تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغانستان: 2013 ہلاکتوں کے حوالے بدترین سال
بچوں کی ہلاکتوں میں 34 فیصد اضافہ، سویلینز کی ہلاکتیں 14 فیصد زیادہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 7 ربیع الثانی 1435هـ - 8 فروری 2014م KSA 17:15 - GMT 14:15
افغانستان: 2013 ہلاکتوں کے حوالے بدترین سال
بچوں کی ہلاکتوں میں 34 فیصد اضافہ، سویلینز کی ہلاکتیں 14 فیصد زیادہ
کابل ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

افغانستان میں بارہ سال سے جاری جنگ کے دوران بے شمار بچے ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں جبکہ پچھلے سال اس نقصان میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ ان لڑائیوں میں اضافہ بتایا گیا ہے جو 2012 کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق خصوصا سڑکوں کے کنارے فوجی گاڑیوں کی تباہی کیلیے نصب کیے گئے بموں سے ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ گئی ہے۔ مجموعی طور پر2013 کے دوران سویلینز کی ہلاکتوں کی تعداد میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2012 میں یہ رجحان اس کے برعکس کم تھا اور ہلاکتوں کی تعداد کمی کی طرف مائل تھی ،جبکہ 2013 میں معاملہ مختلف رہا اور گزشتہ سال جنگ کے بارہ برسوں میں سے بدترین ثابت ہوا۔

ہلاکتوں میں یہ اضافہ افغانستان میں تشدد کے گراف کو اونچا ہوتا دکھا رہا ہے۔ افغان طالبان زمین پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے اور کرزئی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش میں ہیں۔۔ ان کے مقابلے امریکی اور نیٹو فورسز اپنے اخلاء سے پہلے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کی کوشش میں ہیں۔

واضح رہے افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو فورسز ان دنوں انخلاء کی تیاری کر رہی ہیں۔ اور سال رواں کے اختتام تک مکمل انخلاء کا امکان ہے۔

افغانستان کیلیے اقوام متحدہ کے مشن کی مرتب کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2013 کے دوران 2959 عام شہری لقمہ اجل بنے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 5656 رہی ہے۔ اس سے پہلے 2012 میں یہ تعداد کافی کم تھی۔ اس سال 2768 ہلاک اور4821 زخمی ہوئے تھے۔ اس سے مزید ایک سال پیچھے 2011 میں عام شہریوں کے ہلاک ہونے کی تعداد 3133 ، اور زخمی ہونے والوں کی تعداد 4706 تھی۔

اقوام متحدہ کی اس سالانہ رپورٹ کے مطابق 2013 کے دوران مجموعی طور 962 جھڑپیں ہوئِیں جو عام شہریوں کی زندگیوں کے نقصان کا ذریعہ بنیں۔ اس حساب سے فی ہفتہ ان جھڑپوں کی اوسط 20 بنتی ہے۔

اس رپورٹ میں دیے گئے تقابل کے مطابق 2012 کی لڑائیوں کے مقابلے میں پچھلے سال 43 فیصد لڑائیاں زیادہ ہوئی ہیں۔ 2013 کا سال افغان خواتین کے حوالے سے بھی سخت نقصان کا ذریعہ رہا۔

اس سال پچھلے برسوں کے مقابلے میں خواتین کی ہلاکتیں بھی زیادہ ہوئی ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر خواتین گھروں کے اندر ہلاک یا زخمی ہوئیں جبکہ بچوں کی ہلاکتیں گھروں میں یا سکول جاتے ہوئے ہوئی ہیں۔ 2013 کے دوران جاں بحق ہونے والے 561 بچوں کی تعداد 2012 کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ رہی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند