تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مناسک حج کے بعد منی کی خیمہ بستی میں خاموشی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 13 ذوالحجہ 1440هـ - 15 اگست 2019م KSA 10:51 - GMT 07:51
مناسک حج کے بعد منی کی خیمہ بستی میں خاموشی
منى - حامد القرشی، تصاویر ۔ لوئی حزام

مناسک حج کے پانچ روز مکمل ہونے کے بعد سفید خیموں کی بستیوں کا شہر مِنی اب مکمل طور پر خاموش اور پر سکون نظر آ رہا ہے۔ حجاج کرام نے آخری روز رمی جمرات کا عمل انجام دے کر اپنا سامان لپیٹا اور طواف وداع کے لیے مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔

اس وقت منی کا مقام مکمل طور پر خالی نظر آ رہا ہے البتہ صفائی کرنے والے ورکروں کے جتھے پوری مستعدی سے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ ان کے علاوہ حجاج کے رہنے کے انتظامات کرنے والی منظور شدہ کمپنیوں کے کارکنان اپنے خیموں کے سامان اور لوازمات سمیٹ رہے ہیں۔ تقریبا 24 لاکھ سے زیادہ حجاج کرام نے مناسک حج کے دوران منی میں پورے سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنا وقت گزارا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے منی سے رخصت ہونے پر حجاج کرام کے رنجیدگی کے جذبات کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔

ادھر خدمات کے شعبے کے انڈر سیکریٹری انجینئر محمد بن عبدالرحمن المورقی کا کہنا ہے کہ مکہ مکرمہ سیکریٹریٹ نے مکہ اور مقامات مقدسہ میں چوبیس گھنٹے صفائی کا کام کرنے کے لیے تقریبا 13 ہزار ورکروں کو بھرتی کیا۔ ان لوگوں کو تمام تر مطلوبہ لوازمات دستیاب ہیں۔ صفائی کے عمل میں جگہ کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف آلات اور سامان استعمال کیا جاتا ہے۔