجے میں لوگوں کی بڑی تعداد دوسرے ممالک کی جانب نقل مکانی کرگئی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق 2021ء کے آخر تک وینزویلا سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی تعداد 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔اس وقت اس ملک کی مقامی آبادی کو خوراک اور ادویہ کی شدید قِلّت کا سامنا ہے۔

نیومن کا کہنا تھا کہ ''حزب اللہ ایک ایسے نظام کا حصہ ہے جو خود تو امیر کبیر بن رہا ہے لیکن وینزویلیوں کو غربت کا شکار کررہا ہے۔ہمارے یہاں ہزاروں بچّے غُربت کا شکار ہیں اور ہر صبح ایک ماں یہ تلخ فیصلہ کرتی ہے کہ آج وہ اپنے کس بچے کو کھلائے اور دودھ پلائے گی اور کس کو نہیں۔حزب اللہ اس صورت حال کی برابر کی ذمے دار ہے۔''

حزب اللہ کی تاسیس،مالی معاونت اور سیاسی پشتیبانی میں ایران کا مرکزی کردار رہا ہے۔اس ملیشیا کو امریکا سمیت بہت سے ممالک نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ حزب اللہ پر لبنان اور شام میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عاید کیے جاتے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے فروری میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے جنوبی امریکا بھرمیں فعال سیل موجود ہیں۔انھوں نے بالخصوص وینزویلا کا حوالہ دیا تھا۔

واضح رہے کہ نیومن کو وینزویلا کے عبوری حکمراں ژوآں گائیڈو نے برطانیہ میں اپنی خود ساختہ حکومت کی طرف سے سفیر مقرر کیا تھا۔گائیڈو جنوری میں اپنے حریف مادورو کے بہ طور صدر دوبارہ انتخاب کے بعد حزب اختلاف کی جانب سے از خود حکمراں قرار پائے تھے اور انھیں امریکا اور برطانیہ سمیت دنیا کے ساٹھ ممالک نے وینزویلا کا لیڈر تسلیم کررکھا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند