امریکا،اردن کی برّی ،بحری اور فضائی مشترکہ جنگی مشقیں

دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے عقبہ کی بندر گاہ کے نزدیک فرضی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا اور اردن کی مسلح افواج کی مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔دونوں ملکوں کے ایف سولہ جنگی طیاروں نے بدھ کو اردن کے جنوبی صحرائی علاقے میں اپنے فرضی اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور خصوصی دستوں نے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے کارروائیوں میں حصہ لیا ہے اور دہشت گردوں کو پکڑا ہے۔

''ایگر لائن 2013ء'' (چاق چوبند شیر) نامی ان مشقوں میں چھے ایف سولہ طیارے ،دو اے وی-8بی ہیرئیر جیٹ ،اٹھائیس ٹینک ،بیس بکتر بند گاڑیاں اور امریکا اور اردن کے آٹھ سو فوجیوں نے حصہ لیا۔انھوں نے بحیرہ احمر پر واقع بندرگاہ عقبہ کے نزدیک قویرا میں پینتالیس منٹ تک مشق میں حصہ لیا۔اس دوران جنگی طیاروں نے ہیلی کاپٹروں پر حملے کیے اور ٹینکوں نے زمینی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اردن کے آرمی چیف جنرل مشعل محمد زیبن اور شاہ عبداللہ دوم کے بھائی شہزادہ فیصل نے بھی ان مشقوں کو دیکھا۔اس موقع پر ''چاق چوبند شیر'' کے ترجمان کرنل مخلد سہیم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اس مشق کا مقصد اردن کی مسلح افواج کی حربی صلاحیتوں اور کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے۔خاص طور پر انھیں مہاجرین کی آمد کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے''۔

قویرا میں فضائی اور زمینی مشقوں کے علاوہ عقبہ میں انسداد دہشت گردی یونٹ کی مشق جاری ہے۔وہاں امریکا کے قریباً پچاس نیوی سیلز کے علاوہ اردن اور عراق کے خصوصی دستوں نے تیس منٹ ایک فرضی مشق میں حصہ لیا۔عقبہ کے ساحل میں قزاقوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے والے ایک بحری جہاز پر سوار یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے فرضی مشق کی گئی۔

اردن کی آٹھ آبدوزوں اور تین ہیلی کاپٹروں نے جہاز کو روکا،اس دوران نقاب پوش جوان جہاز پر سوار ہوگئے اور انھوں نے اس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد یرغمالیوں کو بازیاب کرالیا۔

ایک اور فرضی مشق میں ساحل سمندر کے کنارے واقع ایک عمارت پر چھاپہ مار کارروائی کی اور وہاں سے نقلی دہشت گردوں کو رنگ دار دھویں والے بم اور اشک آور گیس استعمال کر کے پکڑ لیا۔

یہ بارہ روزہ فوجی مشقیں جمعرات کو اختتام پذیر ہورہی ہیں۔ان مشقوں میں امریکا کے قریباً ساڑھے چار ہزار فوجیوں اور اردن کے تین ہزار فوجیوں نے حصہ لیا ہے۔ان کے علاوہ انیس ممالک کے پانچ سو فوجی مبصر کے طور پر شریک تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں