تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2021

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خطاط جس نے سعودی پاسپورٹ پر سعودی خطاطی کا 'لوگو' ڈیزائن کیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 24 رجب 1442هـ - 8 مارچ 2021م
آخری اشاعت: اتوار 3 جمادی الثانی 1442هـ - 17 جنوری 2021م KSA 15:36 - GMT 12:36
خطاط جس نے سعودی پاسپورٹ پر سعودی خطاطی کا 'لوگو' ڈیزائن کیا
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ نادیہ الفواز

سعودی خطاط "فہد المجحدی" نے سعودی عرب کے پاسپورٹ پر عربی خطاطی کا لوگو ڈیزائن کرکے عربی رسم الخط کو فروغ دینے کا ایک نیا کارنامہ انجام دیا ہے۔ فہد المجحدی کے اس اقدام میں سعودی عرب کی وزارت ثقافت کا اہم کردار ہے جس کی کاوشوں سے سعودی پاسپورٹ اور ڈاک ٹکٹ پر عربی خطاطی کا لوگو ڈیزائن کیا گیا۔

المجحد وہ پہلا سعودی ہے جس نے عربی خطاطی کے استاز الاساتذہ الشیخ حسن جلبی سے یہ فن سیکھالائسنس حاصل کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ سینٹر فار ریسرچ اینڈ آرٹس (IRCICA) کا پہلا سعودی خطاط ہے جس نے اس فن میں باقاعدہ سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ اس نے کئی عالمی ماہر خطاطوں سے استفادہ کیا۔

مدینہ منورہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان کی جانب سے المجحد کو مدینہ کے میوزیم کے لیے 82 مختلف فن پارے تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ عزت مآب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرنگرانی قائم مسلک الخیریہ کی جانب سے اسے الریاض شہر میں بین الاقوامی آرٹ نمائش کے انعقاد کے لیے مختلف ذمہ داریاں سونپیں جب کہ وزیر ثقافت کی طرف سے اسے سال 2020 اور 2021ء کے لیے عرب خطاطی کا لوگو تیار کرنے کا کام دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے انٹرویو میں المجحد نے کہا کہ میں نے چھوٹی عمر سے ہی عربی خطاطی کی پریکٹس شروع کر دی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں اس میدان میں پیشہ ورانہ مہارت کے حصول کے میدان میں اتر گیا۔ میں نے سعودی عرب کے اندر اور باہر کئی ممالک سے بہت سے اساتذہ کے ہاتھوں تعلیم حاصل کی۔ میں نے ان میں سے بہت سے ماہرین کے تجربات سے فائدہ اٹھایا۔ خواہش اور شوق ایک آرٹسٹ کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ اس میدان میں مہارت حاصل کرنا میری بھی خواہش تھی۔ کلاسیکل آرٹ میرے فنگر پرنٹ بن گئے اور میں‌ نے عرب خطاطی کے فن اور عرب قومی ورثے کے فروغ کے لیے دیگر تمام مشاغل ترک کر دے۔

سعودی خطاط نے کہا کہ مشکل ہونے کی وجہ سے عربی خطاطی کی طرف لوگوں کا رحجان زیادہ نہیں مگر میں نے سیکھا ہے کہ مسئلہ اس میدان میں مشکلات کا نہیں بلکہ نتائج کے جلد آنے اور بے صبری کا ہے۔

نقطہ نظر

مزید