تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نماز باجماعت اور جمعہ پر پابندی کے جواز سے متعلق جامعہ الازہر کا فتویٰ
’’مسلمان ملکوں کے حکام نماز باجماعت اور نماز جمعہ پر پابندی لگانے کے مجاز ہیں’’
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: بدھ 30 رجب 1441هـ - 25 مارچ 2020م KSA 18:09 - GMT 15:09
نماز باجماعت اور جمعہ پر پابندی کے جواز سے متعلق جامعہ الازہر کا فتویٰ
’’مسلمان ملکوں کے حکام نماز باجماعت اور نماز جمعہ پر پابندی لگانے کے مجاز ہیں’’
مساجد میں نابالغ بچے، 50 سال سے زیادہ عمر اور بیمار افراد نہ آئیں
اسلام آباد - ایجنسیاں

جامعہ الازہر مصر کے علماء کی سپریم کونسل نے کرونا وائرس کے حوالے سے فتوٰی جاری کیا ہے جس میں فرزندان توحید پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انسانی زندگیوں کے تحفظ کے لیے باجماعت اور نماز جمعہ کی پابندی کی حکومتی ہدایت پرعمل کریں۔

ادھر پاکستان کے جید علمائے کرام نے بھی بچوں، 50 سال سے زائد عمر کے بزرگوں اور بیمار افراد کو مساجد میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔

پاکستان کے صدر مملکت عارف علوی نے اسلام آباد میں متعین مصر کے سفیر کے توسط سے شیخ الازہر سے اس معاملے پر دینی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی کی درخواست کی تھی۔

جامعہ الازہر کے فتوے کے مطابق کرونا وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ اسلامی شریعت کے عظیم مقاصد میں ایک زندگی کو بچانا اور تمام خطرات ونقصانات سے محفوظ رکھنا ہے۔ علمائے کرام جامعہ الازہر کے مطابق ہر مسلمان ملک میں ریاستی عہدیداروں کو نماز باجماعت اور نماز جمعہ پر پابندی لگانے کی اجازت ہے، جبکہ معمر افراد گھروں پر رہیں، نماز باجماعت اور نماز جمعہ میں شرکت نہ کریں۔ جامعہ الازہر کے مطابق عوامی اجتماعات اس وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔

درایں اثنا علامہ شہنشاہ نقوی، مولانا محمد سلفی اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ ملک میں کرونا وائرس کا مسئلا شدت اختیارکرگیا ہے، اس وائرس نے پوری دنیا میں تباہی مچا دی ہے، اگر حفاظتی طور پر محتاط نہ رہا جائے تو ذیادہ لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

مفتی اعظم تقی عثمانی نے کہا کہ مساجد میں نماز سے متعلق عوام میں ایک غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے۔ ہم نے تمام مکاتب فکرکے علماء کی مشاورت سے لائحہ عمل تیار کیا ہے اور ملک کے جید علماء نے اس سے اتفاق کیا جس کے بعد کرونا سے متعلق علمائے کرام نے متفقہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مساجد میں نابالغ بچے، 50 سال سے زائد االعمر اور بیمار افراد نہ آئیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مساجد میں باجماعت نماز جاری رہے گی، جن لوگوں کو ڈاکٹرز نے منع کیا ہے وہ گھروں میں نماز ادا کریں، جماعت گھر کی خواتین کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے اور جو حضرات مسجد میں نماز ادا کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے گھر میں وضو کریں اور سنتیں بھی گھر میں ادا کرکے آئیں، مساجد کے دروازوں پر سینیٹائزر لگائے جائیں اور مساجد کے اندر صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے۔

مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ پورا عالم انسانیت اس وبا میں مبتلا ہے۔ اہل ایمان ظاہری اسباب کے ساتھ اللہ سے انفرادی اجتماعی رجوع کریں، صدق دل اور اخلاص کے ساتھ اللہ سے توبہ کریں، دینی اخلاقی قومی ملی ذمہ داری ہے کہ ریاست کے ساتھ تعاون کیا جائے، مساجد میں نماز جمعہ مختصر کی جائے، اور باقی نمازیں گھر میں محرم خاتون کےساتھ بھی ہوسکتی ہے۔

صدر مملکت جمعرات کے روز وزیر مذہبی امور، جید علمائے کرام اور چاروں صوبوں کے گورنروں کے ساتھ ویڈیو لنک کانفرنس سے خطاب اور تبادلہ خیال کریں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند