تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغان حکومت اور طالبان لیڈر مذاکرات کریں:براک اوباما
جنگ زدہ ملک میں تشدد کے خاتمے کے لیے افغانوں کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 10 شعبان 1434هـ - 19 جون 2013م KSA 18:25 - GMT 15:25
افغان حکومت اور طالبان لیڈر مذاکرات کریں:براک اوباما
جنگ زدہ ملک میں تشدد کے خاتمے کے لیے افغانوں کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے
امریکی صدر براک اوباما اور جرمن چانسلر اینجیلا مرکل برلن میں مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔
برلن۔العربیہ ڈاٹ نیٹ،ایجنسیاں

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ افغانوں کو حکومت اور طالبان کے درمیان عدم اعتماد کے باوجود ملک میں جاری تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کرنے چاہئیں۔

براک اوباما نے یہ بات برلن میں بدھ کو جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہی ہے۔اس سے ایک روز پہلے ہی طالبان مزاحمت کاروں نے دوحہ میں اپنا رابطہ دفتر کھولا ہے اور امریکا نے ان سے بارہ سال سے جاری جنگ کے خاتمے اور افغانستان سے آبرومندانہ انخلاء کے لیے براہ راست مذاکرات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر نے افغان صدر حامد کرزئی کے اس اعلان کا بھی خیرمقدم کیا ہے کہ افغان فورسز بہت جلد نیٹو فوج سے سکیورٹی کی ذمے داریاں سنبھال لیں گی۔انھوں نے کہا کہ ''بالآخر افغانوں کو ہی آپس میں تشدد کے منحوس چکر کے خاتمے اور ملک کو ترقی کی ڈگر پر ڈالنے کے لیے بات چیت کرنا ہوگی''۔

لیکن طالبان کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں رابطہ دفتر کھولنے کی ابھی صدائے بازگشت سنی ہی جارہی تھی کہ افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت نے ان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے عمل کی افغانوں کو قیادت کرنی چاہیے۔انھوں نے امریکا کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت بھی معطل کردی ہے۔

افغان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''تازہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کے دوحہ میں دفتر کے قیام میں غیر ملکی ہاتھ کارفرما ہے۔جب تک مذاکراتی عمل افغانوں کی قیادت میں آگے نہیں بڑھایا جاتا ہے،اس وقت تک اعلیٰ امن کونسل بات چیت میں شریک نہیں ہوگی''۔

حامد کرزئی ماضی میں ملک میں قیام امن کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے امریکی منصوبے کی حمایت کرتے رہے ہیں لیکن وہ اپنی اس تشویش کا بھی اظہار کرچکے ہیں کہ طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے عمل میں انھیں سائیڈلائن کیا جاسکتا ہے۔تاہم امریکا نے حامدکرزئی کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر طالبان سے بات چیت آگے بڑھتی ہے تو انھیں ہی اس عمل میں قائدانہ کردار سونپا جائے گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند