تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
روسی صدر دنیا اور سعودی فرمانروا عرب دنیا کے طاقتور ترین رہنما قرار
فوربس کی حالیہ فہرست میں کسی پاکستانی کا نام شامل نہیں ہے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 26 ذوالحجہ 1434هـ - 31 اکتوبر 2013م KSA 09:41 - GMT 06:41
روسی صدر دنیا اور سعودی فرمانروا عرب دنیا کے طاقتور ترین رہنما قرار
فوربس کی حالیہ فہرست میں کسی پاکستانی کا نام شامل نہیں ہے
روسی صدر ولادی میر پوتین سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز
نیویارک ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

کہتے ہیں بُرے دن آنے میں دیر نہیں لگتی اور یہ پوچھ کر بھی نہیں آتے۔امریکی صدر براک اوباما پر بھی آج کل بُرے دن آئے ہیں۔ پہلے تو انھیں امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن اور دوسروں کے علاوہ اپنے ہی اتحادی ممالک کے لیڈروں کی جاسوسی پر کڑی تنقید کا سامنا ہے اور ہر طرف سے ان پر طنز کے نشتر چلائے جارہے ہیں۔

اب فوربس میگزین نے بدھ کو دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کی اپنی تازہ فہرست جاری کی ہے جس میں بتایا ہے کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن دنیا اور سعودی فرمانروا عرب دنیا کے طاقتور ترین شخص قرار پائے ہیں۔ فہرست کے مطابق دنیا کی واحد سپر پاور امریکا کے صدر صاحب طاقتور ترین لیڈر نہیں رہے ہیں بلکہ روسی صدر ولادی میر پوتین طاقتور ترین عالمی لیڈر بن گئے ہیں۔ان کا نام سرفہرست ہے اور براک اوباما دوسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔

براک اوباما اور ولادی میر پوتین میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔دونوں کی عالمی امور کے حوالے سے پالیسیاں بھی ایک جیسی نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں۔روسی صدر شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں تو امریکی صدر ان کے مخالف ہیں اور امریکا نے شام میں جاری بحران کے حوالے سے پھسپھسا سا موقف اختیار کر رکھا ہے جس کی وجہ سے اسے خطے میں اپنے اہم اتحادی ملک سعودی عرب کی جانب سے بھی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

گذشتہ تین سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی صدر فوربس میگزین کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آئے ہیں جبکہ امریکا اور روس کے دوطرفہ تعلقات میں بھی سرد مہری پائی جارہی ہے۔پوتین گذشتہ تیرہ سال سے روس میں برسراقتدار ہیں اور اپنی بالادستی برقرار رکھے ہیں۔وہ پہلے صدر بنے، پھر وزیراعظم رہے اور مارچ 2012ء میں ایک مرتبہ پھر ملک کے صدر منتخب ہو گئے تھے۔

فوربس نے لکھا ہے کہ ''براک اوباما کو امریکی حکومت کے سولہ روز شٹ ڈاؤن کی وجہ سے سُبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یہ شٹ ڈاؤن بجٹ اور قرضے کے بحران کا نتیجہ تھا۔ان کے مقابلے میں پوتین نے روس پر اپنی مضبوط گرفت قائم کررکھی ہے''۔

روسی صدر عالمی سیاست اور تعلقات میں بھی براک اوباما سے تیز ثابت ہوئے ہیں۔ان کے ملک نے اگست میں امریکا کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ اسنوڈن کو پناہ دے دی تھی حالانکہ وہ خفیہ دستاویزات کا انبار افشاء کرنے پر امریکا کو مطلوب تھے اور امریکا نے روس سے ان کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اس کے ایک ماہ کے بعد روسی صدر نے ایک اور ترپ چال چلی اور اس میں بھی امریکی صدر کو شہ مات دے دی۔براک اوباما صاحب نے شام کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں حملے کی دھمکی دے رکھی تھی۔ وہ شام پر میزائل حملوں کی تیاری کر رہے تھے کہ اس دوران روس نے شام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں سے دستبرداری پر آمادہ کرلیا۔ پھر اس حوالے سے امریکا اور روس کے درمیان جنیوا میں ایک معاہدہ بھی طے پا گیا اور یوں شام پر امریکی حملے کا خطرہ ٹل گیا۔

فوربس نے اس تمام صورت حال کے تناظر میں لکھا ہے کہ جو کوئی بھی اس سال شام اور این ایس اے کی خفیہ دستاویزات پر شطرنج کا کھیل ملاحظہ کررہا ہے،اس کو شخصی طاقت کی تبدیلی کا واضح آئیڈیا ہوگیا ہوگا۔

فوربس نے اپنی سال 2013 ء کی فہرست میں دنیا کی 72 طاقتور ترین شخصیات کا انتخاب کیا ہے جو مختلف شعبوں میں فیصلہ سازی کے عمل میں اثراندازی ہورہی ہیں۔ان کا انتخاب اس طرح کیا گیا ہے کہ ہرشخصیت روئے زمین پر آباد دس ،دس کروڑ نفوس کی نمائندگی کرتی ہے۔

چینی صدر ژی جین پنگ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کوئی ایک عشرے تک چین کے صدر رہیں گے۔اس عرصے میں چین معیشت کے میدان میں امریکا کو پچھاڑ دے گا اور وہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس کا فوربس کی فہرست میں چوتھا نمبر ہے اور جرمن چانسلر اینجیلا مرکل پانچویں نمبر پر ہیں۔ سعودی شاہ عبداللہ کا نمبر آٹھواں ہے۔ کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کو 21 واں نمبر ملا ہے جب کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای 23 ویں نمبر پر ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون 32 ویں نمبر پر ہیں۔اس فہرست میں تیرہ نئی شخصیات کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ان میں سام سنگ کے چئیرمین لی کون ہی اکتالیسویں نمبر پر ہیں اور نائیجیریا کے ارب پتی ایلکو ڈانگوٹ چونسٹھویں نمبر پر ہیں۔وہ براعظم افریقہ کے امیر ترین شخص قرار دیے جاتے ہیں۔

فہرست میں سترہ سربراہان ریاست کے نام شامل ہیں جو مجموعی طور پر 48 ٹریلین ڈالرز جی ڈی پی کے حامل ممالک کا نظم ونسق چلا رہے ہیں۔مختلف کاروباری اداروں کے ستائیس چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور چئیرمین حضرات کے نام فہرست کا حصہ ہیں۔ان کمپنیوں اور اداروں کی سالانہ آمدن 3 ٹریلین ڈالرز بتائی گئی ہے۔ فوربس کی فہرست میں صرف نو خواتین جگہ پاسکی ہیں حالانکہ وہ دنیا کی کل آبادی کا نصف ہیں۔

پچھلے سال جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دنیا کی 28 ویں طاقت ور ترین شخصیت قرار دیا گیا تھا لیکن اس سال ان سمیت کسی پاکستانی کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند