تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغانستان میں حالیہ بمباری کے ثبوت میں پرانی تصاویر کا استعمال!
تازہ قرار دی گئی تصاویر2009ء کی ہیں: فرانسیسی خبر رساں ایجنسی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 25 ربیع الاول 1435هـ - 27 جنوری 2014م KSA 07:45 - GMT 04:45
افغانستان میں حالیہ بمباری کے ثبوت میں پرانی تصاویر کا استعمال!
تازہ قرار دی گئی تصاویر2009ء کی ہیں: فرانسیسی خبر رساں ایجنسی
کابل ۔ اے ایف پی

افغانستان کی حکومت نے حال ہی میں شمالی صوبے پروان میں وسط جنوری کو امریکی فوج کی بمباری میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی میتیں دکھائی ہیں، لیکن فرانسیسی خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی" نے کابل حکومت کی جانب سے دکھائی گئی تصاویر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام تصاویر چار سال قبل سنہ 2009ء میں اس کے ایک فوٹو گرافر نے بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی لی تھیں، جو پہلے بھی شائع ہوچکی ہیں۔

خیال رہے کہ افغان حکومت نے رواں ہفتے صحافیوں میں پندرہ جنوری کو صوبہ پروان میں نیٹو طیاروں کی بمباری میں مبینہ طور پر مرنے والے شہریوں کی تصاویر تقسیم کی تھیں اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ تمام تصاویر دو ہفتے قبل امریکی اور نیٹو طیاروں کی بمباری میں مارے جانے والے عام شہریوں کی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے پریس کو جاری کی گئی چودہ تصاویر میں بمباری میں مرنے والوں کی نماز جنازہ کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ یہ تصاویر منظرعام پرآنے کے بعد "اے ایف پی" کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ کابل حکام نے جو تصاویر تازہ قرار دے کرشائع کی ہیں۔ وہ ہمارے ایک فوٹو گرافر نے چار ستمبر2009ء کو ریاست قندوز میں لی تھیں جو ایک جنازے پر امریکی فوج کی بمباری میں مارے جانے والے شہریوں کی ہیں۔ اس بمباری میں 70 عام افغان شہری مارے گئے تھے۔

اتوار کو امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" میں شائع ایک مضمون میں بھی تصویروں کے تنازع کا انکشاف کیا گیا ہے۔ مضمون میں افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ایمال فائزی کا ایک بیان بھی نقل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے بمباری میں مرنے والوں کی تصاویر خوفناک قرار دیا ہے۔

تصویر کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اخبار لکھتا ہے کہ اگر افغانستان میں حامد کرزئی جیسے صدر کے ہوتے ہوئے بھی امریکا کے ساتھ جھوٹ بولا جائے گا تو اس کے نتیجے میں فریقین میں دوریاں پیدا ہوں گی اور ایک دوسرے پر اعتماد اٹھ جائے گا۔

خیال رہے کہ افغانستان میں نیٹو فورسز کے ماتحت عالمی امن فوج"ایساف" کے جنگی طیاروں نے پندرہ جنوری کو صوبہ پروان میں طالبان کے ایک مبینہ ٹھکانے پرفضائی حملہ کیا تھا، جس میں متعدد افراد مارے گئے تھے۔ افغان حکومت کے دعوے کے مطابق فضائی بمباری میں 12 افراد جاں بحق ہوئے تھے تاہم "ایساف" کی جانب سے ہلاکتوں کو مبالغہ آمیز قرار دیا گیا تھا۔

فضائی حملے کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے بھی امریکا پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے عام شہریوں کو نشانہ نہ بنائے جانے سے متعلق امن معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند