تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغانستان میں 15 ہزار تک غیر ملکی فوجی تعینات رہ سکتے ہیں: کرزئی
"مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط آیندہ انتخابات تک موخر کر دیے جائیں"
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 17 محرم 1435هـ - 21 نومبر 2013م KSA 22:49 - GMT 19:49
افغانستان میں 15 ہزار تک غیر ملکی فوجی تعینات رہ سکتے ہیں: کرزئی
"مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط آیندہ انتخابات تک موخر کر دیے جائیں"
افغان صدر حامد کرزئی
کابل ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ طے پاجاتا ہے تو پھر 2014ء کے بعد پندرہ ہزار تک غیر ملکی فوجی ان کے ملک میں تعینات رہ سکتے ہیں۔

وہ دارالحکومت کابل میں جمعرات کو منعقد لویہ جرگے سے خطاب کررہے تھے جس میں ڈھائی ہزار قبائلی زعماء ،سردار اور دیگر سرکردہ شخصیات شریک ہیں۔ لویہ جرگہ چار روز تک جاری رہے گا اور اس میں امریکا کے ساتھ افغانستان کے دوطرفہ سکیورٹی معاہدے پر غور کیا جارہا ہے۔

حامد کرزئی نے کہا کہ اگر اس مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کردیے جاتے ہیں تو پھر دس سے پندرہ ہزار''اُن کے'' فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے۔ انھوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب میں ''ان کے فوجیوں'' کی بات کرتا ہوں تو اس سے میری مراد صرف امریکی نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان فوجیوں میں نیٹو کے دوسرے رکن ممالک کے فوجی ہوسکتے ہیں،ان میں ترکی کے علاوہ بعض مسلم ممالک کے فوجی بھی ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے جنگ کا شکار ان کے ملک میں امن کی راہ ہموار ہوگی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''اگر لویہ جرگہ اور پارلیمان اس مجوزہ معاہدے کی منظوری دے دیتے ہیں توبھی اس پر آیندہ سال موسم بہار میں ہونے والے انتخابات کے بعد باوقار انداز میں دستخط کیے جانے چاہئیں''۔

وہ پندرہ اپریل کو انتخابات کے انعقاد تک سکیورٹی معاہدے کو موخر کرنے کا کہہ رہے تھے جبکہ امریکا اس پر جلد سے جلد دستخط پر اصرار کررہا ہے تاکہ وہ اور اس کے نیٹو اتحادی 2014ء کے بعد افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے سکیں۔

واضح رہے کہ لویہ جرگہ افغانستان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے اس مجوزہ معاہدے کے مسودے کی کسی بھی شق کو تبدیل یا اس کو یکسر مسترد کرسکتا ہے،اگر جرگے نے اس کی منظوری دے دی تو پھر اس کو افغان پارلیمان میں پیش کیا جائے گا اور وہ بھی اس کو منظور کرنے سے قبل ترامیم و تبدیلیاں کرسکتی ہے۔

امریکا کی جانب سے صرف صدر براک اوباما کی انتظامیہ اس کی منظوری دے گی اور وہ مجوزہ مسودے میں افغانوں کی ترامیم کو مسترد بھی کرسکتی ہے۔امریکا اور افغانستان کے درمیان 2014ء کے بعد تعینات رہنے والے فوجیوں اور دیگر امریکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

مجوزہ معاہدے میں امریکا کو اپنے فوجیوں اور محکمہ دفاع کے سول ملازمین کے خلاف کسی قسم کی چارہ جوئی کا حق دیا گیا ہے جبکہ ٹھیکے داروں کے خلاف افغان قانون کے تحت کارروائی کی جاسکے گی۔

اس معاہدے پر عمل درآمد کی صورت میں امریکی فوجی افغانوں کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لیں گے لیکن ان کی قیادت افغان فورسز ہی کریں گی۔مزید برآں امریکی فوجی امریکا اور افغانوں کے درمیان باہمی اتفاق کے بغیر کوئی جنگی کارروائی نہیں کریں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند