تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
’الجزیرہ لیبیا مخالفین کومدعو نہیں کرےگا‘:سابق امیرِقطراوروزیراعظم کی قذافی کو یقین دہانی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 11 ذیعقدہ 1441هـ - 2 جولائی 2020م
آخری اشاعت: بدھ 11 شوال 1441هـ - 3 جون 2020م KSA 03:47 - GMT 00:47
’الجزیرہ لیبیا مخالفین کومدعو نہیں کرےگا‘:سابق امیرِقطراوروزیراعظم کی قذافی کو یقین دہانی
قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم ، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی اور لیبیا کے سابق مطلق العنان صدر (مقتول) معمر قذافی ۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آلِ ثانی اور سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم نے لیبیا کے مقتول مطلق العنان لیڈر معمر قذافی کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ دوحہ سے نشریات پیش کرنے والا الجزیرہ نیٹ ورک لیبیا مخالف مہمانوں کو اپنے پروگراموں میں مدعو نہیں کرے گا۔

اس بات کا انکشاف افشا ہونے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ سے ہوا ہے۔اس میں سابق قطری وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم کو معمر قذافی سے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے:''ہمیں نا م دے دیجیے ۔ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ یہ لوگ الجزیرہ ٹی وی پر نہ آئیں تو ہمیں ان کے نام دیجیے۔جو شخص ہمارے اور آپ کے درمیان رابطے کا کام کرے گا، وہ ۔۔۔۔۔(ناقابل سماعت لفظ)۔۔۔۔ عبداللہ ہے۔''

اس کے جواب میں لیبیا کے مقتول لیڈر نے یہ کہا:" سمجھوتا یہ ہے کہ جو کوئی بھی لیبیا پر حملہ کرتا ہے،اسے اجازت نہیں دی جانا چاہیے۔''

قطر کے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ایک کارکان خالد الحائل نے یہ آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے لیکن العربیہ اس کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتا۔

خالد الحائل نے گذشتہ ماہ سابق امیرِ قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی ایک اور ریکارڈنگ جاری کی تھی۔ اس میں انھوں نے امریکا کے سابق صدر براک اوباما کو’’غلام‘‘ اور ’’احمق‘‘ قرار دیا تھا۔

سابق امیر قطر اور معمر قذافی کی اسی طرح کی ایک ریکارڈنگ 2017ء میں بھی جاری کی گئی تھی۔اس میں انھوں نے سعودی عرب اور اس کے شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

معمر قذافی کی عالمی لیڈروں کے ساتھ ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کی جاتی رہی ہے اور انھیں 2011ء میں معمر قذافی کی اپنے ہی عوام کے ہاتھوں اندوہ ناک موت کے بعد سے وقفے وقفے سے جاری کیا جارہا ہے۔

قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم نے مذکورہ ریکارڈنگ کی صحت سے انکار نہیں کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ معمر قذافی کو ممنون احسان کرنے کے لیے اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اس ریکارڈنگ میں بعد میں سابق امیر قطر اور موجودہ امیر کے والد شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کوایک اور شخص کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ "اس کے پاس حمد کا ذاتی نمبر ہے۔ حمد بن ثمر کا۔''

شیخ حمد بن ثمر آلِ ثانی الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کے چئیرمین ہیں۔دوحہ سے تعلق رکھنے والے اس میڈیا نیٹ ورک نے گذشتہ برسوں کے دوران میں کئی مرتبہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کام میں حکومت کی جانب سے کوئی مداخلت نہیں کی جاتی ہے۔تاہم اس نئی افشا ہونے والی ریکارڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق امیر اور وزیراعظم کا اس ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی ادارتی پالیسی پر براہ راست اثرورسوخ تھا۔

شیخ حمد نے 2013ء میں اقتدار اپنے بیٹے اور موجودہ امیر شیخ تمیم کے حوالے کردیا تھا۔شیخ حمد بن جاسم تب اپنے حکومتی عہدوں سے دستبردار ہوگئے تھے اور اِس وقت مبیّنہ طور پر ان کے موجودہ امیر سے کشیدہ تعلقات بتائے جاتے ہیں۔

لیبیا کے سابق مطلق العنان لیڈر معمر قذافی کو 20 اکتوبر 2011ء کو باغی جنگجوؤں نے ان کے آبائی شہر سِرت میں بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا تھا۔ان کے مخالف گروپوں نے اسی سال کے اوائل میں عرب بہاریہ تحریک کے زیرِاثر مسلح بغاوت برپا کردی تھی۔

جب معمر قذافی کی وفادار فوج نے بہ زور طاقت اس مسلح بغاوت پر قابو پانے کی کوشش کی تھی تو امریکا کی قیادت میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو نے مداخلت کی تھی اور اس کے لڑاکا طیاروں نے قذافی کی فوج پر فضائی حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں اس کی کمر ٹوٹ گئی تھی، قذافی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد متحارب گروپوں کے درمیان ایک لامتناہی خانہ جنگی چھڑ گئی تھی جو ہنوز جاری ہے اور مستقبل قریب میں اس کے خاتمے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند