طالبان کے بگرام ائر بیس حملے میں چار امریکی فوجی ہلاک

حملہ افغان طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے افتتاح والے دن کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کو ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ دریں اثناء بگرام ایئر بیس پر طالبان کے ایک تازہ حملے میں چار امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے بتایا ہے کہ امریکی حکام جلد ہی طالبان کے نمائندوں کے ساتھ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات شروع کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کی طرف سے رابطہ دفتر کھولنے کا مقصد یہی ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کر سکیں۔

اسلام آباد حکومت نے طالبان اور امریکی حکام کے مابین ہونے والے ان مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کے بقول آئندہ ہفتے کسی وقت ہونے والے ان مذاکرات کے پہلے دور میں قیدیوں کا تبادلہ اہم معاملہ ہو گا جبکہ ساتھ ساتھ اعتماد سازی کی فضا قائم کرنا اور ایک دوسرے کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔

بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام افغان طالبان کے ساتھ یہ مذاکرات جن شرائط پر کر رہے ہیں، ان میں طالبان کی طرف سے تشدد میں کمی، القاعدہ سے روابط ختم کرنا اور افغان آئین کے ساتھ ساتھ خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام بھی شامل ہے۔

منگل کو شمالی آئر لینڈ میں جی ایٹ سربراہی کانفرنس کے موقع پر فرانسیسی ہم منصب فرانسوا اولاند سے ملاقات کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ افغانستان میں تشدد کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت کی سرپرستی میں امن عمل کا راستہ اختیار کیا جائے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ قیام امن کا یہ راستہ نہ صرف طویل ہو گا بلکہ اس میں مشکلات بھی درپیش ہوں گی۔

اوباما کا کہنا تھا، ’’ مصالحت کی طرف یہ ایک اہم قدم ہے۔ چونکہ یہ ایک ابتدائی مرحلہ ہے، اس لیے ہم توقع کرتے ہیں کہ اس راہ میں مشکلات درپیش ہوں گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یوں اطراف کو موقع ملا ہے کہ وہ افغانستان کے مستقبل پر مذاکرات کر سکیں، جو میرے خیال میں انتہائی اہم ہے۔‘‘

طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر بھی غور کا عندیہ دیا ہے۔ افغان حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا ہے کہ خفیہ مذاکرات کے بعد افغان طالبان کابل حکومت کے ساتھ امن مذاکرات پر آمادہ ہیں۔

اس اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ امن مذاکرات یقینی طور پر طالبان اور اعلیٰ امن کونسل کے مابین ہوں گے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے 2010ء میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے یہ خصوصی کونسل قائم کی تھی۔

یہ امر اہم ہے کہ طالبان کہتے آئے ہیں کہ وہ افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے کیونکہ وہ امریکا اور مغربی ممالک کے ہاتھوں میں صرف ’کٹھ پتلی‘ ہیں۔

اعلیٰ افغان عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے کے بعد ملک میں حملوں میں بھی کمی کی توقع کی جا رہی ہے، ’’ ہم امید کرتے ہیں کہ امن مذاکرات کے دوران افغانستان میں طالبان اپنے حملوں کو کم کر دیں گے، کیونکہ اگر شہریوں کو ہلاک کرنے کا عمل جاری رہا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘‘

طالبان اور امریکی حکام کے مابین امن مذاکرات کی اطلاع عام ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی افغانستان میں بگرام کے امریکی ایئر بیس میں طالبان کے حملے میں چار امریکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا ہے کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت باغیوں کے حملے میں ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ مارٹر گولوں یا راکٹوں سے کیا گیا ہے۔ افغان طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اے ایف پی نے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے بگرام ایئر بیس پر دو راکٹ داغے جو نشانے پر لگے۔

یاد رہے کہ بگرام کا وسیع و عریض ہوائی اڈہ کابل کے شمال میں 47 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور امریکی طیاروں کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 66 ہزار ہے، جو انتہائی حد تک پہنچنے کے بعد ایک لاکھ تک ہوجاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں