تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغانستان کا ''غیرملکی انٹیلی جنس''پر کابل میں حملے کا الزام
لبنانی ریستوراں پر پیچیدہ حملہ عام طالبان مزاحمت کاروں کا کام نہیں ہے:بیان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: اتوار 17 ربیع الاول 1435هـ - 19 جنوری 2014م KSA 19:52 - GMT 16:52
افغانستان کا ''غیرملکی انٹیلی جنس''پر کابل میں حملے کا الزام
لبنانی ریستوراں پر پیچیدہ حملہ عام طالبان مزاحمت کاروں کا کام نہیں ہے:بیان
کابل۔العربیہ ڈاٹ نیٹ

افغان صدر حامدکرزئی کے زیر قیادت نیشنل سکیورٹی کونسل(این ایس سی) نے ''غیر ملکی انٹیلی جنس سروسز'' پر دارالحکومت کابل میں جمعہ کو ایک ریستوراں میں ہوئے تباہ کن حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

کابل میں صدارتی محل کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''این ایس سی کے مطابق اس طرح کا پیچیدہ حملہ عام طالبان کا کام نہیں ہے اور اس میں کوئی شُبہ نہیں رہ جاتا سرحد پار سے غیرملکی انٹیلی جنس سروسز کا اس طرح کے خونیں حملے میں ہاتھ کارفرما ہوسکتا ہے''۔

بیان میں اس غیرملکی خبررساں ادارے کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن اس کا واضح اشارہ پاکستان کے طاقتور خفیہ ادارے آئِی ایس آئی کی جانب تھا۔افغان حکام ماضی میں بھی پاکستانی اداروں پر بم حملوں اور گڑبڑ پھیلانے کے الزامات عاید کرتے رہے ہیں لیکن وہ اس ضمن میں کبھی کوئی ٹھوس شواہد منظر عام پر نہیں لائے۔

طالبان مزاحمت کاروں نے کابل میں ریستوراں میں خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ایک لبنانی شہری کے ملکیتی اس ریستوراں میں بم حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں تیرہ غیرملکیوں سمیت اکیس افراد ہلاک تھے۔2001ء کے بعد افغان دارالحکومت میں غیر ملکیوں پر یہ سب سے تباہ کن حملہ تھا۔

ایک حملہ آور نے لبنانی ریستوراں کی قلعہ نما عمارت کے داخلی دروازے میں خودکش بم دھماکا کیا تھا۔اس کے بعد دواور جنگجو اندر گھس کر فائرنگ کرتے رہے تھے۔مرنے والوں میں تین امریکی ،دوبرطانوی ،ایک کینیڈین،عالمی مالیاتی فنڈ کے مشن کا سربراہ اور ریستوراں کا مالک شامل تھا۔حملے میں افغانستان میں یورپی پولیس مشن کی ڈینش خاتون رکن اور اقوام متحدہ کا ایک روسی عہدے دار بھی مارا گیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند